پاکستان

صدر جنرل ضیاء الحق نے 36سال قبل 24 مارچ کو محمدخان جونیجو کو وزیراعظم نامزد کیا

وہ24مارچ1985ء سے لے کر29مئی 1988ء تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ)36 سال قبل آج ہی کے دن صدر جنرل ضیاء الحق نے محمد خان جونیجو کو وزارت اعظمی کے منصب کے لئے "سلیکٹ” کیا۔ محمد خان جونیجو پاکستان کے 10ویں وزیر اعظم تھے۔

بطور وزیر اعظم، ذوالفقار علی بھٹو ان کے پیشرو تھے۔ وہ 24 مارچ 1985ء سے لے کر 29 مئی 1988ء تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔محمد خان جونیجو 18 اگست 1932 کو ضلع سانگھڑ کے گائوں سندھڑی میں پیدا ہوئے۔

برطانیہ سے زراعت میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ سیاسی زندگی کا آغاز 21 سال کی عمر سے کیا۔ بحیثیت سیاستدان وہ صدر ایوب خان کے زمانے میں اس وقت زیادہ نمایاں ہوئے جب 1962ء میں وہ سانگھڑ سے مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتحب ہوئے۔

جولائی 1963ء میں وہ مغربی پاکستان کی کابینہ کے وزیر بنے۔ فروری 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں جب وہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تو 24 مارچ 1985ء کو جنرل ضیاء الحق نے انہیں وزیراعظم کے منصب کے لئے نام زد کیا۔

محمد خان جونیجو نے سیاسی طور پر منتشر قومی اسمبلی کو متحد کیا اور اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ وزیر اعظم پاکستان منتخب ہو کر محمد خان جونیجو کی شہرت پاکستان کے ایسے ایمان دار سیاست دان اور وزیراعظم کی رہی جن کا دامن کرپشن، اقرباء پروری سے پاک تھا۔ وہ سادگی اور شرافت کے پیکر تھے۔

وزیر اعظم بنتے ہی انہوں نے سیاسی آزادیاں بحال کرنے کا وعدہ کیا اور اپنے تمام وعدے اپنے مختصر دور حکومت میں انہوں نے بخوبی پورے کئے۔ مارشل لاء کے خاتمے کے لئے جنرل ضیاء نے یہ شرط رکھی تھی کہ قومی اسمبلی سے آٹھویں ترمیم منظور کروائی جائے تا کہ جنرل ضیاء کے آئین شکن اقدام کو آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔ چنانچہ مارشل لاءکے خاتمے کے لئے محمد خان جونیجو نے قومی اسمبلی سے آٹھویں ترمیم منظور کروانے کا کڑوا گھونٹ پیا۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے جس طرح جنرل ضیاء کو قومی فیصلہ سازی کے معاملے میں کنارے سے لگایا اور ملک کو واپس جمہوریت، آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کی منزلوں کی جانب لے آئے وہ ان کے سیاسی نظریے، دور رس سوچ اور جمہوریت کے ساتھ وابستگی کی زندہ مثال ہے۔

اگرچہ حریف سیاسی جماعتوں نے مسلسل یہ پروپیگنڈہ جاری رکھا کہ محمد خان جونیجوکے پاس اختیارات نہیں لیکن 1986 میں گیلپ انٹرنیشنل کی جانب کرائے گئے سروے میں سامنے آنے والا نتیجہ ان کے مخالفین کے لئے صدمے سے کم نہیں تھا۔ سروے کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 85 فی صد شہریوں نے رائے دی کہ وہ محمد خان جونیجو کو ایک مکمل طور پر بااختیار وزیراعظم سمجھتے ہیں۔

اس زمانے کے حالات اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے سے پتاچلتا ہے کہ بطور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی جنرل ضیاءالحق سے مسلسل کشیدگی رہی۔انہوں نے جنرل ضیاءکی ہدایات کو رد کرتے ہوئے جنیوا معاہدے سے قبل آل پارٹیز کانفرنس بلائی۔ تین روز تک وزیراعظم ہاؤس میں جاری رہنے والی اس کانفرنس میں محترمہ بینظیر بھٹو، خان عبدالولی خان، رسول بخش پلیجو، مختلف بلوچ اور پختون قوم پرست رہنما شریک ہوئے اور کھل کر جنرل ضیاء کے خلاف بولے۔ ان سب کی رائے اور حمایت حاصل کر کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اسے “قومی اتفاق رائے”قرار دیا جس کے آگے جنرل ضیاء کی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔

