کالم/بلاگ

”ماں تجھے سلام“

دنیا کی تمام مادی نعمتوں میں سب سے بڑھ کر اعلی وارفع جو نعمت ہے وہ“ ماں” ہے جسکا کوٸی نعمت البدل نہیں۔ایک ایسی نعمت جوایک ہی مرتبہ نصیب ہوتی ہے چھن جاٸے تو اس دنیا میں دوبارہ ملنے کا کوٸی امکان ہی نہیں ہے۔اس خود غرض معاشرے کے کرداروں میں سے بے غرض کردارکے انتخاب کیلٸےکہاجاٸے توماں کاکرداربلامقابلہ کامیابی حاصل کرےگا۔اس مطلب پرست سوساٸٹی کےکرم فرماٶں میں بےلوث کرم بےلوث کرم فرما کی تلاش کی جاٸے توبیشک وبلاشبہ یقیناًوباتحقیق ضروربالضرورہرراستہ ماں کے دروازےپر لاکرکھڑاکرے گا۔۔۔کسی کو جودوسخاوت ومروت،صبروضبط ایثاروقربانی کی عملی تصویردیکھنی ہووہ ماں پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لے۔۔۔ایک عورت جب ماں بننے کی عمرکو پہنچتی ہے اسی وقت سے قدرت کے اس گرانقدرانمول تحفے کو اپنی ذات میں سمو لینے کیلۓ بےتاب سی دکھاٸی دینے لگتی ہے اور جب اسکی نسبت بیوی کی حثیت سے کسی شخص سے طے ہوجاتی ہے تو وہ اپنی توجہ کا مرکز اسی ایک شخص کو بنا لیتی ہے۔۔۔اس لیےکہ قدرت کا انمول تحفہ بطور امانت اس شخص کےپاس محفوظ ہے اورجس دن قدرت بزریعہ نکاح ملاقات کاموقعہ اسے فراہم کردیتی ہے تواس کی خواہش ہی نہیں بلکہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ یہ امانت فوری طور
اسے منتقل ہوجاٸے تاکہ اس کی کوکھ ہری بھری ہواورجس وقت اس مبارک گھڑی کاعلم اسے ہوتا ہے اسی لمحے سے کھانے میں“ پینٕےمیں“اٹھنے میں“بیٹھنے میں“سونے میں“جاگنے میں“ چلنے میں“بھرنے میں“کہیں جانے میں“حتی کہ لباس تک کیسی اور کتنی احتیاطیں برتناشروع ہوجاتی ہے۔۔۔احتیاطوں کا عرصہ عموماً نو ماہ پر مشتمل ہوتا ہےپھراس ان دیکھے محبوب کے دیکھنے کا لمحہ آتا ہے تو وہ لمحہ اپنے آپ کو موت کےحوالے کردینے کاہوتا ہےاوریہ ماں بلاتامل جاں گسل واقعہ سے گزرجاتی ہے اوراس کے بعد کی نادانیوں اورماں کی ممتاکی فتح ہوتی ہے جبکہ بظاہر یہ جنگ ہاررہی ہوتی ہے۔۔اپنے لعل کی ضدکےسانےوہ ہتھیار پھنک رہی ہوتی ہےلیکن اس کی یہی ادااس کی عظمت کی دلیل ہوتی ہے۔۔۔ماں کی ادامیں زندگی کے کسی موڑپرذرہ برابر فرق نہیں آتا۔۔۔بچہ بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن ماں کی ممتاتمام ترکمزوریوں کے باوجود جوان رہتی ہے۔۔۔بچےکی گستاخیاں نادانیاں بن جاتی ہیں لیکن ماں کی محبت نفرت میں نہیں بدلتی۔۔ان پڑھ سے ان پڑھ ماں بھی اپنےبچوں کےحق میں ایسی کامیاب وکیل ہے کہ ممتا کے غلاف میں اس کے پٹے ہوٸے دلاٸل سخت حاکم کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبورکردیتے ہیں ماں عفوودرگزر کی عمدہ مثال ہے۔۔۔ماں بے لوث خدمت کی شاندارنظیر ہے۔
ماں محبت وشفقت کی بے غبار تصویر ہے۔۔
