کالم و مضامین

سزایافتہ افراد کی تعیناتی۔۔

خادم اعلیٰ اورتبدیلی سرکار کی طرف سے تھانہ کلچر کی موثر تبدیلی کا ڈھنڈورا کافی عرصے سے پیٹاجارہاہے تھاجس میں فرنٹ ڈیسک و آن لائن شکایات کا سسٹم فعال کیا گیا وردیاں تبدیل کی گئیں تنخواہیں بڑھائی گئیں ڈیوٹی ٹائم کو کافی حدتک فکس کیاگیا آئی جی صاحبان کی شطرنج کی چال سے بھی ذیادہ تیزی سے تبدیلی عمل میں لائی گئی مگر تبدیلی کے فوائد وثمرات عوام الناس سے ابھی کوسوں دور ہیں۔ابھی آئی جی پنجاب جناب انعام غنی صاحب کی طرف سے نیاحکم نامہ جاری کیا گیا ہے کہ کریمنل ریکارڈ اور سزایافتہ آفیسرز کو پنجاب بھر کے تقریبا720 تھانہ جات میں بطور ایس ایچ اوتعینات نہیں کیا جائے گاسوشل میڈیاء میں اس حکم نامے کی بڑی تشہیر ہورہی ہے اور اس کو پولیس کلچر میں بڑی اہم تبدیلی سے منسوب کیاجارہاہے منسوب کرنے والے چوتھے ستون کے کچھ بیچارے ہر وقت افسران کی کاسہ لیسی کرکے اپنی صحافت کا لوہامنواتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ مجوزہ حکم نامہ کیا اپنی افادیت من وعن ثابت کرپائے گا یا پھر سکہ رائج الوقت اپنی چمک دکھلا کر افسران کو پاک پویتر ثابت کرکے دوبارہ کہیں نہ کہیں پوسٹنگ دلوادے گا بظاہر دیکھنے میں یہ حکم نامہ غیر معمولی اقدام ہے اس سے سزا یافتہ انسپکٹرز و سب انسپکٹرز کی تعیناتی کا راستہ مستقل طور پر بند کردیا گیا ہے اور نئے آنے والوں یا پیش روؤں کو یہ پیغام دیاگیاہے (اپنی لائن قانون دے نال ملاکے رکھناورنہ فیر ٹانگاپٹڑی توں لین لگیادیر نہیں جے لگنی کیریئر دی پین دی سری ہوجانی جے)۔ماضی کی تلخ مثالیں دینے سے کالم کی طوالت ہوگی مختصراََ جعلی پولیس مقابلے،لینڈمافیا،منشیات فروش،قحبہ وجواکھانے،ڈکیت گینگز کی سرپرستی،بھتہ خوری سمیت،ناقص تفتیش سے صفحہ مثل پر مجرموں کوکھلی چھٹی اور بے گناہوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے، ٹاؤٹ مافیا سے ملکر پیسے بٹورنے پر سزایافتہ یہ نمونے دوبارہ محکمے کی جگ ہنسائی کا سبب نہیں بن سکیں گے نئے آنے والے محتاط رہیں گے جس سے حقیقی تھانہ کلچر کی تبدیلی ممکن ہوگی۔خاکم بدہن ہماری دعاہے کہ عملی طور پر عملی نمونہ یہ فرمان شاہی بن سکے!