آل پارٹیز کانفرنس کے بعد وہ جنیوا روانہ ہوئے اور افغان امن معاہدے میں پاکستان کی شرائط شامل کروا کر اس پر دستخط کئے۔ یہ ان کی مدبرانہ سفارتکاری کی سب سے اعلیٰ مثال تھی۔ یہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور میں ہی ممکن ہوا کہ محترمہ بینظیر بھٹو آٹھ سالہ جلاوطنی ختم کرکے 1986میں وطن واپس تشریف لائیں۔ محمد خان جونیجو نے جنرل ضیاء کی ہدایات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ بے نظیربھٹو جس وقت چاہیں وطن واپس آ سکتی ہیں، یہ ان کا اپنا وطن ہے جہاں آنے سے ان کو کوئی نہیں روک سکتا۔

محمد خان جونیجو نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت کو ہدایات جاری کیں کہ محترمہ کی مرضی سے ان کے لاہور ایئر پورٹ پر اترنے کے لئے تمام انتظامات کئے جائیں۔ محترمہ کے استقبال کے لئے لاکھوں لوگ آئے اور اس استقبال میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی۔10 اپریل 1988کو اوجھڑی سانحہ ہوا۔ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی پر راکٹوں کی بارش ہو گئی جس میں لاتعداد شہری ہلاک ہو گئے۔ کئی افواہیں پھیلنے لگیں۔ ایک افواہ یہ تھی کہ روس کی ایجنسی کے جی بی کے ایجنٹوں نے اوجھڑی کیمپ کو تباہ کیا تھا اور دوسری افواہ یہ تھی کہ کچھ اندر کے لوگوں نے جان بوجھ کر اسلحے کو آگ لگائی تھی کیوں کہ افغان مجاہدین کے لئے امریکا کی جانب سے ملنے والا بیشتر اسلحہ (جس میں اسٹنگر میزائیل بھی شامل تھے) چوری کیا جا چکا تھا اور اسلحے کے ڈپو کی آڈٹ کا وقت سر پر آ گیا تھا۔

محمد خان جونیجو ایسے وقت میں خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے تھے۔ انھوں نے اس واقعے کے محرکات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ جنرل ضیاء کے لیے ناقابل قبول تھا، وہ اس بات پر حیران تھے کہ ان کی مرضی اور منشا کے بغیر محمد خان جونیجو نے یہ کیسی جرات کی کہ ایک حساس معاملے پر تحقیقات کا حکم جاری کر دیا۔ جنرل ضیاء اس تحقیقات کا راستہ روکنے کے لئے سامنے آ گئے اور انھوں نے آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 29 مئی 1988ء کو محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

محمد خان جونیجو کو خون کے سرطان کا عارضہ لاحق تھا لیکن وہ حالات اور بیماری کے ساتھ بڑی بہادری سے لڑتے رہے۔ طویل علالت کے بعد 18مارچ 1993 کو امریکا کے شہر بالٹی مور کے ایک ہسپتال میں ان کا انتقال ہوا، وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً 61 برس تھی۔ 20 مارچ 1993ء کو محمد خان جونیجو کو ان کے آبائی گاؤں سندھڑی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

محمد خان جونیجو کو ایک انقلابی سیاست دان کہا جائے یا غیر سیاسی سیاست دان، باغی سیاست دان، مصلحت پسند سیاست دان، جمہوری سیاست دان ،مسلم لیگیوں کی بے وفائی کا شکار سیاست دان یا جو بھی کہا جائے مگرمحمد خان جونیجو نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے اقدامات اٹھائے جن کے اثرات سے آج تک سیاسی پارٹیاں استفادہ کرتی ہیں۔ انھوں نے جس سیاسی جرات اور دیدہ دلیری کے ساتھ جنرل ضیا کا مقابلہ کیا وہ تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button