انٹرنیشنلاہم خبریں

کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے والے مسلمان میاں بیوی دراصل کینسر کا علاج تلاش کررہے تھے، ویکسین کیسے بنالی؟ اصل کہانی پہلی بار سامنے آگئی

نیویارک(ویب  ڈیسک)کورونا وائرس کے وباءشروع ہونے سے اب تک دنیا بھر کی نظریں سائنسدانوں پر تھیں کہ وہ کب ویکسین تیار ہونے کی خوشخبری سنائیں۔ بالآخر یہ خوشخبری ترک نژاد میاں بیوی نے دنیا کو سنائی جن کی بنائی ہوئی ویکسین 90فیصد سے زائد موثر ثابت ہوئی۔

اس میاں بیوی کی ٹیم نے امریکی کمپنی فائزر کے ساتھ مل کر یہ ویکسین تیار کی۔ جس کے لیے 7سے 8ماہ تک تحقیق کا کام کیا گیا اور بالآخر اس میاں بیوی کی کمپنی ’بائیو این ٹیک‘ اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔ اس میاں بیوی کے نام ڈاکٹر اوگر ساہین اور ڈاکٹر اوزلیم توریشی ہیں جنہوں نے تمام عمر کینسر کے خلاف مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے پر کام کیا۔ اوگر اور اوزلیم کا تعلق ایک کم آمدنی والے طبقے سے تھا۔ 55سالہ ڈاکٹر اوگر ساہین جرمنی کے شہر کولون میں فورڈ کمپنی میں ایک ترک تارک وطن کے طور پر کام کرتے تھے اور اپنی لیبارٹری کے قریب ایک معمولی اپارٹمنٹ میں اپنی اہلیہ اور نوجوان بیٹی کے ساتھ مقیم تھے۔

وہ آفس آنے جانے کے لیے سائیکل کا استعمال کرتے تھے تاہم اب ڈاکٹر ساہین اور ان کی 53سالہ بیوی اولیم کا شمار جرمنی کے 100ارب پتیوں میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اوگر شام کے شہر حلت کی سرحد کے قریب واقع ترک شہر اسکندرون میں پیدا ہوئے تھے اور بچپن میں ہی اپنے والد کے ساتھ جرمنی منتقل ہو گئے۔ وہیں انہوں نے تعلیم حاصل کی اور بالآخر بائیو این ٹیک نامی کمپنی کی بنیاد رکھی جس نے آج دنیا کو کورونا وائرس سے نجات دلانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا اور اس وباءکی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہوئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button