کالم و مضامین

’’تحفے‘‘

نتھو نے پھتو سے کہا یار کافی عرصہ ہوگیا تم میرے گھر نہیںآئے۔ پھتو نے جوابا کہا بھائی دراصل وقت ہی نہیں، لیکن پرسوں پکا آئوں گا۔۔۔اس پر نتھو نے جھٹ سے کہا
پھتویارجب بھی آناتو کہنی سے بیل بجانا اور دستک نہ دینا ۔۔۔ اس پر پھتو حیران ہوکر پوچھنے لگا بھئی وہ کیوں ہاتھ سے کیوں نہیں۔۔ کہنی سے کیوں ؟ تونتھو بولا کہ جناب آپ کے دونوں ہاتھوں میں تحائف جو ہوں گے۔
دونوں کے درمیان تحفے پر بحث ومباحثہ شروع ہوگیا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔آج تو دونوں کی بحث خاصی طول پکڑ رہی تھی اوردونوں ہارماننے پر تیار نہیں تھے۔چپ سائیں چوپال میں کھانسی کرتے ہوئے آئے، تو سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔
کافی دیر تک چوپال میںسکوت طاری رہا۔۔۔نتھو ہمت کرکے بولا سائیں جی۔ میں نے پھتو کو اپنے گھر بلایا ہے لیکن ایک شرط ہے۔۔۔مگر پھتو اس پر تیار نہیں ہے۔چپ سائیں بولے وہ شرط بھی خود ہی بتادو۔۔۔نتھونے کہا پھتو میرے لئے تحفہ لائے گااور خالی ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس پر چپ سائیں بھی مسکرائے اور کہا ’’عجب کہہ رہے ہو بھائی اس کی مرضی آئے یا نہ آئے اور پھر آئے تو تحفہ بھی لائے۔۔۔۔
خیر یہ تو طویل بحث ہے دوستو جب بھی کوئی کسی کے گھر جاتا ہے تو خالی ہاتھ نہیں جاتا۔ سالگرہ ہو یا شادی کی تقریب سب سے پہلا سوال ہمیشہ تحفے کا ہی ہوتا ہے کہ جناب کس طرح کوئی بھی تحفہ خرید کر وہ فنکشن بھگتا لیا جائے ۔ بھگتا کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ آج کل رشتوں میں وہ پہلے سا خلوص کہاں رہا اب تو سب کے خون سفید ہو چکے ہیں ۔ زیادہ تر لوگوں کی رائے یہی ہوتی ہے کہ بندہ آئے نہ آئے اپنے تحائف کی موجودگی یقینی بنائے ، دور تو دور نزدیک کے رشتے بھی یہی کہتے ہیں کہ دیکھو صرف موبائل سے پیغام بھیجا ہے اور فیس بک وٹس اپ پر وش کردیا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کوئی بہانہ بنا لیا جائے یا یہ کہ فلاں نے شو مارنے کے لئے یہ تقریب رکھ لی ہے تاکہ پیسے خوب بٹور لئے جائیں ۔
دوسری طرف جو لوگ تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں ان کی کیفیت الگ ہی ہوتی ہے کہ کہیں کوئی انتظام کم نہ رہ جائے۔اس گھر کی خواتین توبیوٹی پارلر کے چکر تک کاٹ رہی ہوتی ہیںاور بےچارے مرد انتظار کی سولی پر لٹکے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ابھی فلاں کام باقی ہے۔ نت نئے ملبوسات سلوا کر شوہر نامدار کی جیب کوبھی خالی کرایا جاتا ہےاور پھرمسکرا مسکرا کر مہمانوں کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ صاحبو بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی مہمانوں کے جانے کے بعد تحائف پر بحث شروع ہو جاتی ہے کہ کس کا گفٹ سب سے اچھا ہے اور کس نے سر سے اتارا ہے ؟۔
بات تحفے تحائف کی چل رہی ہے تو کچھ روز قبل ’’تحفے‘‘ پر ایوان میں خوب شور شرابا ہوا۔سینیٹ اجلاس میں حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل اپوزیشن جماعتیں آپس میں ہی الجھ پڑیں۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیٹراعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہمیں الگ اپوزیشن بینچ الاٹ کیے جائیں اور سینیٹ الیکشن میں خفیہ کیمروں کی تحقیقات کروائی جائیں۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے 5 تحفے بھجوائے گئے، اعظم تارڑ کے ریمارکس پر گیلانی کی حمایت کرنے والے سینیٹرز نے احتجاج کیا۔بی اے پی کے سینیٹرز کو تحفہ کہنے پر حکومتی اراکین نے بھی ہنگامہ کیا اور ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا۔
