کالم/بلاگ

اسرائیل تسلیم کیوں نہیں؟ "

 

محمد زکریا عباسی

اس وقت ملک میں ہر طرف اسرائیل کے قضیے پر بحث جاری ہے، حکام اور عوام کی ایک بڑی تعداد اسی موضوع پر گفت وشنید کر رہی ہے، اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہئے یا نہیں، ہر شخص اپنی اپنی رائے دے رہا ہے، اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے تو کیوں اور نا کیا جائے تو کیوں؟ اس موضوع پر گفتگو کرنے سے قبل زرا یہ جان لیتے ہیں اس پراسرار موضوع کی حقیقت ہے کیا؟
سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ اسرائیل کوئی اصولی طور پر وجود میں آنے والی مسلَّم ریاست نہیں نا ہی وہ کسی آئینی اور قانونی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے، یہ درحقیقت غاصبانہ قبضے کے نتیجے میں قائم ہونے والی ظالمانہ اور غیر قانونی ریاست ہے، اسرائیل کے قیام اور تسلیم کرلینے والے موضوع پر گفتگو سے قبل زرا اس کے پس منظر پر مختصر سی بات کر لیتے ہیں۔
خلیفہ دوم سیدنا عمرؓ ابن خطاب کے دور میں جب سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کو فتح کیا اور عیسائی پادریوں نے اس کی چابیاں حضرت عمرؓ کے حوالے کیں تو لکھوائی گئی شرائط میں بطور خاص یہ لکھوایا کہ "یہاں یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، وہ یہاں نا زمین خرید سکیں گے نا ہی یہاں مکان بنا کر رہائش اختیار کر سکیں گے صرف وہ مقامات مقدسہ کی زیارت کیلئے آئیں گے اور چلے جائیں گے” یہودی وہاں سے بے دخل ہونے کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں جا بسے، اسپین پر جب حکومتِ اسلامیہ کا پھریرا لہرا رہا تھا تو وہاں تشنگان علم کا تانتا بندھا رہتا تھا، علم کے حصول کیلئے وہاں آنے والوں میں عیسائیوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جنہیں بعد ازاں یہودیوں نے اپنی تہذیب اور کتاب سے متنفر کرنا شروع کر دیا اور عیسائیوں میں تفرقہ پیدا کر دیا اور یہی تفرقہ عیسائیوں میں دو فرقوں (کیتھولک اور پروٹسٹنٹ) کی صورت میں سامنے آیا، ان میں سے پروٹسٹنٹ آزاد خیالی کی بھینٹ چڑھ گیا اور انسانی حقوق کا علمبردار بن گیا اور آج کا بدنما اور جدید مغرب اسی کا نتیجہ ہے، اندلس پر جب عیسائیوں کا قبضہ ہوا تو یہودی وہاں سے بھی مار بھگائے گئے، اسی دور میں امریکہ نقشہ عالم پر ابھرا اور یہودیوں کو اپنا نیا ٹھکانہ میسر آ گیا، ان کی ایک بڑی تعداد اس طرف رخ کرنے لگی اور عیسائیوں کا آزاد خیال فرقہ پروٹسٹنٹ بھی اس طرف کو آ نکلا، (عیسائیوں کا یہی فرقہ وہاں آج تک بڑی اکثریت میں موجود ہے) اور اسی فرقے نے وہاں اپنے ہم مذہب لوگوں کو اپنے پوپوں سے بدظن کرنا شروع کر دیا اور پوپوں کو خوب ہدف تنقید بنایا، پروٹسٹنٹ کے بانی مارٹن لوتھر کی تحریک کا اثر تھا کہ عیسائیوں نے بھی یہی کہنا شروع کر دیا کہ "فلسطین یہودیوں کا وطن ہے” جب کہ حقیقتاً عرب وہاں تقریباً تین ہزار سال سے آباد ہیں اور یہودیوں کو یہاں کی آب وہوا بہت کم ہی نصیب ہوئی ہے، یہودیوں نے جن چالوں کے ذریعے عیسائیوں کو اپنا ہم مؤقف بنا لیا تھا وہ تو کئی ہیں مگر ان میں سے ایک شاطرانہ چال جس کے ذریعے یہودی عیسائیوں پر غلبہ حاصل کر گئے یہ تھی کہ یہودیوں نے عیسائی پوپوں سے سود کی اجازت طلب کر لی اور اسی عنایت کا نتیجہ ہے کہ یہودی آج ان کی پوری معیشت پر پھن پھیلائے بیٹھے