پاکستان

” نباضِ وقت ” پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم

( تحریر : ارشدمحمودارشد)

خدائے بزرگ و برتر نے وسیع و عریض کائنات کی تخلیق کے ساتھ ساتھ بےشمار مخلوقاتِ عالم کو بھی صدائے کُن سے سرفراز کیا ۔ اور اپنی خلق کردہ ہر جنس کو انفرادی طور پر بھی کئی صلاحیتوں سے نوازا ۔ کسی کی سرشت میں طاقت کا سرچشمہ رکھا تو کسی کی فطرت میں صبرِ بےبہا ، کسی کو ذہانت کی دولت سے مالامال کیا تو کوئی حسن و جمال کا پیکر بنا۔ ملائکہ کا ایک لشکر حمد و ثناء کے لیے وقف ہوا تو کئی نظامِ کائنات کو رواں دواں رکھنے پر مامور ہوئے۔ اور پھر تکمیلِ کائنات کے لیے آدم کا ظہور عمل میں آیا ۔ اور وہ تمام صفات و خوبیاں جو باقی تمام مخلوقِ عالم و ملائکہ میں انفرادی سطح پر تھیں وہ سب یکجا کرکے آدم کی سرشت میں رکھی گئیں ۔ اور سب سے بڑھ کر اُسے علم کی روشنی سے نوازا گیا ۔ اور یوں مالکِ دو عالم نے اُسے اشرف المخلوقات کا منصب عطاء کر کے زمین پر اپنا نائب مقرر کر کے اُتارا ۔ آدم کی تمام خوبیاں ابنِ آدم میں موروثی طور پر منتقل ہونے لگیں۔ لیکن اس طرح کہ جیسے ایک چٹان میں ہیرے جواہرات تو موجود ہوں لیکن اُس کی کھوج کے لیے کان کنی اور کھوج کے عمل سے گزرنا پڑے ۔ تجسس اور کھوج کا مادہ ابنِ آدم کی سرشت میں ازل سے موجود ہے اور اسی کی بدولت وہ اپنی مخفی صلاحیتوں کو بھی کھوجنے میں لگا رہتا ہے ۔ لیکن کامیابی اسے ہی ملتی ہے جو ایمانداری سے جہد کرتا ہے ۔
جناب پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بھی ایک ایسے ہی کھوجی ہیں جو ہمہ وقت اپنی ذات کی کان سے جواہرات ادب تلاشنے میں مگن رہتے ہیں ۔ اور وہ اس تلاش میں بہت حد تک کامیاب و کامران بھی ہیں کیونکہ ان میں وقت شناسی اور توقیرِ وقت کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے ۔ یوں کہیے کہ وہ بناضِ وقت ہیں ۔
اگر ہم اپنے ارد گرد کے اجتماعی معمولات پر غور کریں تو تاخیر ایک فیشن کے طور پر ہرطرف رقصاں دکھائی دے گی ۔ کسی بھی نشست و تقریب میں انتہائے وقت پر آمد کو اپنے لیے فخر خیال کیا جاتا ہے اور وقت کی بےقدری سے نجانے کونسی انا کی تسکین کی جاتی ہے ۔ بلاشبہ وقت خشک ریت کی مانند ہوتا ہے جو کبھی بھی مٹھی میں نہیں ٹھہرتا ۔ اسے قابو رکھنے کے لیے قدر کا نم ضروری ہے اور یہ بات پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بخوبی جانتے ہیں ۔ اسی لیے میں نے انہیں نباضِ وقت کہا ہے ۔


جنابِ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کو پروردگار نے بے شمار صلاحتیوں سے نوازا ہے یا یوں کہیے کہ انہوں نے اس کھوج میں اپنی بےشمار صلاحیتوں کو پہچان لیا ہے وہ معلم ، مفکر ، محقق ، نقاد ، مصنف ، مرتب ، شاعر ، ادیب ، ناظم ، براڈ کاسٹر ، کیمپیئر اور مجاہد غرض کہ ہر شعبے میں جداگانہ رنگ و آہنگ رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے لباس و زیبائش کی نفاست کا ہی خیال نہیں رکھتے بلکہ شخصیت کے وقار کو بھی بھرپور اہمیت دیتے ہیں ۔اور سب سے بڑھ کر اُن کی حُب الوطنی جس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لجیے کہ اُٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے قومی پرچم اُن کے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکتا دکھائی دے دیتا ہے ۔ حضرتِ قائدِ اعظم اور حضرتِ علامہ اقبال سے اُن کی عقیدت و محبت لافانی ہے ۔ انہوں نے حضرتِ علامہ اقبال کے فن و شخصیت پر مقالہ تحریر کرکے ہی اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اور اس کے بعد اب تک اُنہوں نے پچاس کے لگ بھگ کتب صرف علامہ اقبال کے حوالےسے تحریر و تدوین کی ہیں ۔ جبکہ اُن کا کل ادبی سرمایا ڈیڑھ سو سے زائد کتب کی اشاعت کے مراحل طے کر چکا ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کہیں ڈاکٹر صاحب کے دستِ شفقت پر کوئی موکل تو بیت نہیں جو انہیں پسِ پردہ اتنی سہولیات بہم پہنچا رہا ہے کہ وہ تھکتے ہی نہیں ۔۔ اتنے سارے کارہائے نمایاں کسی ایک شخص کی قوت و استعداد کی انتہا ہے ۔ لیکن وہی بات کہ ڈاکٹر صاحب نہ صرف وقت کے نباض شناس ہیں بلکہ وہ قدر دانِ وقت بھی ہیں۔ انہوں نے پابندی کے نم سے وقت کی ریت کو بھگو کر اپنی مٹھی میں قید کر رکھا ہے ۔ اور یوں اپنی سہولت کے مطابق اسے تقسیم کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاوی معاملات کےساتھ ساتھ وہ دینی فرائض سے بھی بہ طریق احسن سرفراز ہوتے ہیں ۔

