کالم و مضامین

سرگودھا انتظامیہ اورمیری جوتی میں لگا گوبر

آج رکشہ والے نے ذرا دور ہی اتار دیا، گلی میں پیدل چل کر گھر تک پہنچنا ایک عذاب سے کم نا تھا گلی کی نکڑ پر بنا بھینسوں کا باڑا میری اچھی خاصی ڈریسنگ کےباوجود میری پرسنلٹی پر پانی پھیر دیتا تھا جب اکثر ڈیوٹی سے واپسی پر رکشہ والا نکڑ پر ہی اتر جانے پر مجبور کرتا اور گلی کا راستہ خراب ہونے کا شکوہ کرتا تھا. آج تو حد ہی ہو گئ جب بچتے بچاتے آخر میرا پاؤں گوبر میں جا لگا اور پاس کھڑے بچے ہنسنے لگے اس وقت بہت غصہ آیا اپنی انتظامیہ کی نا اہلی پر کہ عوام کے لیے خدمت کا ڈراما رچانے والی یہ سرگودھا انتظامیہ جب کوئی نئی پالیسی لانچ کرتی ہے تو اس پر زبردستی عمل کروانے کے لیے ڈنڈے سوٹے کا استعمال کرتی ہے لیکن کچھ عرصہ بعد مک مکا کر کے ٹھنڈی ہو کر بیٹھ جاتی ہے اور پھر نئے پلان بنا کر عوام کے لیے نیا خدمت ڈرامہ رچایا جاتا ہے کبھی نا جائز تجاوزات کے نام پر کبھی کرونا ایس او پیز کے نام پر تو کبھی سستا ریڑھی بازار لگا کر جبکہ اصل مقصد کبھی حاصل نہیں ہو پاتا بس افتتاح اور فوٹو سیشن تک انتظامیہ کی دوڑ لگتی ہے اور عوام کا جینا حرام کیا جاتا ہے.کچھ عرصہ پہلے بنائی گئ۔
گوالا کالونی آج تک آباد نا ہو سکی مجھے یاد ہے جب بھینسوں کو ڈنڈے سوٹے مار مار کر شہر سے باہر بھگایا جا رہا تھا اور گوالوں کی تعمیرات مسمار کی جا رہی تھیں اور بھاری جرمانے کر کے اچھا خاصہ ریونیو اکٹھا کیا جا رہا تھا لیکن وہاں لگا پیسہ سہولتیں شاید دکھاوا تھی اور سرگودھا شہر کو بھینسو ں سے آزاد کروانے میں آج تک انتظامیہ فیل ہے جس کا ثبوت میرے پیر میں لگا گوبر آج انتظامیہ کو کوسنے پر مجبور ہے.
اس کے علاوہ اردو بازار 3 بلاک میں انکروچمنٹ کے نام پر ہر دوسرے روز ظلم کی انتہا دیکھی جاتی ہے… جی ہاں میں تو اسے ظلم ہی کہوں گی کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کے ایجنڈا میں انصاف کسی امیر غریب سے بالا تر ہو کر کیا جانا چاہیے. ناجائز تجاوز ات صرف بازار میں موجود دہاڑی دار طبقہ کو ذلیل وخوار کرنے کا ہی نام ہے میں پوچھنا چاہتی ہوں اس نا اہل انتظامیہ سے کہ بازار میں ناجائز تجاوزات ہی کیوں انتظامیہ کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں. جبکہ 29 بلاک، 32 بلاک 25،26، 27 بلاک واتر سپلائی مین روڈ، پٹھہ مندی روڈ اور اسکے علاوہ شہری علاقوں میں جو کئ کئ فٹ بلکہ مرلہ کے حساب سے عوامی سڑکوں اور گلی محلوں کے راستوں پر پکی تعمیرات کر کے کسی نواب زادے امیر نے لان بنایا ہوا ہے تو کسی نے اپنی کار کے لیے پورچ کسی نے سائیکل سٹینڈ اور شام کے وقت اہم شاہرا ہوں کا جو حال ہوتا ہے اور عوام کا جمِ غفیر ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتا پایا جاتا ہے وہ شاید کسی کو نظر نہیں آتا تب شاید انھیرا زیادہ ہوتا ہے یا سرکاری ملازموں کی ڈیوٹی ٹائم ختم ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا وہاں سے انتظامیہ کو اچھا خاصا ریوینیو ملتا ہو گا جس کی وجہ سے سرگودھا انتطامیہ کا عملہ آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر پھرتا ہے اور نظر آتے ہیں تو اردو بازار میں لگے دہاڑی داروں کے ٹھیلے اور ریڑھیاں.
