اہم خبریںاہم خبریںپاکستاندلچسپ و عجیب

ڈاکٹر حمید اللہ ایک تازیخ ساز شخصیت،باکمال انسان

اولین کتاب جو 58 ہجری میں لکھی گئی تھی جسے صحیفہ ہمام بن منبہ کہا جاتا ہے اس عظیم حدیثی و تاریخی دستاویز کو انہوں نے 1300 سال بعد جرمنی میں برلن لائبریری سے دریافت کیا اور تحقیق کے بعد شائع کرایا.

"خطبات بہاول پور” کے مصنف ڈاکٹر حمیداللہ کے بارے میں جانیے
ایک ایسا عظیم شخص جس نے 1994ء میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوش نودی کے لئے لکھا ہے لہذا مجھ پر میرے دین کو خراب نہ کریں.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے فرانس کی شہریت کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی کہ مجھے اپنی مٹی اور اپنے وطن سے محبت ہے۔
ایک ایسا عظیم شخص جس کے ہاتھ پر چالیس غیر مسلموں نے کلمہ طیبہ پڑھا۔
ایک ایسا عظیم شخص جو 22 زبانوں کا ماہر تھا اور 84 سال کی عمر میں آخری زبان تھائی سیکھ لی تھی.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے مختلف زبانوں میں 450 کتابیں اور 937 علمی مقالے لکھے.
ایک ایسا عظیم شخص جو اس قدر علمی مقام رکھنے کے باوجود اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتا تھا.
ایک ایسا عظیم شخص جسے 1985 میں پاکستان نے اعلی ترین شہری اعزاز ہلال امتیاز سے نواز تو اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم جو ایک کروڑ روپے بنتی تھی اس رقم کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات اسلامی کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر اس فانی دنیا میں یہ اعزاز وصول کیا تو پھر باقی رہنے والی زندگی کے لئے کیا بچے گا.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے حدیث کی اولین کتاب جو 58 ہجری میں لکھی گئی تھی جسے صحیفہ ہمام بن منبہ کہا جاتا ہے اس عظیم حدیثی و تاریخی دستاویز کو انہوں نے 1300 سال بعد جرمنی میں برلن لائبریری سے دریافت کیا اور تحقیق کے بعد شائع کرایا.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ و تفسیر لکھا اس شاہکار ترجمے کے بیسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے "تعارف اسلام” کے نام سے ایک شاہکار کتاب لکھی جس کتاب کے دنیا کی 22 زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں.
یہ عظیم انسان یہ نابغہ روزگار شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تھی، آپ 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے، 1933ء میں جرمنی کی بون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد وہیں عربی اور اردو کے استاد مقرر ہوئے.
آپ 1946ء میں اقوام متحدہ میں ریاست حیدر آباد کے نمائندہ (سفیر) مقرر ہوئے، 1948 میں سقوط حیدر آباد اور انڈیا سے ریاست کے جبری الحاق پر سخت دلبرداشتہ ہوئے اور جلاوطنی کی زندگی اختیار کی اور جلا وطنی کے دوران "حیدر آباد لبریشن سوسائٹی” کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی.
1950 میں پاکستان کا پہلا قانونی مسودہ بن رہا تھا تو آپ سے رابطہ کیا گیا آپ پاکستان تشریف لائے، آپ نے 1952 سے 1978 تک ترکی کی مختلف جامعات میں پڑھایا، 1980ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں طلبہ کو خطبات دیے جنہیں بعد ازاں "خطبات بہاول پور” کے نام سے شائع کیا گیا۔ یہ عظیم علمی اور فکری شخصیت 17 دسمبر 2002ء کو امریکی ریاست فلوریڈا میں انتقال کر گئی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button