   اگر میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب کے طرزِ سخن بات کی کروں تو میں یہ کہوں گا کہ اگر ان کی شاعری کا عمیق نظری سے جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی اُن کی ذات و صفات کا پرتو دکھائی دے گا ۔ وہ انتہائی محبی اور ملنسار طبیعت کے حامل ہیں انسان اور انسانیت سے محبت ہی ان کا بنیادی وصف ہے ۔ اور اس کا اظہار وہ اپنی شاعری میں  بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کا ایک شعر دیکھئے۔۔۔ 

خدا کا شکر یہ تہمت نہیں مرے سر پر
مرا شمار نہیں دل دکھانے والوں میں
شاعر فطری طور پر بھی حساس اور محبت سے معمور دل رکھتا ہے یہ محبت حقیقی بھی ہو سکتی ہے اور مجازی بھی ۔۔۔ بلکہ یوں کہیے کہ عشقِ حقیقی کی معراج ، عشقِ مجازی کی سیڑھی کے بغیر ممکن نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے کچھ اشعار دیکھئے جن میں رومانیویت کے دونوں رنگ جھلکتے محسوس ہونگے ۔۔
مرے وجود کی نس نس میں ہے تری خوشبو
ترا خیال یقیناً ہے روشنی کی دلیل

دکھا سکے جو محبت کا راستہ تم کو
اندھیری رات میں ایسی کرن تلاش کرو

طورِ ہستی جل گیا جس سے
وہ بھی کیا نظرِ التفات ہوئی

یہاں دیوانگی پھر حُسن کے جلوے دکھائے گی
محبت کی شرابِ عنبریں سے رابطہ رکھنا

ڈاکٹر صاحب کی وطن پرستی اور حب الوطنی کا نظارہ بھی اُن کے اشعار کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے
اُن کا دل گلستانِ وطن پر خزاؤں کے رقص پر کُڑھتا بھی ہے اور انہیں نویدِ بہارِ نو کا یقین بھی رہتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ۔۔۔

اسی کا نام وطن دشمنی ہے دنیا میں
تو اپنے ہاتھ سے اب اپنا آشیاں نہ جلا

چمن میں رقصاں ہیں بادِ سموم کے جھونکے
گلوں کے رخ ہیں پریشاں نکھار کی خاطر

وطن کی مانگ میں بھر دی ہے روشنی کس نے
لہو لپیٹ لیا ہے سنگھار کی خاطر

ہے کوئی جو اس کو بھی کنارے پہ لگا دے
گھیرے ہوئے جس کشتی کو گردابِ بلا ہے

وہ شہر کہ ناموس ہے جو میرے وطن کا
پھیلی ہوئی اُس شہر میں نفرت کی وبا ہے

جناب پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کا دل نبیﷺ کی محبت سے بھی منور ہے اور وہ اس روشنی کو مقصدِ حیات تصور کرتے ہیں۔ بے شک آقاﷺ کے در کی غلامی سے ادنیٰ بھی اعلیٰ ہوئے زمانے میں ۔ اور ڈاکٹر صاحب بھی فرماتے ہیں کہ ۔۔۔

ترے در پر جبیں اپنی جھکا کر
میں آقاؤں کا آقا بن گیا ہوں

ترے لطف و کرم تیری عطا سے
چراغِ بزمِ دنیا بن گیا ہوں

 ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ایک متحرک شخصیت کا نام ہے اور وہ اس بات سے آشنا ہیں کہ تحرک زندگی ہے ۔ ٹھہرا ہوا پانی بھی بدبودار جوہڑ میں تبدیل ہو جاتا ہے جبکہ بہتے چشمے اور ندی ، دریا ہمیشہ تشنہ ہونٹوں کو سیراب کرتے رہتے ہیں 

