کالم و مضامین

اللہ حکمرانوں کی بے بسی،لاچارگی اور دنیاوی مفادات کا لالچ دور کرے!

محمد عزیر علی شاہ

جب کشمیر, فلسطین بوسنیا, چیچنیا اور روہنگیا یا کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو ہم اپنے ملک میں احتجاج کیوں کرتے ہیں بلکہ اکثر احتجاج تو سرکاری سطح پر کیے جاتے ہیں جیسے پچھلے 72 سال میں کشمیر کے لیے کتنے ہی احتجاج ہوۓ اور موجودہ حکومت میں تو کرفیو کے دن گننے سے معاملہ شروع ہوا اور جمعے کے جمعے احتجاج سے ہوتا ہوا آخر کار ختم ہو گیا. کیا اس احتجاج سے مسئلہ کشمیر حل ہو گیا یا کشمیریوں پہ ہوتے ظلم میں کوئی کمی آئی ؟ کیا وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی اچھی تقریریں کشمیریوں یا امت مسلمہ کے کسی کام آ سکیں ؟
کاش کے دنیا پہ اس سب احتجاج اور تقریروں کا کوئی فرق پڑا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی احتجاج سرکاری سطح پر کیا گیا کیوں ؟
بلکہ احتجاج کے علاوہ فوجوں کی سرحدی دفاعی کاروائیاں اور حافظ سعید یا طالبان کو ساتھ ملا کر کھیلنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا لیکن سرکاری سطح کے اقدامات شمار ہوۓ. لیکن کشمیر ہو یا باقی امت پہ ظلم کا مسئلہ یہ سیاسی مسائل سمجھے جاتے ہیں جہاں بات آتی ہے دین کی, حرمت رسول کی, گستاخوں کی سرکوبی کے مطالبے کی وہاں اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان اور موجودہ ریاست مدینہ ثانی میں احتجاج دہشت گردی, بے وقوفی, اپنا نقصان, اپنے گھر کو آگ لگانے کے مترادف اور انتہا پسندی شمار کیا جاتا ہے. ہمارا کلچر ہے کہ اس وقت تک حکمرانوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی جب تک ان کی حکمرانی میں خلل نہ پڑے. پچھلے چھ مہینے سے توہین آمیز خاکوں کا مسئلہ امت مسلمہ کے دل چیر رہا ہے لیکن مجال ہے کہیں سے کوئی آواز اٹھی ہو یا کوئی حل نکالا گیا ہو. پوری امت مسلمہ اپنی بے بسی و بے کسی, لاچارگی میں عشق رسول میں سلگ رہی ہے لیکن مجال ہے کہیں کوئی موثر آواز اٹھائی گئی ہو بلکہ مٹی ڈالنے اور وقت کے ساتھ بھلا دینے والا معاملہ چل رہا تھا. ایسی بے بسی, لاچارگی میں ایک جماعت عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اٹھتی ہے اور اپنے حکمرانوں سے فرانس کا سفیر واپس بھیج کر احتجاج ریکارڈ کروانے کا مطالبہ کرتی ہے. کوئی انتہا پسند قدم نہیں اٹھاتی بلکہ حکومت وقت کے سامنے اپنا مطالبہ رکھ کر چھ مہینے انتظار کرتی ہے لیکن حاکم وقت ٹال مٹول سے کام لیتے ہوۓ آخر کار دنیاوی فائدے اور نقصان گنواتے ہوۓ اپنے عہد سے پھر جاتی ہے تو پھر اس جماعت کے پاس کیا چارہ ہو ؟ یہ امت لاچار اور المیہ کہ امت کے حاکم بے بس و بے کس و لاچار اور دنیاوی مفادات کے مارے ہوۓ. دین کہے کہ وہ مومن ہی نہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی ہر شہ سے بڑھ کر عزیز نہ ہوں اور حاکم کہے کہ عشق رسول میں قدم اