کالم و مضامین

23مارچ کا دن قابل اہمیت

یوم پاکستان پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے ۔ اس دن قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔اس دن “23 مارچ” پورے پاکستان میں عام چھٹی ہوتی ہے۔
اور 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین کو اپنایا گیا مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے پہلی بار کہا کہ ہندوستان میں مسئلہ فرقہ ورارنہ نوعیت کا نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی ہے۔

مولانا ظفر علی خان اور قائد اعظم محمد علی جناح مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رہنما چودھری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، سرحد سے سردار اورنگ زیب سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی۔ قرارداد 23 مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔اس قرارداد میں علما ٕ کرام کاکردار سرے فہرست ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی بر صغیر میں پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا ۔ پھر شاہ ولی اللہ .علامہ اقبال اور دیگر علمائے کرام نے نظریہ پاکستان کی وضاحت کی ۔ بر صغیر میں مختلف مسلم ادارے اسی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوئے اور کئی تحریکیں اسی نظریے کے پرچار کے لیے معرض وجود میں آئیں ۔ اسلام اور ہندو دھرم دو مختلف معاشرتی نظام قائد اعظم نے قرار دار لاہور 23، مارچ 1940ء کے صدارتی خطبے میں اسلام اور ہندو مت کو محض مذاہب ہی نہيں بلکہ دو مختلف معاشرتی نظام قرار دیا ۔ ہندو اور مسلمان نہ آپس میں شادی کر سکتے ہيں نہ ایک دستر خوان پر کھانا کھا سکتے ہيں ۔ ان کی رزمیہ نظمیں ، ان کے ہیرو اور ان کے کارنامے مختلف ہيں ۔ دونوں کی تہذیبوں کا تجزیہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : “میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ وہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہيں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہيں ۔ مارچ، 1909ء میں ہندو رہنما منرو ا راج امرتسر نے علامہ اقبال کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے متحدہ قومیت کے موقع پر خطاب کرنے کی دعوت دی ۔ علامہ اقبال نے نہ صرف متحدہ قومیت کے تصور کو مسترد کر دیا بلکہ آپ نے مہمان خصوصی بننے سے بھی انکار کر دیا ۔
یوم پاکستان الحمداللہ اس سال بھی یوم پاکستان کو بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے اور پریڈ کا بھی بھرپور مظاہرہ ہوگا۔۔

قیام پاکستان کا مقصد‘ اسلام کی سربلندی قائم کرنے کیساتھ ساتھ پاکستان میں قیام پذیر دیگر مذاہب کو بھی انکی مذہبی آزادی کےساتھ زندگی بسر کرنے کی آزادی دینا تھا اور انتہاءپسندی کا مکمل خاتمہ کرکے خطے میں مستقل امن کا قیام ممکن بنانا تھا۔ پاکستان کا مطلب تو ”پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ“ ہے لیکن یہاں طاقتور طبقہ فرعون بن بیٹھا۔ یہ وہی پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا لیکن یہاں بچیوں کے حجاب پہننے یا نہ پہننے پر بحث ہورہی ہے اور اسلام کے شعائر کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔

بد قسمی سے ہم نے جب سے تبدیلی اور انقلاب کے لفظوں کو سیاسی نعروں سے مشروط کیا ہے ان لفظوں کے وسیع معنی منجمد ہو نے لگے ہیں۔ مارچ کا آخری عشرہ شروع ہو نے والا ہے جس کے ساتھ ہی وطنِ عزیز میں 23 مارچ کی تقاریب کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہو جائیں گی۔ بچپن کی یادوں سے ذہن پہ نقش فوجی پریڈ سے لے کر یادگار تقاریب ،مکالموں اور مباحث کے عارضی سلسلوں کا انعقاد نہایت شان و شوکت سے کیا جائے گا۔ قرار دادِ پاکستان کے لباس میں ملبوس قرار دادِ لاہورکی بحث ایک بار پھر بہت سے سوالوں کو ذہن میں الجھتا چھوڑ کر تاریخ کے دھندلکوں میں لوٹ جائے گی اور ہم اپنی منزل کی طرف ایسے ہی رواں ہو جائیں گے ۔۔ ہمارے قومی پرچم کا تقاضا ہے کہ سرسوں کے سبز لہلہاتے کھیت میں کپاس کے سفید پھولوں سے امن کا اعلان کیا جائے.
’’اسلام کے خادم بن کر آگے بڑھو اور اقتصادی‘ معاشرتی ‘ تعلیمی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی تنظیم کرو۔ مجھے یقین ہے کہ تم وہ طاقت بنو گے جسے ہر شخص تسلیم کرے گا۔‘‘
یعنی دنیا کو دیکھانے کا وقت آگیا ہے کہ پاکستان ایک پر امن اور ترقی پسند ملک ہے کیونکہ یہ ہم سب کا پاکستان ہے ۔ ہم نے ہی اسے مل کرسنوارنا ہے اور اپنے مسائل مل کر حل کرنے ہیں ۔۔ افواج پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے اس 23مارچ جو ملک سے دشمن عناصر اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوشش کرنی ہے اور افواج کے ساتھ بھرپور تعاؤن کرتے ہوئے انکا حوصلہ بڑھاتے ہوئے آپریشن درالفساد میں انکا ساتھ دینا ہے اور اپنے وطن کو محفوظ ومستحکم بنانا آمین آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button