ڈاکٹر صاحب کا ایک شعر دیکھئے کہ ۔۔۔

زندگانی ہے کوششوں کا نام
میں کبھی آرام سے بیٹھا نہیں

 ان کا یہ تحرک صرف ان کی ذاتی ضروریات کا احاطہ نہیں کرتا بلکہ وہ اسے خدمتِ خلق کا ذریعہ بناتے ہوئے خوشنودیِ باری تعالیٰ  حاصل کرنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ 

ہر وقت محوِ خدمتِ خلقِ خدا ہوں میں
بے شک اُسے پسند ہے یہ بندگی مری

  ڈاکٹر صاحب کی شاعری کا کوئی ایک مخصوص رنگ نہیں بلکہ اُن کے اشعار قوسِ قزح کی صورت سینۂِ قرطاس پر بکھرے ملیں گے ۔ اُن میں رومانویت کی میٹھا بھی ہوگی حریت کی تلخی بھی ، حب الوطنی کی مہک بھی اور واعظ کی نصیحت بھی ۔ وہ جب کسی کو انفرادی طور پر حالات سے شکست خوردہ ہو کر اشکباری کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس کی اشک شوئی کچھ اس طرح کرنے لگتے ہیں ۔۔۔ 

سارے انساں ہیں اشک بار یہاں
کس کی گزری ہے خوش گوار یہاں

اور جب وہ کسی کو دولت و ثروت پہ نازاں دیکھتے ہیں تو یہ بات کہتے ہوئے نہیں چوکتے کہ دنیا عارضی ٹھکانہ ہے یہاں تو بڑے بڑے سلطان و شہنشاہوں کا بھی نام و نشان نہ رہا جنہیں اپنی امارت پر بہت گھمنڈ تھا وہ آخر کار تہہ خاک رزقِ خاک بنے ۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔

چھوڑ جائے گا ایک دن تُو بھی
عیش و عشرت کےساز و سامان کو

  جناب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی شاعری میں آپ کو امید و حوصلہ کی فراوانی ملےگی لیکن کہیں بھی مایوسی یا نااُمیدی کا سایہ تک دکھائی نہیں دے گا وہ شاید کمزوری کو طاقت بنانے کا نسخۂ کیمیا جانتے ہیں ۔ اور شاید انہیں تیرگی سے روشنی کشید کرنے کا فارمولا پتہ ہے وہ گماں پر یقین کی بنیاد نہیں رکھتے بلکہ یقین کی بنیاد پر حقیقت کی عمارت کھڑی کرتے ہیں ان کے کچھ اشعار دیکھیے ۔۔۔ 

اندھیروں کے سفر میں چل رہا ہوں اس تیقن سے
دکھائے گی جہاں اپنا یقیناً اب سحر مجھ کو

کرچیوں کو مری تکتا ہے وہ آزار کے ساتھ
ایستادہ ہے مری جیت مری ہار کے ساتھ

ایک یوسف کا خسارہ ہے بہت اہلِ خرد
اب نہ منسوب کرو حُسن کو بازار کے ساتھ

     ڈاکٹر صاحب کی شاعری میں حریت کا رنگ بھی اپنی الگ بہار دکھاتا ہے وہ مسلمانوں کے تابناک ماضی کے مقابل جب اُن کا شکستہ حال دیکھتے ہیں تو تڑپ کر رہ جاتے ہیں ۔ لیکن مایوس نہیں ہوتے بلکہ انہیں یقین کامل ہے کہ ملتِ اسلامیہ کا ضمیر ایک دن ضرور جاگے گا اور وہ اپنی عزتِ رفتہ کو بحال کرنے کےلیے جہاد پر عمل پیرا ہو گی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ۔۔ 

زندہ قوموں کے درونِ محفلِ ارض و سما
فیصلے تحریر ہوتے ہیں سدا تلوار سے

اک خدا کے ماننے والو ! سنو اس دہر میں
مسجدِ اقصیٰ ترستی ہے اذاں کو آج کل

ارادے بھانپ کرصہونیت کے پھر بھی یہ چپ ہیں
جنازہ اٹھ گیا ہے اب مسلمانوں کی غیرت کا

  ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم اپنے کام سے مکمل طور پر مطمئین دکھائی دیتے ہیں اور انہیں کامل یقین ہے کہ ان کے کام کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا وہ کہتے ہیں کہ ۔۔ 

نام رہ جائے گا زمانے میں
کام کچھ ایسا کر گیا ہوں میں
میں اس بات پر ان سے مکمل اتفاق کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ سرگودھا کیا بلکہ ادبی کائنات کے اُفق پر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب کا نام ماہِ تاباں کی طرح چمکتا و دمکتا رہے گا ۔ اور آنے والا ادبی مورخ اُن کے تذکرے کو کسی صورت بھی فراموش نہیں کر سکے گا ۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ سے ہمیشہ مالامال رکھے اوران کا حوصلہ و استقامت اسی طرح قائم و دائم رہے اور ان کا ہاتھ وقت نبض پر سدا رہے ۔ آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button