پاکستان

پاکستان کے قابل فخر مسیحی سپوت، 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے پہلے غازی فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چوہدری

پاکستان کے پہلے فوٹو جرنلسٹ ایف ای چوہدری کے صاحب زادے تھے ،پھیپڑوں کے سرطان کی وجہ سے 13 اپریل 2012ء کو 70 سال کی عمر میں لاہور میں اُن کا انتقال ہوا۔ اور آپ گورا قبرستان میں دفن ہوئے

لاہور(ویوز نیوزرپورٹ)13اپریل پاکستان کے قابل فخر سپوت، 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے پہلے غازی، پاکستان کے پہلے فوٹو جرنلسٹ ایف ای چوہدری کے صاحب زادے فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چوہدری کی یومِ وفات ہے۔ سیسل چودھری پاک فضائیہ کے مشہور اور ماہِر لڑکا ہوا باز تھے اور ایک ایسے جانباز تھے جنہوں نے شجاعت کی ایک مثال قائم کی۔ آپ 27 اگست 1941ء کو ڈلوال تحصیل چوا سیدن شاہ ضلع چکوال پنجاب میں پیدا ہوئے۔
آپ جنگ ستمبر کے پہلے غازی اور معرکہ ہلواڑہ سے بچ کر آنے والے واحد ہوا باز تھے، آپ نے 1965ء اور 1971ء کی دونوں جنگوں میں دادِ شجاعت پائی۔ آپ نے 12 مارچ 1958ء کو پاک ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی۔ 1964ء میں آپ کی شادی آئرس چوہدری کے ساتھ ہوئی۔ اگلے ہی سال پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔
فلائیٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری 1965 کی جنگ میں پاکستان ائر فورس کے نمبر 5 سکواڈرن میں تھے۔ آپ نے دشمن پر انتہائی بے جگری سے تابڑ توڑ حملے کیے۔ 6 ستمبر 1965 کی شام کو سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کی قیادت میں ہلواڑہ کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا۔
6 ستمبر 1965 کو شام کے ملگجی اندھیرے میں تین شاہین دشمن کے ایک اہم مرکز پر حملہ کرنے روانہ ہوئے۔ ان کا لیڈر سکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی تھا جو دلیری میں اپنی مثال آپ تھا۔ اس کے ساتھی فلائٹ لیفٹننٹ یونس حسن اور فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری تھے۔
ان تینوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ موت کے منہ میں ہاتھ دینے جا رہے ہیں کیونکہ دشمن نہ صرف تعداد میں کئی گنا زیادہ تھا بلکہ اس کے جہاز اور اسلحہ بھی کہیں زیادہ بہتر تھا۔ بظاہر یہ شاہین اور ممولہ کا مقابلہ تھا تبھی تو دشمن کا خیال تھا کہ یہ سر زمین ان کے چند حملوں کی مار ہے۔ تاہم ہوا باز پرسکون تھے۔ وہ دشمن کے جدید طیاروں سے مرعوب تھے اور نہ ہی اسلحہ کی زیادتی سے فکرمند ، انھیں تو دشمن کو اس کی ناپاک جسارت کا دندان شکن جواب دینا تھا۔ وہ نیچی پرواز کرتے ہوئے دشمن کے علاقے میں جا گھسے تاہم اندھیرے اور بلیک آئوٹ کے باعث اپنا ہدف نہ ملا۔ انھوں نے واپسی کا ارادہ کیا مگر ابھی پلٹے نہ تھے کہ ان کے مقابل دشمن کے نصف درجن طیارے آ گئے۔
سیسل چودھری نے لیڈر کو اطلاع دی کہ دشمن ہمیں گھیر رہا ہے۔ سرفراز رفیقی نے کمال سکون سے جواب دیا: "فکر نہ کرو ہم ان سب کو چن چن کر ماریں گے۔” ان کی بات نے ان کے ساتھیوں کے حوصلے بلند کر دیئے اور جنگ سے پہلے جو ایک انجانا اعصابی دباو تھا وہ جوش و جذبے میں بدل گیا۔ انھوں نے واپسی کا ارادہ ترک کیا اور دشمن سے یہیں دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مقصد تو دشمن کی قوت کم کر کے اس کو جانی مالی اور بالخصوص نفسیاتی نقصان پہنچانا تھا۔