اسی ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے سول محکموں کی طرف بھی سرسری سی نظردوڑائی جائے تو بہت سارے رازوں سے پردہ اٹھتاہے مگر بیوروکریٹس کے دونوں گروہوں سے وابستہ افراد معہ دیگر افسران وعملہ متعدد بار سخت سزاؤں اور اینٹی کرپشن و نیب کی ہواکھانے کے باوجود پھر میرٹ کے منہ پر طمانچے مارتے ہوئے دوبارہ ایسٹ انڈیاء کمپنی کی طرح لوٹ مارکرتے ہیں۔محکمہ ایجوکیشن،پٹوار،ہیلتھ سول ڈیفنس،ایگریکلچرل،میونسپل کمیٹیز سمیت سبھی محکمہ جات کا حال ایک جیسا ہے ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں اب اراضی ریکارڈ سنٹرز دونوں ایک دوسرے سے پہلے سبقت لیجانے کے چکر میں تھے اب اراضی ریکارڈ سنٹر والے پنجاب سپیڈ لگاکر گینز بک میں نام لکھواچکے ہیں کیسا بھیانک اور فرسودہ سسٹم ہے رنگے ہاتھوں پکڑے جانا اور پھر دوبارہ ضمانت کرواکر آکے ریٹس ڈبل کرکے اگلی پچھلی کسر نکال لینا پتہ نہیں ڈی جی صاحب کونسی دنیا میں رہ رہے ہیں ذیادہ دور نہیں ضلع قصور میں کتنے پٹواری کرپشن پر جیل کی ہواکھاچکے ہیں مگر پھر پرکشش سیٹوں پر تعینات ہیں اربوں کروڑوں روپے کی جائیداد کے مالک ہیں۔ایجوکیشن میں جعلی ڈگریوں کی زریعے لوٹ مار کرنے والے اس کے علاوہ فنڈز کو باپ داد ا کی جاگیر سمھج کر ہضم کرنے والے مکمل آزاد ہیں منسٹر مراد راس کی چھترچھایہ کے نیچے سکینڈ شفٹ سکول والوں کو عدالت عالیہ میں منہ کے بل گرنے کے باوجود دھمکاکررہے ہیں ایک ڈی ای او اور ڈپٹی ڈی او بخوبی یہ کام کام کررہے ہیں شاید اگلے جہان کے حساب سے معافی لیکر پیدا ہوئے تھے۔آخر پر آتے ہیں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی طرف تو اللہ ہی حافظ ہے مثال کے طور پر ضلع قصور کی تحصیل کوٹ رادھاکشن سے چند نام پیش خدمت ہیں سابقہ ddho کوٹ رادھاکشن فرازرشید،سابقہ ایم ایس محمود اختر ملک،ارشاد بھنگواور موجودہ ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹ رادھاکشن جو کہ سزایافتہ ہونے کے باوجود پرکشش سیٹوں پر تعینات رہ کر خوب لوٹ مارکرتے رہے اور کررہے ہیں موجودہ ایم ایس ڈاکٹر اشرف کے آرڈرز نمبری 2423/14-04-2016 کو اور دوسرے مورخہ ستائیس ستمبر 2017 کو نمبری 1087/R/89 کو سیکشن افیسر جنرل نے جاری کیئے اور تیسرا آرڈر مورخہ 14-03-2018 کو نمبری سیکشن افیسر سنٹرل 17-8/cr/09 کو ڈپٹی سیکرٹری جنرل جاری کرتاہے ان سب میں موصوف کو غلط میڈیکل لیگل جاری کرنے پر مس کنڈکٹ،ڈسپلن،اورادارہ جاتی احتساب ایکٹ پیڈا 2006 کے سیکشن 06 کے تحت سسپنڈ کیاجاتاہے پہلے آرڈر میں اس وقت کے سیکرٹری ہیلتھ علی جان نے خود اپنے سائن شدہ آرڈرز سے موصوف کی ایک سال کی دو انکریمنٹ ضبطگی،سنشورسمیت دوسال کی میڈیکل لیگل نہ جاری کرنے کی سزاسنائی اور مزے کی بات یہ ہے کہ جس دن موصوف کی سزا ختم ہوناتھی اسی دن یعنی 14-03-2018 کو دوبارہ پھر اوپر درج بالاکرپشن واختیارات سے تجاوز کرنے پر ایک بار پھر سسپنڈ ہوگیا اب سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر اتنی کرپٹ پریکٹس کے باوجود دوبارہ اس کو لوٹ مار کیلئے تعینات کردیاگیا کیاآرڈرز کرنے والے جنرل کیڈر 02 کے سیکشن افسر کا احتساب ہوسکے گا؟کیا شفافیت صرف پولیس ڈیپارٹمنٹ کی مطلوب ہے کیا صرف پولیس میں ہی سزایافتہ تعینات نہیں ہوسکتے باقی محکموں کو کھلی چھٹی ہے کیا یہی قانون دوسرے محکموں پر لاگو نہیں کیا جاسکتاہے کیا بزدار سرکار اتنی بے بس ہے؟ بقیہ اگلی قسط میں سہی۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button