صحت

گلقند (گل قند، گل کھانڈ، گلقند)

لاہور(ویوز نیوز)

برصغیر میں گلاب کے پھول کی پتیوں سے بنایا جانے والا ایک میٹھا ہے۔بقول حکمائے یونان گلقند پہلے درجہ میں گرم اور دوسرے درجہ میں تر ہے، پرانی ہونے پر گرم تاثیر بڑھتی جاتی ہے۔وسرے درجہ میں تر ہے، پرانی ہونے پر گرم تاثیر بڑھتی جاتی ہے۔تیاریگلقند گلاب کے پھولوں کی پتیوں اور سفید شکر سے بنائی جاتی ہے۔ گلقند بنانے کے تین مشہور طریقے ہیں:گلاب کے پھول کی تازہ پتیاں لے کر اُنہیں چینی کے برتن میں ہاتھ سے مسل کر دو حصے سفید شکر یا مصری کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ خوب مسلنے کے بعد اِس برتن کو دھوپ میں رکھ دیا جاتا ہے اور صبح شام اِس کو ہلایا جاتا ہے۔ 40 دن تک دھوپ میں رکھنے کے بعد گلقند تیار ہوجاتی ہے۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گلاب کی پھولوں کی پتیوں کو سفید شکر کے قوام میں (جو تھوڑا سا پانی ملا کر چولہے پر پکا کر بنایا جاتا ہے) ڈالا جاتا ہے اور اِس قوام کو دھوپ میں رکھ دیتے ہیں۔ یہ قسم گلقند کی چٹنی بھی کہلاتی ہے۔تیسرا طریقہ یہ ہے کہ پانی اور سفید شکر کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی پتیاں ایک ساتھ ملا کر پکائی جاتی ہیں اور بعد ازاں یہ قوام گاڑھا ہونے پر دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔اکثر اوقات گلاب کے پھولوں کی تازہ پتیاں دستیاب نہ ہونے پر خشک پتیاں عرق گلاب میں بھگو کر بدستور تیار کیا جاتا ہے۔ حکماء کے نزدیک اِس قسم کی تاثیر تقریباً دو سال تک برقرار رہتی ہے

فوائدحکمائے طب یونانی کے مطابق گلقند دماغ اور معدہ کو قوت دیتی ہے۔ رطوبات غربیہ کو خشک کرتی ہے اور دماغ سے بخارات کو زائل کرتی ہے۔ مرض سِل میں تازہ گلقند مفید ہے۔ گلقند کو جوش دے کر جو شربت حاصل کیا جاتا ہے، وہ ہر قسم کے درد زائل کرتا ہے۔ ہاضمہ کو درست کرتی ہے اور آنتوں کو قوت دیتی ہے۔ بلغمی اور سوداوی عفونت کے بخاروں کو نافع ہے۔ آنتوں سے بلغم کو خارج کرتی ہے۔ قبض دور کرتی ہے اور آنتوں سے غلاظت ختم کرتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button