پاکستانی شاہینوں نے ابھی دو طیارے گرائے تھے کہ دشمن کے مزید آٹھ طیارے اپنے ساتھیوں کی مدد کے لئے آ پہنچے۔ پاکستانیوں کے تین قدیم سیبرز طیاروں کے مقابل دشمن کے درجن سے زائد جدید ترین مگ تھے۔ چند منٹ بعد آسمان بھی حیرت میں تھا کہ سیبرز نے مگز کو آگے لگایا ہوا تھا اور تاک تاک کر نشانہ لے رہے تھے کہ پاکستانی دستے کے لیڈر رفیقی کے جہاز کی گنیں جام ہو گئیں۔ اس موقع پر وہ واپس چلا جاتا تو وہ حق بجانب تھا مگر وہ پاکستانی شاہیں تھا۔ اپنے ساتھیوں کو مشکل میں چھوڑنا اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔ لڑائی میں دوسرے پر حملہ کرنے کی نسبت اپنا دفاع کرنا اور جہاز بچانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ وہ سیسل چودھری کے جہاز کے عقب پر آ گیا تا کہ کوئی اس پر بے خبری میں حملہ نہ کر دے اور انھیں ہدایات دینا شروع کر دیں۔ باقی ساتھیوں نے ایک ایک کر کے جہازوں کو نرغے میں لے کر گرانا شروع کر دیا ۔ اسی لڑائی میں لیڈر پیچھے رہ گیا اور دشمن طیاروں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں ہوا بازوں نے اپنے لیڈر کو شہید ہوتے دیکھا تو وہ غصے اور انتقام کی آگ میں جلنے لگے۔ انھوں نے پھر دشمن طیاروں کو گھیر گھیر کر گرانا شروع کر دیا۔ نصف درجن سے زیادہ جہازوں کا صفایا کیا۔ اسی دوران دشمن کا ایک بم خواجہ یونس کے طیارے کو لگا اور وہ بھی مادرِ وطن پر نثار ہو کر اپنے لیڈر سے جا ملے۔
فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری اکیلے ہوئے تو دشمن کو جل دیتے ہوئے واپس آ گئے۔ دشمن کی سر زمین پاکستانی شہیدوں کے لہو سے سرخ ہوئی۔
شہیدوں کا لہو رائیگاں نہیں گیا۔ 6 ستمبر 1965 کی شام کا یہ معرکہ فضائی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ جہاں سیبرز نے مگ جہازوں کو تگنی کا ناچ نچایا اور نصف درجن سے زائد طیارے زمین بوس بھی کیے۔
اس سے پاکستان ائیر فورس کا رعب دشمن پر قائم ہو گیا اور رہی سہی کسر اگلے روز 7 ستمبر 1965 کو چند سیکنڈ میں پانچ طیارے مار کر ایم ایم عالم نے پوری کر دی۔ اس کے بعد فضا میں پاکستان کی بالا دستی آخر تک قائم رہی اور پاک فضائیہ نے بری افواج کی بھی بوقت ضرورت مدد کی۔
اسی طرح 11 ستمبر 1965 کو ونگ کمانڈر انور شمیم (فضائیہ کے سابق سربراہ) کے ہمراہ امرتسر کے ریڈیو اسٹیشن پر کامیاب حملہ کیا۔
15 ستمبر 1965 کو زمینی راڈار سے نا کافی اطلاع کے باوجود اپنے بیس سے ڈیڑھ سو میل تک دشمن کا تعاقب کیا اور ایک کینبرا طیارہ مار گرایا ۔
جنگ ستمبر میں ہی ایک مرتبہ بھارت کی فضا میں لڑے جانے والے ایک معرکے میں سیسل چوہدری کے جہاز کا ایندھن بہت کم رہ گیا۔ سرگودھا ائیر بیس تک واپسی ناممکن تھی۔ جہاز کو محفوظ علاقے میں لے جا کر اس سے پیراشوٹ کے ذریعے نکلا جا سکتا تھا مگر ایک ایک جہاز پاکستان کے لئے قیمتی تھا۔ حاضر دماغ سیسل نے ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ وہ بچے کھچے ایندھن کی مدد سے جہاز کو انتہائی بلندی تک لے گئے اور پھر اسے گلائیڈ کرتے ہوئے سرگودھا اتار دیا۔ اس سے پہلے کسی پاکستانی ہوا باز نے جنگی جہاز کو گلائیڈ نہیں کیا تھا۔
دوران جنگ آپ کی خدمات آپ کی ذمہ داریوں سے بڑھ کر تھیں۔ آپ کی جرأت و شجاعت کی وجہ سے حکومت پاکستان نے آپ کو ستارہ جرأت کے اعزاز سے نوازا ۔
1971 کی جنگ میں سیسل چودھری نے اسکواڈرن لیڈر کی حیثیت سے حصہ لیا۔
1971 میں سکواڈرن لیڈر سیسل چوہدری جب جنگ کے لئے سرگودھا ائیر بیس کا رخ کر رہے تھے تو ان کی بیوی آئرس نے سیسل سے بہت محتاط رہنے کے لئے کہا۔ اس وقت تک ان کے گھر میں خدا نے تین ننھی بیٹیوں کا اضافہ کر دیا تھا۔ سیسل نے جواب دیا کہ وہ یہ جنگ صرف اپنی تین بیٹیوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے وطن کی ہزاروں بیٹیوں کے لئے لڑیں گے۔