ماں امن آشتی کا نفیس نمونہ ہےیہی وجہ ہے کہ ہرقوم،نسل،رنگ،علاقےاورزبان کا سمجھ بوجھ رکھنے والاانسان ماں کی تعریف میں رطب السان ہے۔۔۔جس وقت ہم اس دنیامیں آٸے ہمارے پاس ہمارےاس وجود کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔۔۔ہماری بات پر اعتبار کریں وجود کو ڈھاپنےکیلٸےبھی ہم ساتھ کچھ بھی تو نہ لاٸےہمیں اس بات کا بھی اعتراف ہے اس وقت توہمیں اپنی ضرورت کااظہار کیسے کرتے یہ بھی تو معلوم نہ تھا۔۔۔اپنےاس عجز کے اعتراف کے باوجود مسرت بھراقرار بھی کر رہٸے ہیں کہ دنیا نے ہمارے ساتھ اللہ تعاٸی کی ربوبیت کا شاندار نظارہ دیکھا۔۔۔ایک اسی ہستی کو جسےخود اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے معززمکرم ومحترم بنایا ہے جس کے بڑھاپے میں بھی اسے اُف تک کہنے کی اجازت نہیں دی ہے جس کے پاٶں کے نیچے ہماری جنت بساٸی۔۔۔اسے ہماری خدمت پر لگادیا جسے غلام بن کر رہنا تھا اسے اسے مخدوم بنادی جس کے سر پرمکہ معظمہ کاتاج رکھ دیا اسے بلامعاوضہ خدمت گاربنادیا۔۔۔مسلسل ایسی اوراتنی خدمت جوکوٸی معاوضہ لیکر بھی نہ کرسکےإ ہاں ہاں منہ مانگا معاوضہ لیکر بھی نہ کرسکے إ ہمت کر بھی لے تو پورا ایک دن بھی اُسے جاری نہ رکھ سکے إ اپنے بچوں کی خدمت کی عادت بھی ہو بھی دوسرے کے بچوں کی خدمت کرنے پر امادہ نہ ہو۔۔۔ حلات آمادہ ہونے پر مجبور بھی کر دیں تو حق ادا نہ کر سکے إ ایسے تو نہیں کہہ دیا گیا کہ بچے کی ماں نا مرے۔۔۔
نہ جانے کس دھات سے بنی ہے یہ میری ماں؟
خودبخارمیں بُری طرح تپ رہی ہےاورمیرے لیے آگ پرناشتہ تیار کر رہی ہے۔۔۔خودسردی میں بُری طرح کانپ رہے اورپانی میں کپڑے دھو رہی ہے خوسرشام تھکن سے چور ہے اوررات گٸے دیر میراراستہ تک رہی ہے۔۔۔ خود پھوک سے نڑھال ہے اور مجھے شکم سیر رکھ رہی ہے۔۔۔خودپیوندلگے ہلکے اور گٹھیاچیتھڑوں پر گزارہ ہے مگر مجھے شہنشاہ عالم کے روپ میں دیکھ رہی ہے
ہاں“میرےبیٹے یہی حقیقت ہے وہ اولاد کا حوصلہ ہے اوریہی ماں کا ظرف ہے۔۔۔ہمارےپروردرگارنے تمہاری خدمت کیلٸے ہمیں ماں کے منصب پر فاٸز کر کے ایک بہت بڑی ذمہ داری عناٸت فرماٸی تمھارے جانی سکون کیلٸے ادنیٰ سی کوتاہی کے بغیررات دن،غمی خوشی،راحت و تکلیف، گرمی وسردی،دھوب بارش کافرق کر مسلسل یکسانیت کے ساتھ تمھارے رویے وسلوک کی پرواکیٸے بغیر ہم اپنی ذمہ داری زندگی کے آخری سانس تک نبھاٸے جاتے ہیں۔۔۔
ماں تیری عظمت کو سلام إ
تیرے جزبوں کو داد تحسین إ تیرے حوصلوں کو خراج عقیدت ماں تیرا کردار حقیقت وفطرت کےمطابق ہے۔۔۔مخالفت کی اندھیاں،سرکشیوں کےطوفان،بےوفاٸیوں کے موسلادھار بارشیں،بہکاوے کی نصف النہاریہ تمازتیں، بے مرویتوں کے جان لیوا تھپڑے، بےغیریتوں کی جھلسا دینے والے گرم ہواٸیں بھی اس کردار کو دھندلا نہ کر سکیں۔
” ماواں ٹھنڈیاں چھاواں “

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button