کالم و مضامین

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی !

تحریر، محمد عزیر علی شاہ

حرمت رسول بھی امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں رہا شاید صرف لبیک والوں کا ذمہ ہے اور مسلمان اور عوام بھی الگ الگ ہیں کیونکہ مسلمانوں کے احتجاج سے عوام پریشان ہے.

انتشار پسندوں اور مار دھاڑ کرنے والوں کو پھانسی دو یا سرعام گردن اڑا دو لیکن ضمیر کو اتنا تو جگاۓ رکھو کہ نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں سے جنگ نہیں کر سکتے تو قطع تعلق ہی کر لو. لیکن ہم یورپی یونین سے بھیک لے لے کر اتنے مردار ہو چکے ہیں کہ حرمت رسول ﷺ کی خاطر قطع تعلق بھی نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم ان کے مقروض اور بھکاری قوم ہیں. اور یورپی یونین سے آسیہ ملعونہ کو فرار کروانے کے عوض بھی 9.2 ملین ڈالر کی بھیک لی گئی جو ہم واپس نہیں کر سکتے. ہماری ریاست اور حکومت کو یورپی یونین کی بھیک اتنا بے بس کر چکی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں بار بار گستاخی کرتے رہیں تو بھی ہماری مجال نہیں کہ ہم چوں بھی کر سکیں.

ریاست مدینہ کا راگ الاپنے والا عمران نیازی اور ماضی میں لبیک کے ساتھ حرمت رسول ﷺ کا کریڈٹ لینے والا شیخ رشید آج کہتا ہے کہ ہم انتہا پسندی کے تاثر سے بچنا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھکاری ریاست میں اتنا دم خم ہی نہیں کہ سر بلند کر کہ حرمت رسول ﷺ کی خاطر فرانس یا یورپی یونین سے بات کر سکیں. وہ عزت اور تشخص کی بات کرتے اچھے نہیں لگتے جنہیں رسول اللہ ﷺ کی حرمت کا پاس نہ ہو.

اب آ جائیں مار دھاڑ, انتشار اور توڑ پھوڑ کی جانب تو اس کی جتنی مذمت کی جاۓ کم ہے. ہم بحیثیت قوم آج تک احتجاج کرنا بھی نہ سیکھ سکے یہ المیہ ہے. اور ایک المیہ یہ ہے کہ جب احتجاج سیاسی جمہوری پارٹیوں کا ہو تو دھرنے, لاک ڈاؤن, ہڑتال, راستے بند, توڑ پھوڑ, مار دھاڑ سب جمہوریت کی شان ٹھہرتا ہے, نام ہمیشہ پرامن احتجاج کا لیا جاتا ہے لیکن آج تک کسی بھی جماعت کا احتجاج کبھی پرامن نہیں رہا, چاہے وہ عمران نیازی کا دھرنا ہو, آزادی مارچ ہو, لاک ڈاؤن ہو, ججز بحالی تحریک ہو یا کسی لیڈر کی عدالت طلبی پر احتجاج ہو یہ پتھراؤ, لاٹھی چارج جلاؤ گھیراؤ, پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ جمہوریت کا حسن ٹھہراۓ جاتے ہیں, لیڈر کسی کا بچہ گاڑی کے نیچے کچل دے تو اس بے چارے کو شہید جمہوریت کا تمغہ دے کر اس کے قاتل فخریہ گھومتے ہیں. لیکن جب بھی مذہبی احتجاج کا معاملہ ہو اس پر خود دہشت گردی کی چھاپ لگا دی جاتی ہے. مذہب اور حرمت رسول ﷺ کسی پارٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور جہالت ہماری عوام کا خاصہ ہے انہیں جب اور جہاں اپنا غصہ نکالنے کا موقع ملتا ہے یہ نکل پڑتے ہیں بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ احتجاج میں بیرونی طاقتیں انتشار پسندوں کو داخل کر دیتی ہیں. اور سانحہ 12 مئی کی طرح اسکا ذمہ دار کوئی بھی نہیں ٹھہرتا لیکن پھر وہی بات کہ 12 مئی سیاسی سانحہ تھا جب کہ حرمت رسول ﷺ مذہبی اور ایمانی مسئلہ ہے لحاظہ اس میں لیڈرشپ کی جانب سے انتشار پھیلانے کی کال ہو نہ ہو ذمہ دار کا چاہے پارٹی سے تعلق ہو نہ ہو ساری ذمہ داری لیڈرشپ پر ہی ہو گی. یہاں تو لبیک کی جانب سے کسی توڑ پھوڑ کی کال تھی ہی نہیں لیکن شیخ رشید اور عمران نیازی تو سٹیج پر کھڑے ہو کر جلاؤ گھیراؤ کے نعرے لگاتے رہے ہیں لیکن سیاسی دہشت گردوں کے لیے عام معافی ہے چاہے ان کے کال ریکارڈ بھی مل جائیں. معاملہ براڈ شیٹ اور فارن فنڈنگ کا ہو یا پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملے کا لیڈرشپ کبھی قصور وار نہیں ہوتی ملبہ ایجنٹوں اور نامعلوم افراد پہ ڈال دیا جاتا ہے. بلکہ انکے تو بینک اکاؤنٹ بھی مالی اور ڈرائیور کے نام پہ چلتے ہیں سارے ثبوت بھی ہوں تو ان سیاسی دہشت گردوں پہ کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا.

سانحہ بلدیہ میں 250 لوگ زندہ جلا دیے جائیں, سانحہ ساہیوال ہو یا ماڈل ٹاؤن یا پولیس صلاح الدین جیسے زہنی مریض کو تشدد کر کے ہلاک کر دے کسی دہشت گرد پہ کبھی آنچ نہیں آۓ گی بلکہ ماضی میں چاہے کوئی ایم کیو ایم جیسی دہشت گرد جماعت ہو, کوئی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہو یا کوئی چپڑاسی رکھے جانے کے قابل نہ ہو ضرورت پڑنے پر حکومت بنانے کی خاطر انہیں گلے بھی لگایا جاتا ہے اور گدھوں کو باپ بھی بنایا جاتا ہے. یہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن یہاں سیاست اور مذہب دو الگ موضوع بن چکے ہیں مذہبی جماعت سیاست کرے تو دہشت گردی کی چھاپ لازم ہے اور سیاسی جماعت دہشت گردی کرے تو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاۓ گا.مذہبی جماعت کا پرامن احتجاج بھی ہو تو میڈیا کوریج کے لیے آزاد نہیں ہے جبکہ سیاسی ڈاکوؤں کو ان کے ہر تماشے کی کوریج دینا لازم ہے کہ اسی سے تو بوسٹ ملتا ہے. یہ لوٹے, لٹیرے, چور ڈاکو کرپٹ اور منافق سیاست دان کبھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے یہاں خونی انقلاب ہی آ کر رہے گا.
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button