بین الاقوامیدلچسپ و عجیب

دنیا کی پہلی خاتون ہائی جیکر ۔لیلیٰ خالد۔

دنیا کی پہلی خاتون ہائی جیکر ہے جس نے جہاز اغوا کرنے کیلئے 6 بار پلاسٹک سرجری کروائی۔
دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام ہائی جیکنگ ہے جس میں کسی بھی ملک کا طیارہ اغوا کرنا اور اس کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا ہے۔
ہائی جیکنگ جیسے جرم میں اول تو کسی خاتون کا ملوث ہونا ہی حیرت کی بات ہے لیکن کسی نوجوان لڑکی کا جہاز ہائی جیک کرنا پھر پلاسٹک سرجری سے اپنی شکل تبدیل کرانا اور ایک بار پھر ہائی جیکنگ کرنا یہ تو یقیناً ایسی حیران کن کہانی ہے جو فلمی لگتی ہے لیکن دنیا میں یہ واحد مثال فلسطینی خاتون لیلیٰ خالد ہے جس نے ایک نہیں دو بار جہاز ہائی جیک کیا۔
لیلی خالد نے بچپن میں ہی فلسطین کی آزادی تحریک میں شمولیت اخیتار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک متحرک کارکن بن کر سامنے آئی لیلیٰ خالد اور ان کے ساتھیوں نے 1968ء اور 1971ء کے درمیانی عرصے میں 4 جہاز اغوا کئے فلسطین لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد لیلیٰ خالد نے پہلا جہاز 29 اگست 1969ء کو اغوا کیا یہ بوئنگ 707 جہاز تھا۔
یہ جہاز اٹلی سے اسرائیل کے درالحکومت تل ابیب جا رہا تھا اطلاع یہ تھی کہ اسرائیل کے وزیراعظم اضحاک رابن بھی اس فلائیٹ کے مسافروں میں شامل ہیں جہاز ایشیاء کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ایک نقاب پوش خاتون نے جہاز کا کنڑول اپنے ہاتھ میں لے لیا اس نے پائلٹ کو حکم دیا کہ فلسطینی شہر حیفہ کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے جہاز کا رخ دمشق کی طرف موڑ دو۔
دمشق جانے سے پہلے میں اپنی جائے پیدائش وطن مالوف حیفہ کو دیکھنا چاہتی ہوں خاتون اور اُس کے ساتھی بموں سے مسلح تھے پائلٹ نے حکم کی تعمیل کی جہاز دمشق میں اتار لیا گیا۔
مسافروں کو یرغمال بنا کر فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا پوری دنیا کی توجہ فلسطینیوں پر صیہونی مظالم کی طرف مبذول ہوئی مذاکرات کے بعد اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور ہائی جیکروں کی بحفاظت واپسی کی شرائط پر تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا۔
دنیا بھر کے ٹیلی وژن چینلوں اور اخبارات نے لیلیٰ خالد کے انٹرویو نشر اور شائع کئے وہ عالم اسلام کی آنکھ کا تارا بن گئی اُن کی تصویروں کو اتنی شہرت ملی جو اس سے پہلے کسی مسلمان خاتون کو نہیں ملی تھی۔
مقبولیت کا یہ حال تھا کہ یورپ میں رہنے والی لڑکیوں نے اس کے اسٹائل کو بالوں سے لیکر اسکارف اور لیلی جو انگوٹھی پہنتی تھی اپنایا اس کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی ہوا کرتی تھی جس میں کوئی پتھر نہیں گولی جڑی ہوئی تھی۔
پہلی ہائی جیکنگ کے بعد اس نے اُوپر تلے چھ بار پلاسٹک سرجری کروائی اور اپنی صورت مکمل طور پر تبدیل کر لی۔
اگلے ہی سال 6 ستمبر 1970ء کو اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر ایمسٹرڈیم سے نیویارک جانے والی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اس طیارے کو برطانیہ کے ایک ائرپورٹ پر اتار لیا گیا لیلیٰ کے ساتھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب کہ اسے گرفتار کر لیا گیا۔
ایک مہینہ بھی نہیں گذرا تھا کہ فلسطینی جانبازوں نے ایک اور طیارہ اغوا کیا مسافروں کو یرغمال بنایا مذاکرات کی میز پر لیلیٰ خالد کی رہائی کا مطالبہ کیا یوں لیلیٰ خالد کو قید سے رہائی ملی۔
اپنی خود نوشت سوانح عمری
’’My people shall live‘‘
میں انہوں نے اپنی کہانی لکھی ہے یہ دل کو دہلا دینے والی کہانی ہے یہ کتاب 1973ء میں شائع ہوئی جب کہ لیلیٰ خالد کی زندگی پر فلم 2005ء میں بنی فلم کا نام
Leila Khaled Hijacker”
ہے اور اسے ایمسٹرڈم کے فلمی میلے میں بڑی پذیرائی ملی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button