کھیل و کھلاڑی

29 سال قبل آج ہی کے دن پاکستان نے انگلینڈ کو ہرا کر کرکٹ میں عالمی کپ جیتا

عمران خان نے اپنے کرکٹ کریئر کی آخری گیند پر آخری وکٹ لی اور بعدازاں پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے


لاہور(ویوز نیوز رپورٹ25 مارچ)آسٹریلوی شہر میلبورن کے تاریخی ایم سی جی گراؤنڈ پر 25 مارچ 1992ء کو کھیلا گیا ورلڈ کپ کا فائنل پاکستان کے لئے خوشی کا ایسا پیغام لے کر آیا جس پر آج بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم انتہائی فخر محسوس کرتی ہے۔
پاکستان نے 22 رنز سے فتح حاصل کر کے پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ورلڈ کپ 1992ء عظیم ترین کرکٹرز عمران خان اور جاوید میانداد کی وجہ سے بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، آخری معرکے میں فتح کو ان دونوں کرکٹرز کا کارنامہ قرار دینا غلط نہیں ہو گا۔


ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی پاکستانی ٹیم کا آغاز ایسا مایوس کن انداز میں ہوا کہ شائقین کی نگاہوں میں ابتدائی راؤنڈ کے میچ کا نقشہ کھچ گیا جب انگلینڈ نے پاکستان کی پوری ٹیم کو 74 رنز پر ڈھیر کر دیا تھا، ڈیرک پرنگل نے اس مرتبہ دونوں پاکستانی اوپنرز عامر سہیل (4) اور رمیز راجہ (8) کو 24 کے مجموعے پر پویلین واپس بھیج دیا، عامر کے آؤٹ ہوتے ہی عظیم کپتان عمران خان خود ون ڈاؤن کی پوزیشن پر میدان میں اترے اور رمیز کے جانے پر جاوید میانداد نے دوسرا اینڈ سنبھالا۔
میلبورن کرکٹ گراؤنڈ کی وکٹ پر دنیائے کرکٹ کے دو عظیم کرکٹر ایک ساتھ جمع ہوئے، آؤٹ آف دی فیلڈ دونوں کے تعلقات، مزاج اور خیالات کتنے ہی مختلف کیوں نا تھے مگر فیلڈ میں دونوں کا صرف ایک ہی مقصد تھا سبز ہلالی پرچم کو دنیائے کرکٹ میں سربلند کرنا اور پاکستان کرکٹ کو اتنی بلندیوں پر لے جانا جس کی دوسرے تمنا کرتے رہ جائیں، خود کو ایسی مثال بنانا جو کہ بعد میں آنے والے کرکٹرز کے لیے مشعل راہ بن جائے، ایم سی جی کی اس وکٹ پر ان دونوں نے ایسا کارنامہ انجام دیا جس کو شاید ہی کبھی بھلایا جا سکے۔ عمران اور جاوید میانداد نے نئی گیند کا ڈٹ کر سامنا کیا اور چوتھی وکٹ کی شراکت میں مجموعے کو 24 سے 163 تک لے گئے۔
9 کے انفرادی اسکور پر جب گیند عمران خان کے بیٹ کو چھوتی ہوئی گراہم گوچ کی جانب لپکی تو کروڑوں شائقین کی جیسی دھڑکنیں رک گئیں مگر دل سے نکلی ہوئی دعاؤں کا ایسا اثر ہوا کہ گراہم گوچ خود کیچ ڈراپ ہونے پر سکتے میں آ گئے۔
25 اوورز کے اختتام پر پاکستان کا مجموعی اسکور 70 رنز تھا مگر جاوید میانداد کی جانب سے رنر طلب کیے جانے کے بعد دونوں کرکٹرز نے گیم کا ایکسیلیٹر ایسا دبایا کہ 31 ویں اوور کے اختتام تک مجموعہ 139 تک جا پہنچا، دونوں کے درمیان محتاط انداز میں شراکت کو طول دینے کا سلسلہ جاری رہا، اس دوران عمران خان نے رچرڈ الینگورتھ کو ایسا چھکا رسید کیا جو خود میلبورن کے باسیوں کو حیران کر گیا، گیند نے ممبرز سیکشن کے بھی پیچھے جاکر لینڈ کیا۔
