کالم/بلاگ

”رسولﷺکے اخلاقِ عظیمہ“

 

آپﷺکے اخلاق کی اللہ تعالی نے گواہی دی
ترجمہ(بے شک آپﷺ کے اخلاق حسنہ کے اعلی مرتبہ واعلی پیمانہ پراور اعلیٰ مقام پر ہیں)(القلم 4)
جب آپﷺ کے پاس لوگ آکر بیٹھ جاتے اور آپ کو کچھ کام ہوتا تو آپ کو یہ فرماتے ہوۓ شرم آتی کہ اب اپنے کام میں لگو، اسی کو اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اس بات سے نبی کوگرانی ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جاٶ لیکن اللہ تعالی صاف بات کہنے سے کسی کا لحاظ نہیں فرماتے(اس لیے تم کو تعلیم کی جاتی ہے کہ خود موقع و وقت کا لحاظ کرکے اُٹھ جایا کرو)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس برس رسولﷺکی خدمت کی آپ نےمجھ کو کبھی اُف بھی نہیں فرمایا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا(مسلم)
الله أكبر!ہروقت کے خادم کو دس برس تک
”ہوں سے ہاں“ نہ فرمایا۔
آپﷺکی شرم کایہ حال تھا کہ آپ کنواری لڑکی سے زیادہ شرمگین تھے اگر کوٸی بات ناگوار دیکھتے تو شرم کے سبب زبان سے نہ فرماتے مگر
صحابہ رضی اللہ عنھم اس کا اثر آپ کے چہرہ انور میں دیکھتے تھے اللہ اللہ آپ ﷺ کے اخلاق کا کیا بیان ہو سکے
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ سخت مزاج نہ تھے نہ کسی کی تحقیر فرماتے نہ کسی کو بدعادیتے تھے کوٸی بات گرانی کی اور تنبیہ کی ہوتی تو یوں فرما دیتے فلاں شخص کو کیا ہو گیا اس کی پیشانی کو خاک لگے۔
اس ارشاد عالی میں کوٸی تکلیف بھی نہیں خصوصاًاگر مسجد میں پیشانی میں خاک لگے جاۓ تب تو یہ دعا ہے نمازی ہونے کی اور نماز میں خاصیت ہے بری باتوں سے روکنے کی۔
آپﷺگھرمیں جھاڑودیے لیتے،آٹا گوندھ لیتے،گھروالوں پربار نہ ڈالتے،اپناکام بس اپنے ہاتھ سے فرماتے بلکہ اپنے گھروالوں کے ساتھ کام میں لگے رہتے تھے،مثلا اپنا جوتا گانٹھ لیتے تھے،اپنا کپڑا سی لیتے تھے،حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپﷺمنجملہ بشرکے ایک بشر تھے، گھر کے اندر مخدوم وممتاز ہوکر رہتے تھے اپنے کپڑوں کو خود پیوندلگا لیتے تھے،اپنی بکری کا دودھ نکالتے تھے(ترمزٕی شریف)
رسولﷺنے کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا،نہ کسی عورت کو،نہ خادم وغلام کو،حتی کہ نہ جہاد میں،آپﷺکواگر کسی نے کوٸی تکلیف پہنچاٸی مگرآپﷺنے کھبی بدلہ نہ لیا،البتہ محرمات کے ارتکاب پرحدودکےلیے اس سے انتقام لیتے تھے(مسلم شریف)
غرض اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہ لیا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آٹھ برس کا تھا اور دس برس میں نے آپ کی خدمت کی،میرے ہاتھ سے کوٸی نقصان بھی ہوگیا تو آپﷺنے کبھی ملامت نہیں کی،اگرآپﷺکےگھروالوں میں سے کسی نےملامت کی بھی تو آپﷺفرماتے،جانے دو۔
آپﷺ مریضوں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے،جنازے کے ساتھ جاتے۔
ترمزی شریف میں ہے کہ آپﷺسے کوٸی مصافحہ کرتاتوجب تک وہ اپنے ہاتھ کو نہ ہٹاتا خود اس کے ہاتھ سے ہاتھ نہ نکالتے تھے،کلام کے وقت کسی سے منہ نہ پھیرتے تھے جب تک وہ خود اپنا منہ نہ پھیر لیتاتھا۔
آپﷺکسی کےپاس بیٹھنے والے کی طرف پاٶں نہ پھیلاتے تھے،صف میں سب کے برابر بیٹھتے تھے،آپﷺہروقت کشادہ رو، نرم مزاج تھے جب آپﷺ کے سامنے کوٸی بات کرتاآپﷺاس کے بات کرنے تک خاموش رہتے،ہاں کوٸی حد شرعی سے بڑھتا تب اس کو کاٹ دیتے خواہ منع کردیتے یا اُٹھ کر چلے جاتے،آپﷺپردیسی کی گفتگواور سوال میں بے تمیزی کرنے پر تحمل فرماتے۔
لوگوں کی ایزارسانی پرسب سے زیادہ صبر کرنے والے اور سب سے بڑھ کر حلیم تھے،براٸی کرنے والے سے درگزر فرماتے، جو شخص آپﷺسے بدسلوکی کرتا تھا آپ اس سے نیک سلوک فرماتے،جوشخص آپﷺکو نہ دیتا آپﷺاس کو دیتے، جوشخص آپﷺپر ظلم کرتا آپﷺعفووکرم فرماتے، اپنی ذات کے لیے آپﷺنے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔
آپﷺکا مخالفین کے ساتھ جو برتاٶ تھا وہ بھی عجیب بلند حوصلگی اور اخلاق کی بلندی تھی چنانچہ ایک موقع پرآپﷺسے عرض کیاگیاکہ یارسولﷺ!
مشرکین پر بدعاکیجۓ،آپﷺ نے فرمایا کہ بد دعا کرنے والابناکر نہیں بھیجا گیا، میں صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
سیرت بن ہشام میں مروی ہے کہ
حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بھاٸی عقبہ بن ابی وقاص نے اُحد کے روز آپﷺپر پتھرچلایا، اس سے آپ کا دندان مبارک شکستہ ہو کر جھڑگیا، لوگوں نے عرض کیا آپ ان پر بدعا کیجۓ
توآپﷺ نے یہ دعا دی
(اے اللہ!میری قوم کو ہدایت کیجۓ تحقیق یہ جانتے نہیں ہیں۔
اللہ اکبر! کیا عجیب اخلاق عظیم ہیں، کیا خوب حوصلہ ہے، کیا عجیب حلم ہے ،
اللہ اللہ! پتھر کھا کر بھی پھول برساۓ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button