کالم/بلاگ

"کہانی اک دکھیاری کی”

سدرہ شیخ

عورت اور مرد دو الگ الگ لوگ جب نکاح کے خوبصورت رشتے میں بندھ جاتے ہیں تو وہ محض مرد عورت نہیں بلکہ میاں بیوی بن جاتے ہیں’
تو پھر کیسے یہ رشتہ لڑائی سے شروع ہوتا ہے اور مار پیٹ تک چلا جاتا ہے۔؟ کیسے تحفظ دینے والا شوہر زخم دینے والا ظالم مرد بن جاتا ہے۔
جس کے لیے بیوی بناؤ سنگار کرتی ہے اور شادی کے کچھ ہی ماہ بعد وہی بیوی مار کھانے کے بعد اپنے زخموں کو چھپانے کے لیے تگ و دو کرنا شروع کر دیتی ہے۔
میں چونکہ ایک رائیٹر اور ناول نگار ہوں۔ لہذا اتفاقات اور کہانیاں ہر قدم میری منتظر رہتی ہیں۔ میری تلاش و جستجو اکثر و بیشتر نٸی نٸی کہانیوں سے مجھے ملاتی رہتی ہے۔ ایسے ہی ایک اتفاق ہوا۔ میری ایک پہچان کی خاتون ہیں۔ انہوں نے ایک بار مجھ سے کہا ‘ کبھی میری زندگی پر کہانی لکھو بیٹا۔ ‘
میں نے لمبی گہری سانس لی تھی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر چند لمحے ان کی آنکھوں میں دیکھ کر سوچا تھا:
"آپ کی کہانی لکھ بھی دوں تو ایک قسط پڑھنے کے بعد میرے خلاف تنقید کا ایک طوفان کھڑا ہو جائے گا ۔۔پڑھنے والوں نے کہنا ہے جب مرد نے پہلی بار ہاتھ اٹھایا تھا بیوی علیحدہ کیوں نہیں ہوئی تھی۔؟ آپ نہیں جانتی آج ہم اس دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں بیٹیوں کو گھر والے یہ نہیں کہتے کہ یہاں سے رخصتی ہو رہی سسرال سے تمہارا جنازہ اٹھنا چاہیے۔۔ بلکہ آج جب شوہر ہاتھ اٹھا دے تو بات اس گھر کی چار دیواری سے نکل کر خاندان کی پنچائیت تک پہنچ جاتی ہے۔
میں نے پھر ان سے پوچھا کہ آپ پر اتنا تشدد ہوتا تھا کیا کبھی کسی کو پتا نہیں چلتا تھا آپ کبھی کسی کو نہیں بتاتی تھیں۔ تو وہ یہی کہتی رہی کہ ماں باپ غریب تھے بیٹیوں کا ساتھ تھا میں تکلیف میں بھی ہوتی تھی تو ماں سے یہی جھوٹ بولتی تھی میں ٹھیک ہوں اماں۔ سسرال میں بہت خوش ہوں۔۔ لیکن وہ مار پیٹ کا کھیل ایسا شروع ہوا کہ تھمتا ہی نہ تھا۔ اپنے مقدر یہ ٹھوکریں ماة باپ سے تو میں نے چھپا لی تھی مگر سسرال میں تو یہ روز کا تماشہ تھا۔ سسرال والے کہتے تھے بچے ہوجائیں گے تو یہ ٹھیک ہوجائیں گے ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔۔
پر جب بیٹی پیدا ہوئی تو مار پیٹ پہلے سے زیادہ ہوچکی تھی وہاں سب سوچ رہے تھے کہ اب ہمارا رشتہ صحیح سمت میں گامزن ہوگیا ہے اور یہاں رشتہ میں فرق کچھ نہیں آیا تھا۔ لیکن میں ایک بات سمجھ گئی تھی اس رشتے میں چاہے مجھے جتنی بھی اذیت ملے میں اسے ہمیشہ نبھاؤں گی۔۔بیٹی کی پیدائش کے بعد مجھ میں وہ پہلے سی خود اعتمادی نہیں رہی تھی
جب کبھی اپنی پسند ظاہر کرنا چاہی ایک تھپڑ ملتا تھا جواب میں کہا جاتا تھا تم ان پڑھ ہو خاموش رہا کرو۔۔اور پھر میں نے خاموش رہنا شروع کردیا۔میرے پاس بحث کرنے کے لیے ہزار باتیں ہوتی تھیں تب بھی خاموش رہی۔۔
زندگی چلتی رہی اور اب مار پیٹ میں کمی آنا شروع ہوگئی تھی شاید اس لیے بھی کہ بچے بڑے ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اب اس رشتے میں پہلے جیسی تکالیف نہیں رہی تھی دن بہ دن ہمارا رشتہ بھی نکھرنا شروع ہوگیا تھا”
میں انکی باتیں سن رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اگر ان کی جگہ کوئی اپنا ہوتا تو ابھی تک ہم لوگوں نے علیحدگی کروا دینی تھی۔ مجھے ان کے وہ الفاظ بھی بھولے نہیں بھولتے جب انہوں نے کہا کہ عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ گھر کو جنت بناتی ہے یا دوزخ جب بیوی کو شوہر کی طبیعت کسی حاکم کی طرح لگنے لگے تو وہ خود کو جھکا کر اس رشتے کو کامیاب بنا سکتی ہے یا محنت کرنے کے بجائے طلاق لے سکتی ہے۔۔آج میں یہ فخر سے کہہ سکتی ہوں میں نے اپنے شوہر کو حاکم بننے دیا اور محنت کرکے اس رشتے کو کامیاب بنایا۔۔
جو لوگ کہتے تھے یہ خوبصورت ہے مگر گھر نہیں بسا سکے گی ان کا رشتہ نہیں ٹک پائے گا۔ آج وہی لوگ میرے صبر و شکر کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔۔”
میں ان کی باتیں خاموشی سے سن رہی تھی میں اور بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں اس تحریر میں پر میں لکھنے سے قاصر ہوں۔۔
اور سلام پیش کرتی ہوں ان بہن بیٹیوں کو جو شادی کے بعد شوہر کی مار پیٹ کے بعد بھی رشتے کو نبھاتی ہیں ایک کامیاب رشتہ بناتی ہیں۔
مجھے علم ہے کہ میرے یہ الفاظ فی زمانہ کسی بھی جوان عورت کے حالات اور ان کی سوچ کی عکاسی نہیں کرتے۔ بہت سوں کو مجھ سے سخت اختلاف ہو گا۔ مگر کچھ چیزیں آپ چاہ کر بھی نہیں بدل سکتے ہر چیز اور انسان کو وقت بدل دیتا ہے۔۔
آپ اسے اگر نہیں بدل سکتے تو کوشش کریں کہ خود کو رشتے میں اس طرح ڈھال لیں کے کہ سامنے والا خود اپنے آپ کو بدلے آپ کے لیے۔۔ میاں بیوی کا رشتہ بہت مضبوط ہوتا ہے طلاق راہ نجات نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button