بین الاقوامیدلچسپ و عجیب

آخر استنبول کینال منصوبہ ہے کیا؟

لاہور(ویوز نیوز)
استنبول کینال پراجیکٹ کیا ہے اور اس کے امریکہ اور روس پر کیا ممکنہ اثرات پڑ سکتے ہیں؟
آبنائے باسفورس استنبول سے گزرنے والا وہ واحد بحری راستہ ہے جو بحیرۂ اسود کو بحیرۂ مرمرہ سے ملاتا ہے۔ اس بحری راستے کو بڑی تعداد میں بحری جہاز استعمال کرتے ہیں۔
ترکی میں صدر طیب اردوغان کے منصوبے کو آبنائے باسفورس کا متبادل کہا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے طیب اردوغان نے کہا ہے کہ نہر کا یہ نیا منصوبہ آبنائے باسفورس پر بوجھ کم کر دے گا اور اس سے سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی ہو گی۔
تاہم استنبول کے میئر اکرم اماموغلو نے گذشتہ سال کہا تھا کہ یہ ’قاتل منصوبہ‘ ہے اور اس کا مقصد ماحولیات کے نقصان کے بدلے ’کمائے بغیر آمدنی‘ حاصل کرنا ہے۔
آخر استنبول کینال منصوبہ ہے کیا؟
صدر اردوغان نے پہلی بار اپریل 2011 میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور اسے ’بڑے بجٹ‘ کے ’کریزی منصوبے‘ کی حیثیت سے سراہا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کا موازنہ پاناما یا سوئز کینال سے بھی نہیں کیا جا سکتا ہے (یعنی یہ ان دونوں منصوبوں سے بہتر اور بڑا منصوبہ ہے)۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بحری راستے کی گہرائی 25 میٹر ہو گی اور اس سے ہر روز تقریباً 160 بحری جہاز گزر سکیں گے۔
نئی نہر آبنائے باسفورس کے مغرب میں واقع ہو گی اور اس کا بہاؤ استنبول کے شمال سے جنوب کی جانب ہو گا اور یہ 45 کلومیٹر طویل ہو گی۔
اس نہر کے منصوبے کی سرکاری ویب سائٹ پر اس نہر کو بنانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آبنائے باسفورس کی بحری ٹریفک، بڑے جہازوں کی بڑی تعداد، جو ’خطرناک‘ مواد وہ لے کر جاتے ہیں، استنبول شہر کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق سو سال پہلے آبنائے باسفورس سے گزرنے والی کشتیوں کی سالانہ تعداد 3000 یا 4000 ہوتی تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 45 سے 50 ہزار ہو گئی ہے۔
ترکی میں پانی کی گزرگاہوں کا معاہدہ مونٹریکس معاہدہ کہلاتا ہے جو سنہ 1936 میں طے پایا تھا۔ اس بین الاقوامی معاہدے کے تحت سامان لے جانے والے جہاز ترکی کی آبی گزرگاہوں سے گزر سکتے ہیں اور یہ ترکی کو استنبول، ڈارڈانیلیز، بحیرہ مرمرہ اور باسفورس پر خود مختاری دیتا ہے۔
یہ ان ممالک کے جنگی جہازوں پر پابندیاں بھی عائد کرتا ہے جن کے ساحل بحیرہ اسود کے کنارے پر نہیں ہیں۔ انھیں ’نان ریپریئن‘ ریاستیں کہا جاتا ہے، جن میں امریکہ بھی شامل ہے۔
اب ان ریاستوں کو بھی ٹیکس دینا پڑے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button