بات ایوان کے’’ تحفوں‘‘ کی چل رہی ہے تو یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پی ڈی ایم کے معاملے میںمسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں کس نے دوسرے فریق کو دھوکا دیا، یہ الزام اور بہتان توکبھی واضح طور پر ثابت نہیں ہوگا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت ہے اور دونوں ہی خود کو درست اور صحیح کہتے ہیں، اب اگر اگلے الیکشن میں مسلم لیگ دوبارہ برسر اقتدار آجاتی ہے تو قوم پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو ایک ساتھ اپوزیشن بینچوں میں بیٹھا دیکھے گی اور دونوں مل کر اُسی طرح مسلم لیگ ن کی مخالفت میں یک جان اور یک قلب ہوچکے ہوں گے جس طرح اب تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ہوتے رہے ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹوکی برسی کے موقعہ پر مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان سیاسی ہم آہنگی دیکھ کر آنکھیں اس پائیداری پر یقین کرنے کو تیار نہ تھیں اورہوا بھی یہی۔ یہ دونوں حالات اور وقت کی مجبوری کے تحت ایک ساتھ بیٹھ تو سکتے ہیں لیکن دلوں میں دوریاں کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اِسی طرح اگلے انتخابات میں اگر پیپلز پارٹی کو حق حکمرانی سے نوازا گیا تو پھر ہوسکتا ہے ہم مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو ایک دوسرے سے گلے ملتا دیکھ رہے ہوں گے اور پھر دونوں کی ساری سیاست کا محور اور ٹارگٹ صرف پیپلز پارٹی ہی ہوگی۔
خیر اب اگر بات کریں تحفے کے انتخاب کی تو چند ایک ایسی باتیں ضروری ہیں جو کوئی بھی تحفہ لیتے ہوئے ذہن نشین رہنی چاہیں ۔ تحفے کے لئے سب سے پہلے خلوص نیت ایک اہم شرط ہے ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیشہ تحفہ وہی پسند کریں جس کی دوسرے بندے کو ضرورت ہو ۔تحفے کا قیمتی اور بہت مہنگا ہونا ضروری نہیں اہم یہ ہے کہ آپ نے اس کو کس طرح پیش کیا ہے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ تحائف کے لئے یہ کبھی مت کریں کہ کسی نے آپ کو کوئی تحفہ دیا ہو اور وہ آپ اپنے کسی دوست کو دے دیں ،کیونکہ ایک تو یہ حرکت غیر اخلاقی ہے ۔
بات سیاسی ’’تحائف‘‘ سے ہٹ کرکرتے ہیںتوگزارش کچھ یوںہے جناب کہ یہ مواقع یا تقریبات کے محتاج نہیں ہوتے۔ کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی وقت دے سکتے ہیں۔ یہ ایک سدا بہار عمل ہے، اس میں خزاں کا نام و نشان نہیں ہوتا ہے۔ تحفے بغیر کسی وجہ کے بھی دیئے جاسکتے ہیں، کبھی دے کر دیکھئے گا، بڑی خوشی کا احساس ہوتا ہے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ تحفہ ایک ایسی کنجی ہے جو دل کے دروازے کھول دیتی ہے۔ جس طرح تپتی زمین پر بارش کی پھوار سے مٹی کی سوندھی خوشبو سے ماحول معطر ہوجاتا ہے اسی طرح تحفے رشتوں پر بارش کی پھوار کا اثر رکھتے ہیں۔تحفے دینے کی شروعات گھر سے کریں، اس طرح آپس میں قربت کا احساس فروغ پاتا ہے۔ کسی مہمان کو تحفہ دینا ہے یا کسی کو بھجوانا ہے تو بچوں کے ہاتھ سے یہ کام کروائیں۔ ایسا کروانے سے انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ’لینے‘ سے بہتر عمل ’دینا‘ ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button