کالم/بلاگ

ناجائز اثاثہ جات

کرپشن کے خاتمے کے نعرے کو کیا موجودہ سرکار عملی جامعہ پہنا پائے گی یایہ جن یوں ہی منہ زور ہوکر منہ چڑاتارہے گاسرکاری افسران سیاستدان کیسے کرپشن کرتے ہیں آئیے آپ کو ایک جھلک دکھلاتے ہیں یہ موسم ہے تحقیقات کا تحقیقات ہورہی ہیں اور اب ہر کسی کی تحقیقات ہوں گی شاپنگ مالز،پلازے،گاڑیاں بنک بیلنس،ہاؤسنگ سوسائٹیزکس نے کہاں پر کتنی انویسٹمنٹ کی سرکاری افسران اور اراکین اسمبلی سابقہ وموجودہ پیسہ کہاں سے آیا کہاں پر خرچ کیا کتنا پیسہ پاس ہے سب کی اب تحقیقات ہوں گی۔اور ان تحقیقات کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ان لوگوں کے زرائع آمدن کیا ہیں وہ کتنے ٹھیک ہیں کتنے غلط ہیں پر اس پر ایکشن لیاجائے گا۔ اگرموجودہ صورتحال میں دیکھاجائے تو تحقیقات بہت سی ہورہی ہیں سوال یہ اٹھتاہے کہ یہ تحقیقات کس کی جانب سے ہورہی ہیں اور ان تحقیقات کا حاصل کیا نکلنے والا ہے کیا کچھ حاصل بھی ہوگا یا یہ ساری مشق لاحاصل ہی رہے گی ماضی کی طرح۔۔۔۔۔!تین ادارے یہ ساری تحقیقات کررہے ہیں اور اس تحقیق میں ایسے ایسے نام سامنے آئے ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں زرا تحقیقات مکمل ہوجائیں تو پھر پاکستانی عوام کے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے کہ ان کے پاک پویتر افسران وسیاستدان معہ نامی گرامی صحافی کیا گل کھلاتے رہے ہیں پاکستان کے چاروں صوبوں کی ایک لسٹ تیار ہوئی ہے جس میں پانچ سو سے زائد افراد ہیں۔ ان میں دو سوسے زائد سیاستدان اور 211 سے زائد سرکاری افسران ہیں اس میں گریڈ سولہ سے لیکر گریڈ اکیس تک کے افسران شامل ہیں اور اس میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو گریڈ 17 کے ہیں اور ان کے پاس اتنی رقم ہے کہ لکھنے والے کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اس میں معذرت کیساتھ کچھ صحافی بھی شامل ہیں راقم کبھی صحافیوں کے خلاف نہیں ہے مگر جو لوگ اندھادھند ہر قسم کا مال اکٹھا کرکے خود کو حاجی کہتے ہیں ان کے بارے میں لکھنا قرین انصاف ہے اس میں 06 بڑے اینکر اور کچھ صحافیوں کے بھی نام شامل ہیں یہ جو لسٹ بنی ہے اس میں یہ جو ٹھیکیدار مافیاہے اس کو اتنے بڑے بڑے ٹھیکے کہاں سے ملتے ہیں ان کو اتنا پیسہ کہاں سے ملتاہے ان میں سے کچھ لوگوں کو چیک کیا گیا اور پھر ان کے اکاؤنٹ سے رقم نکل کر کہاں جاتی ہے اور پھر وہ کن کن کے نام پر کیا کیا چیزیں لیتے ہیں اور ان کے پاکستان سے باہر کسطرح کے اکاؤنٹ ہیں اسطرح پتہ چلا جناب کہ بہت سارے موجودہ وسابقہ وزیر،مشیر،ایم این اے،ایم پی اے ایسے نکلے ہیں جنہوں نے بڑی بڑی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے مختلف ٹاؤنز کے اندر لاہور اور شیخوپورہ کی حدود میں ایک بہت بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے پتہ چلا کے ایک حاضر سروس ایڈیشنل آئی جی اس میں پارٹنر ہے حاضر سروس ایڈیشنل آئی جی؟؟؟