کالم/بلاگ

جونیئر ڈاکٹرز کے مسائل اور سینئرز کا رویہ

اس کالم میں ایک ایسی حقیقت کو عیاں کریں گے جو کافی عرصے سے چھپی ہوئی تھی۔جونیئرز ڈاکٹرز جس میں ہمارے ہاؤس آفیسر اور پی جی ٹرینی شامل ہیں اور سینئرز ڈاکٹرز میں سینئر رجسٹرار سے لیکر پروفیسر تک شامل ہوتے ہیں یہ کالم ٹیچنگ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کے متعلق ہے جس پر آج تک کسی نے قلم آزمائی نہیں کی ہے۔ پاکستان بھر میں جو لوگ ایمانداری،محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں وہ ہمارے جونیئر ڈاکٹرز ہیں یہ میرٹ کی بناء پر آتے ہیں وقت کی پابندی اور مریض کو مکمل دلجمعی کیساتھ دیکھتے ہیں اور اپنا ذیادہ تر وقت ہسپتال میں گزارتے ہیں۔ہاؤس آفیسر وہ ڈاکٹرزہیں جو ایم بی بی ایس کا پانچ سالہ طویل سفر طے کرکے ہاؤس جاب میں آتے ہیں ایف ایس سی کے بعد جب ان کا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہوتاہے تو والدین کی خوشی کی انتہاء دیکھنے والی ہوتی ہے معہ طالب علموں کے۔ان کے جذبات خدمت خلق اور اچھا ڈاکٹر بننے کے ہوتے ہیں جن کو ہم حقیقی معنوں میں مسیحا کہتے ہیں میڈیکل کالج میں آنے کے بعد ان کو احساس ہوتاہے کہ یہاں تو دنیاہی الگ ہے مثال کے طور پر کالج آنے سے پہلے جو خواب شیخ چلی کی طرح دیکھے ہوتے ہیں وہ کالج میں آتے ساتھ ہی چکنا چور ہوجاتے ہیں۔میڈیکل کالج میں آتے ہی سینئر ڈاکٹر زسے نفسیاتی ٹارچر کا سامنا کرنا پڑتاہے لیکن بعد میں انہی میں سے کچھ لوگ ان کو سپورٹ کرتے ہیں پروفیسرز صاحبان جو باپ کی طرح ہوتے ہیں میڈیکل کالج میں ان کارویہ ہی الٹ ہوتا ہے وہ خود کو خدا سمجھتے ہیں ان میں کچھ پروفیسرز اچھے ہوتے ہیں جو نہایت شفقت کیساتھ بچوں کو سکھاتے ہیں مگر اکثریت فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنی انا بنا لیتے ہیں اور رزلٹ کے طور پر بچوں کو ناجائز طور پر امتحانات میں فیل کردیتے ہیں اور کچھ تو بچوں کے کئی سال ضائع کردیتے ہیں جس کے نیتجے میں ان کا مسیحا بننے کا خواب چکنا چور ہوجاتاہے ساتھ میں بچے نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں بعض نشے کی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ان حالات میں کچھ پروفیسرز صاحبان خزاں میں بہار کی مانند ہوتے ہیں جو بچوں کو نفسیاتی اور اخلاقی طور پر مضبوط کرتے ہیں۔جس سے بچوں کا اچھا مسیحابننے کا خواب پورا ہوجاتاہے۔ایم بی بی ایس کا پانچ سالہ طویل اور کٹھن سفر طے کرنے کے بعد جب ہاؤس جاب میں آتے ہیں تو ان کی خوشی کی انتہاء نہیں رہتی ہے مگر ان معصوم لوگوں کو کیا پتہ کہ اب مسیحائی کی اصل دوڑ شروع ہوئی ہے اس دوڑ میں ان کو سینئرز کی بلیک میلنگ،حراسمنٹ،سیاست،پروفیشنل چپلقش،نرسز وپیرامیڈیکل سٹاف کا غیر اخلاقی برتاؤ اور عوام الناس سے لڑائی جھگڑوں کا سامنا کرناپڑتاہے۔لیکن ان سب مسائل کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہاؤس آفیسرز کا سہارا پی جی ٹریننگ پر آئے ہوئے ڈاکٹرز ہی بنتے ہیں جو ان کو حقیقی معنوں میں مسیحا بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔افسوس کیساتھ ہمیں کہنا پڑرہاہے ہاؤس افیسرز میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جوافلاطون بننے کے چکر میں رہتے ہیں اور یہی ڈاکٹرز کام چور ی کیساتھ اپنے سنیئرز کی عزت نہیں کرتے ہیں۔خاتون ہاؤس افیسرز کو بہت سارے مسائل کا سامناکرنا پڑتاہے ان کو تمام ہاسپٹل سٹاف اور عوام الناس کی جانب سے ہر قسم کی حراسمنٹ کا سامناکرناپڑتاہے۔ہاؤس افیسرز کی ڈیوٹی ٹائمنگ فکس نہیں ہے اور نہ ہی ان کیلئے کوئی رولز موجود ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پروفیسر صاحبان ان سے تیس تیس گھنٹے کی لگاتار ڈیوٹی کرواتے ہیں اور ہفتے میں 100 گھنٹے سے ذیادہ ڈیوٹی کرواتے ہیں۔ ٓٓٓٓٓٓٓٓان حالات میں ڈاکٹرز کا عوام کیساتھ رویہ نارمل رکھنا کسی بھی لحاظ سے ممکن نہیں ہوسکتاہے اسی وجہ سے ڈاکٹرز کی جانب سے مریض کی دیکھ بھال میں اکثر غفلت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتاہے ہاؤس افیسرز کیساتھ سینئرز اور نرسز کا برتاؤ ایسے ہے جیسے ”برہمن کا شودر کیساتھ ہوتاہے“
بدقسمتی سے یہ کہنا پڑ رہاہے کہ ہمارے محنتی ہاؤس افیسرز جو دن رات ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں ان کے تحفظ کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ہے آئے روز مریضوں اور ان کے لواحقین سے مارکھاتے ہیں ان تمام معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارے گورنمنٹ میڈیکل کالجزڈاکٹرز کی اکثریت ایم بی بی ایس یا ہاؤس جاب کے بعد بیرون ملک چلی جاتی ہے جہاں ان کا حقیقی معنوں میں مسیحا بننے کا خواب پورا ہوتاہے ان تمام مسائل کے ذمہ داران بلاشبہ میڈیکل کی تعلیم دینے والے تمام اداوں کے سربراہان اور سرکار کے پالیسی ساز ہیں تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان میں ذیادہ تر سینئرز ڈاکٹر صاحبان ہیں ان تمام تر ناکامیوں کا ملبہ ذمہ داران ڈاکٹرز پر ڈال کر ہسپتالوں کو ایم ٹی آئی ایکٹ کی طرف لے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ قسط وار جاری رہے گا جس میں تمام تر مسائل ورازوں سے پردہ اٹھایاجائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button