1971 کی جنگ میں بھارتی حدود میں ایک مشن کے دوران سیسل چوہدری کے جہاز میں آگ لگ گئی۔ سیسل چودھری نے پیراشوٹ کی مدد سے چھلانگ لگا دی اور عین پاک بھارت سرحد پر بارودی سرنگوں کے میدان میں اترے۔ انہیں پاکستانی مورچوں تک پہنچنے کے لئے محض تین سو گز کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ سیسل نے بعد میں اپنے بچوں کو بتایا کہ اس علاقے سے ان کا زندہ نکل آنا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ پاکستانی فوجیوں نے انہیں فوراً ہسپتال پہنچا دیا کیونکہ ان کی چار پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کرنے کا حکم دیا مگر وہ اپنے بھائی کی مدد سے رات کی تاریکی میں ہسپتال سے فرار ہو کر اپنے بیس پہنچ گئے۔ اس کے بعد ان ٹوٹی ہوئی پسلیوں کا درد سہتے ہوئے سیسل چوہدری نے 14 فضائی معرکوں میں حصہ لیا۔ اس مرتبہ انہیں ستارہ بسالت دیا گیا۔
جنگ کے بعد 1979 تک سیسل چوہدری مختلف علاقوں میں تعینات رہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے سب سے اعلی فضائی بیڑے کی سربراہی بھی کی۔ وہ کومبیٹ کمانڈر سکول کے سربراہ بھی رہے۔ 1978 کے آخر میں سیسل چوہدری کو برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے میں ملٹری اتاشی بنا کر بھیجا گیا۔ سیسل وہاں پہنچ گئے لیکن ان کے خاندان کے روانہ ہونے سے پہلے ہی پاک فضائیہ کے سربراہ نے سیسل کو واپس بلا لیا اور ان کو بتایا گیا کہ جنرل ضیاالحق نے ان کی تعیناتی کو منسوخ کر دیا ہے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ جنرل ضیاالحق کا خیال تھا کہ یہ عہدہ بہت ہی حساس ہے اور اسے ایک مسیحی کو سونپ دینا مناسب نہیں ہو گا۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بہادری کا کوئی تمغہ نہ پانے والے ضیاالحق کو اس شخص کی پاکستان سے وفاداری پر شک تھا جو دونوں جنگوں میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کے لئے لڑا تھا۔
ستمبر 1979 میں سیسل چوہدری ڈیپوٹیشن پر عراق چلے گئے اور عراقی ہوا بازوں کو تربیت دینے لگے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو عراق کا سب سے بڑا غیر فوجی اعزاز دیا گیا۔ 1981 میں مدت پوری ہونے پر عراقی صدر صدام حسین نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ سیسل چوہدری کے قیام میں توسیع کر دی جائے۔ اس طرح 1982 میں وہ واپس آئے۔ انہیں عراقی فضائیہ میں بطور مشیر مستقل ملازمت کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔
عراق سے واپسی پر سیسل چوہدری کی اعلی عہدے پر ترقی متوقع تھی لیکن سیسل کو احساس ہوا کہ مذہب کو بنیاد بنا کر ان کی ترقی کو روک دیا گیا ہے اور ان سے کم قابلیت رکھنے والوں کو ان سے اوپر ترقی دے دی گئی ہے۔ 1986 میں ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ سیسل چوہدری نے پاک فضائیہ سے استعفی دے دیا۔
فضائیہ کے بعد آپ کیتھڈرل سکول ہال روڈ سے منسلک رہے۔ فلائیٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری نے پاک فضائیہ کو خیر باد کہنے کے بعد لاہور میں سینٹ انتھونی سکول قائم کیا اور تدریس سے وابستہ ہوئے۔
بہادر سیسل کو ستارہ جرأت و تمغہ جرأت سے نوازا گیا۔ عنایت اللہ نے ان پر ایک مضمون بھی اپنی کِتاب میں درج کیا۔
پھیپڑوں کے سرطان کی وجہ سے 13 اپریل 2012ء کو 70 سال کی عمر میں لاہور میں اُن کا انتقال ہوا۔ اور آپ گورا قبرستان میں دفن ہوئے۔
سیسل چوہدری کے بیٹے سیسل شین چوہدری بتاتے ہیں کہ ان کے بچپن کی کتابوں میں 65 اور 71 کی جنگوں کے دوسرے ہیروز کے ساتھ سیسل چوہدری کا نام بھی لیا جاتا تھا۔ ان پر بھی نصابی اسباق موجود تھے۔ مگر رفتہ رفتہ وہ ختم کر دیے گئے۔ سیسل شین چوہدری کہتے ہیں کہ غیر مسلم ہیروز کو بھی مسلم ہیروز کے ساتھ نصاب کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان سے ان کی محبت کسی دوسرے شہری سے کم نہیں ہے اور پاکستانی بچوں کو ان کی پاکستان کے لئے قربانیوں کا علم ہونا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button