پتہ چلا کہ 06 ڈی آئی جیز جو ہیں انہوں نے مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز میں اربوں روپے لگائے ہوئے ہیں کروڑوں روپے نہیں ۔اور ان کا کام کیا ہے کہ انہوں نے آگے کسی اور کو کیا ہواہے یعنی فرنٹ مین کوئی اور ہے اور پیچھے کوئی اور ہے اور پھرپتہ چلا کہ جناب کئی پٹواری کن کے کہنے پر لگتے ہیں اور پھر وہ انوسیٹمنٹ کسطرح کرتے ہیں کن کی بیگمات کے نام کن کے سالوں کے نام کن کے ملازمین کے نام کتنی پراپرٹی ہے تقریباتیرہ سو پراپرٹیز ایسی ہیں جن میں بلوچستان،خیبرپختونخواہ،سندھ اور پنجاب شامل ہیں جبکہ ان انکشافات میں سندھ اور پنجاب نے تو کمال کردیا ہے ان پراپرٹیز کے مالکان ایسے ہیں جو ان حالات میں شاید پانچ ہزار روپے والا اشٹام پیپر بھی نہ خرید سکتے ہوں لیکن پیچھے ان کے کوئی اور کھڑا ہے جیسے کبھی پاپڑ والا اور فالودے والا نکل آتاہے یہ وہ پراپرٹیز ہیں جو ابھی تک منظرعام پر نہیں آئی ہیں اس کے بعد پتہ چلا کہ جناب سرکاری افسران کی رقم بھی مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز میں اور ٹھیکداروں کے پاس موجود ہے اور وہ کرتے کیا ہیں وہ یہاں سے رقم بیرون ملک بھیجتے ہیں مزے کی بات یہ کہ ہمارے ملک میں سسٹم بہت اچھا ہے وہ یہاں پر کروایا جاتاہے حوالہ اور رقم باہر بھیج دی جاتی ہے اور باہر سے متعلقہ بندہ کمال ہوشیاری سے وہی رقم واپس اکاؤنٹ میں بھیجتاہے وہ قانونی طریقے سے ان کے اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں اس کو ادھار بھی سمجھ سکتے ہیں اس کا جو بھی قانونی طریقہ کار ہے آخر پر یہ پیسے اصل صاحب کے پاس پہنچ جاتے ہیں یہ ہوتاہے اصل طریقہ کالے دھن کو سفید کرنے کا۔اس لسٹ میں یہ ثابت ہواہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز،پلازے،ٹھیکیدار مافیا،ٹرانسپورٹرز،بڑی بڑی آڑھتیں اور گاڑیاں ان میں جو انویسٹمنٹ ہے اس میں پیچھے کون ہے اورفرنٹ پر کون ہے۔ایک بڑی خبر یہ ہے کہ اس میں دو سابقہ وزیراعلی بھی شامل ہیں دونوں کا تعلق سندھ سے ہے جبکہ ایک سینئر وزیر کا تعلق پنجاب سے ہے تین پولیس افسران کا تعلق بلوچستان سے ہے اس کے علاوہ بلوچستان کے اندر سمگلنگ شدہ جو مال ہے اس کی ان تینوں افسران نے بے تحاشا خریدوفروخت کی جس کی مثال ڈھونڈنی مشکل ہے ایک آفیسر کی خوشاب کے اندر بہت بڑی پراپرٹی ہے بہت جلد یہ لسٹ سامنے آئے گی پھر میڈیاء پر بھونچال آئے گا اس پر تین ادارے جنہوں نے تحقیقات کی ہیں مکمل ثبوتوں کیساتھ سامنے لائیں گے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کون ایف آئی اے،اینٹی کرپشن اور نیب کی پکڑ میں آتاہے اس لسٹ میں حاضر سروس وریٹائرڈ دونوں قسم کے بیوروکریٹ شامل ہیں اب کھال ادھیڑنی پڑے گی جنہوں نے ملکی خزانے کو مادرپدر آزادی سے کھایا ہے مزید کھارہے ہیں مزید برآں کے متعدد محکموں کے ضلعی سربراہان اپنے بگ باس کیساتھ ڈیل کرکے سیٹوں پر براجمان ہوتے ہیں کچھ نقد دیکر آتے ہیں تو کچھ ایڈوانس باقی کماکردینے کا وعدہ کرکے سیٹوں پر بیٹھتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button