اب آتے ہیں عوام کو صاف ستھری اشیا خورد نوش کی بآسانی دستیابی اور پرائس کنٹرول ڈرامہ کی طرف جس سے ہمیشہ جرمانے کر کے افسری روب دکھا کر مزدور طبقہ کا سستا بازار کے نام پر استحصال کیا جاتا ہے اور نا آج تک پرائس کنٹرول کی جا سکی ہے نا اعلیٰ معیاری اشیا خورد نوش کی دستیابی آسان بنائی جا سکی ہے.کیونکہ بغیر کسی پلان کے جرمانے کرنے نکل جانے سے کچھ نہیں ہنے والااس کے علاوہ اب حالیہ کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد اور لاک ڈاؤن ڈرامہ کی طرف، جو کہ ایک طرف عوام کو صفائی ستھرائی پر لیکچر دیتے دکھایی دیتے ہیں تو دوسری طرف اپنی پرفامنس زیرو کیے بیٹھے ہیں جگہ جگہ گندگی اور سیورج کے مسائل نے کرونا سے بھی زیادہ خطرناک بیماریاں پھیلا رکھی ہیں جن میں ڈائیریا اور سانس کی بیماری سرِ فہرست ہیں.ایس او پیز پر عمل کروانے کے بجائے انتطامیہ کی طرف سے لگائے جانے والے سستا آٹا سٹال آ کرونا ہمیں مار والا نعرہ لگاتے پائے جاتے ہیں اور کمپنی باغ 12 بلاک زمزم چوک عوام کی لگی لمبی قطاریں اور 6 فٹ فاصلہ کے بجائے ایک دوسرے پر چڑ ھائی کرتے مرد و زن کسی کو دکھائی نہیں دیتے کیونکہ وہاں سے سستا آٹا کے نام پر انتظامیہ ریونیوں جنریٹ کرتی پائی جاتی ہے اور یہ ہی حال اب رمضان بازار میں دیکھنے کو ملے گا.انتظامیہ کی نا اہلی کا اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہزاروں کنال کے پڑے خالی گراؤنڈز کے بجائے شاہین چوک کی مصروف ترین دو رویا سڑک کو بند کر کے وہاں رمضان بازار لگا کر عوام کے مسائل میں اضافہ کر دیا گیا ہے جہان ایس او پیز صرف دکھا وا ہی ہیں. ان سب مسائل کاذکر کرنا صرف دل ہلکا کر نا تھا اور اپنی جوتی پر لگے گوبر کی وجہ سے انتظامیہ پر بھڑاس نکالنا تھا کیونکہ مجھے علم ہے نا میری سنی جانی ہے نا مانی جانی ہے مجھے کل پھر رکشہ سے اسی گلی کی نکر پر اترنا تھا اور اسی گوبر سے جوتی بھرنا تھی…. انتظامیہ تو آج کل رمضان بازار میں مصروف نظر آتی ہے لیکن شاید کہ بعد از رمضان اسے پھر سے گوالہ کالونی کی آبادکاری کا خیال آ جائے اور ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جائے جس میں نا صرف شہر کے گلی کوچوں میں چھپی بلکہ انتظامیہ میں چھپی کا لی بھینسوں کو بھی نکال باہر کیا جائے تاکہ نا کسی کی وردی گندی ہو گوبر سے اور نا کسی کا جوتا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button