ہیں، یہودیوں نے اس سود سے وہ طاقت حاصل کی کہ آج کئی ممالک ان کے زیر اثر ہیں اور ان کے حکم کے پابند کام کر رہے ہیں، یہودیوں کا طریقہ واردات تھا کہ یہ پہلے مختلف حکومتوں کے درمیان جنگیں قائم کرتے اور پھر انہیں سود پر اسلحہ فراہم کرتے، جب وہ ملک ان کا مقروض ہو جاتا تو پھر یہ اس سے اپنے احکامات کی تعمیل کرواتے، اسی سودی لعنت کے نتیجے میں آج وطن عزیز بھی یہودی شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، بہرحال عیسائیوں کو اپنے حق میں رام کر لینے کے بعد یہودیوں نے اپنی خباثت کا باقاعدہ آغاز کیا، یوں بھی بڑی عیسائی قوتیں (امریکہ اور یورپ) یہودیوں کے مقروض ہونے کی بنا پر انہیں کے اشاروں پر ہاں ناں کرنے پر مجبور تھیں اور یہودی انہیں جیسے چاہتے بروئے کار لا رہے تھے، بہرحال اسی دوران پہلی جنگ عظیم برپا ہوئی اور عیسائیوں نے باوجود اس کے کہ عرب مسلمانوں نے ان سے اتحاد کرکے ان کے دشمنوں کے خلاف مکمل محاذ آرائی کی تھی مگر عیسائیوں نے مسلمانوں سے کئے وعدے یکسر بھلا ڈالے اور شام وعرب کو کئی حصوں میں تقسیم کر ڈالا، خیر برطانیہ اور یہودیوں کے گٹھ جوڑ کے بعد برطانوی وزیر خارجہ بالفور نے 1916 میں اعلان کیا کہ ہم "فلسطین کو یہودیوں کا وطن تسلیم کرتے ہیں” پہلی جنگ عظیم کے بعد فلسطین برطانیہ کے قبضے میں آ گیا تھا اور برطانیہ نے یہودیوں کو یہاں آ بسنے کی دعوت دی، جوق درجوق یہودی قافلے اس طرف کا رخ کرنے لگے، دوسری جنگ عظیم کے کچھ ہی عرصے بعد "حقوق انسانی اور اقوام متحدہ کے منشور” کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا گیا اور ٹھیک اسی سال اسرائیل کا قیام عمل میں لا کر عالم کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ حقوق انسانی کا اصل مستحق کون ہے، اب اقوام متحدہ کا انصافی معیار دیکھیں کہ اس نے فلسطین کا پچپن فیصد حصہ چار لاکھ یہودیوں کیلئے خاص کر دیا جب کہ ساڑھے بارہ لاکھ فلسطین کے حقیقی باشندے مسلمانوں کو پینتالیس فیصد حصے پر محصور کر دیا، اس کے باوجود بھی اسرائیل اس پر قانع نہیں رہا اور1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے ذریعے فلسطین کے پچھتر فیصد حصے پر قابض ہو گیا، بعد ازاں 73ء میں دوسری عرب اسرائیل جنگ کے دوران پورا فلسطین اور قبلہ اول اسرائیلی اقتدار کے زیر اثر آ گیا اور اسرائیل کے حقیقی نقشے (جو یہودیوں کا خود تخلیق کردہ ہے اور یہودی اسے”عظیم تر اسرائیل” کا نام دیتے ہیں) میں کئی عرب ممالک مدینہ منورہ سمیت بھی شامل ہیں جس کا مطلب ہے کہ اسرائیل ان پر بھی قبضے کا کامل ارادہ رکھتا ہے، اسرائیل کی اسبملی پر نقش یہ الفاظ (اے اسرائیل! تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں) بھی اسرائیل کے اس مکروہ عزم کو واضح کرتے ہیں، یہودیوں کا طے شدہ منصوبہ ہے کہ وہ پوری کرہ ارض پر قابض ہوں اور یہاں ماسوائے یہودیت کے کسی اور مذہب کو باقی نا رہنے دیں!