مجموعہ جب 163 پر پہنچا تو جاوید میانداد الینگرورتھ کی گیند پر بوتھم کا کیچ بن گئے، انھوں نے 4 چوکوں کی مدد سے 98 گیندوں پر 58 رنز بنائے، ان کے جانے کے بعد عمران خان نے انضمام الحق کے ساتھ مجموعے کو 197 پر پہنچایا، ڈھائی گھنٹے سے زائد کریز پر موجود رہ کر 110 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد عمران خان بوتھم کی گیند پر النگورتھ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے، انھوں نے ایک چھکے اور 5 چوکوں کی مدد سے انتہائی قیمتی 72 رنز اسکور کیے۔
جاوید اور عمران کے بعد انضمام الحق کے 42 اور وسیم اکرم کے 33 رنز کی بدولت پاکستان نے انگلینڈ کو ورلڈ کپ جیتنے کے لئے 250 رنز کا چیلنجنگ ٹارگٹ دیا۔
اب ذمہ داری پاکستانی بولرز کے کندھوں پر تھی جنہوں نے پریشر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا فریضہ بخوبی انجام دیا، انگلینڈ کا آغاز بھی انتہائی مایوس کن رہا، 69 رنز پر 4 ٹاپ کھلاڑی پویلین واپس لوٹ گئے، وسیم اکرم نے اوپنر ایان بوتھم کو کریز پر ٹھہرنے کا موقع ہی نہ دیتے ہوئے صفر پر رخصت کردیا، ایلک اسٹیورٹ نے 7 رنز بنانے کے بعد عاقب کی گیند وکٹ کیپر معین خان کے گلوز میں ڈال دی، گریم ہائیک 17 کے انفرادی اسکور پر مشتاق احمد کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
، دوسرے اوپنر گراہم گوچ کو 29 رنز پر مشتاق احمد نے گراؤنڈ سے کوچ کرنے پر مجبور کردیا، کیچ عاقب جاوید نے تھاما۔
اس موقع پر انگلینڈ کی گرتی ہوئی بیٹنگ لائن کو ایلن لیمب اور نیل فیئر برادر نے سنبھالا دیا، ان کے درمیان 71 رنز کی مضبوط شراکت نے عمران خان کو معمول سے بہت پہلے 35 ویں اوور میں ہی گیند وسیم اکرم کو تھمانے پر مجبور کردیا، ایک ذہین کپتان کا بروقت اٹھایا گیا اقدام میچ کا نقشہ ہی تبدیل کر گیا۔
عظیم لیفٹ آرم فاسٹ بولر وسیم اکرم کی جادوئی گیندوں نے ایلن لیمب اور خطرناک بیٹسمین کرس لیوس کو پویلین کا راستہ دکھا دیا، لیمب نے 41 گیندوں پر 31 رنز بنائے اور لیوس کو تو کھاتہ کھولنے کی حسرت دل میں لیے پہلی گیند پر بولڈ ہو گئے، جلد ہی عاقب جاوید نے فئیر برادر کو 62 کے انفرادی اسکور پر معین خان کا کیچ بناکر انگلینڈ کے کم بیک کرنے کی آخری امید بھی ختم کردی۔
ریوو اور ڈیفیٹس کے آؤٹ ہونے کے بعد عمران خان نے آخری اوور کی دوسری گیند پر انگلینڈ کے آخری کھلاڑی النگورتھ کو رمیز راجہ کا کیچ بنا کر پاکستان کو دنیائے کرکٹ کا حکمران بنا دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button