علامہ اقبالؒ نے 1937 میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "عربوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنے بادشاہوں پر اعتبار نا کریں کیونکہ وہ فلسطین کے متعلق کسی درست فیصلے کو صادر کرنے کے قابل نہیں” اسی طرح قائداعظم نے بھی ایک موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جو کہ مسلمانوں کے دل میں خنجر گھونپنے والی بات ہے اور اسے ہم تسلیم نہیں کریں گے” 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ نے جب فلسطین کی تقسیم کی قرارداد پاس کی تو قائد اعظم نے 8دسمبر 1947 کو امریکی صدر کے نام خط لکھا اور اس قراداد پر افسوس کرتے ہوئے لکھا کہ "آپ فلسطین کے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں” اب متحدہ عرب امارات نے جن نکات پر اسرائیل کو تسلیم کیا ہے ان میں ایک یہ ہے کہ "عرب دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس بات پر راضی کریں گے” یعنی کہ عرب اب انہیں کے اشاروں پر چلیں گے اور جو اسرائیل چاہے گا عرب اسی کے پابند ہوں گے، مطلب اس معاہدے کے بعد عرب کی حیثیت اسرائیل کے نزدیک ایک غلام کی سی رہ جائے گی؟، ایک اور عجیب نکتہ جو اس معاہدے کا حصہ ہے یہ ہیکہ ” اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک اقصیٰ میں نماز ادا کر سکیں گے، انہیں اس کی آزادی حاصل ہوگی” اس کا واضح مقصد ہے کہ صرف اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کے لوگ ہی یہاں نماز ادا کر سکیں گے اور انہیں اس کے علاوہ اور کوئی حق بھی حاصل نہیں ہوگا جب کہ وہاں کے اصل باشندے اور وارثین فلسطینی جو اپنے وطن کی آزادی کیلئے برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں انہیں کوئی حق اپنی زمین پر حاصل نہیں ہوگا، یہ معاہدہ تو فلسطینیوں کے حق پر کھلا ڈاکہ ہے اور اسے کسی طور تسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا۔
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا جہاں فلسطینیوں کے ساتھ دغا کی حیثیت رکھتا ہے وہیں ملک پاکستان کے بنیادی مقاصد کے بھی منافی ہے، یوں بھی اسرائیل کو اگر کسی ملک سے خطرہ ہے تو اسلام کے نام پر اور کلمے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے وطن عزیز پاکستان سے ہی ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے خلاف ہر جنگ میں اسرائیل انڈیا کے ساتھ مکمل تعاون کرتا رہا ہے اور اب تک بھارت اسرائیلی تعاون سے ہی کشمیری حریت پسندوں پر بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے، اسی بات کا اظہار پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں یوں کیا تھا کہ "تمہیں عرب سے کوئی خطرہ نہیں، تمہیں اگر کسی سے خطرہ ہے تو پاکستان سے ہے اور تمہیں اس کے وجود کو مٹانا ہوگا” اسرائیل جہاں عالم اسلام کا علی الاعلان دشمن، ایک ناجائز اور غاصب گرو، دجال کے استقبال کا منتظر ٹولہ اور ہزاروں فلسطینیوں کا مجرم اور قاتل ہے وہیں وہ وطن عزیز کا بھی بدترین دشمن اور اس اسلامی مملکت کو نوچ کھانے کا منتظر باؤلا کتا ہے، بالفرض اگر ہم بزور طاقت فلسطین پر قابض ہونے والے اسرائیل کو تسلیم کر لیتے ہیں تو ہم پھر کشمیر کو بھی حاصل کرنے کا کوئی قانونی واخلاقی جواز پیش نہیں کر سکتے!
لہذا ملک پاکستان کے بنیادی مقاصد اور مؤقف کو برقرار ومسلم رکھنے کیلئے اور فلسطینیوں کے ساتھ قائم ہمارے ایمانی رشتے کی بنیاد کو سلامت اور دائم رکھنے کیلئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ان شاء اللہ پاکستانی قوم سمیت امت مسلمہ کا بچہ بچہ قبلہ اول کے تقدس کی حفاظت اور آزادی کیلئے کٹ مرے گا مگر اس مضبوط مؤقف سے انچ بھر بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا!

باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button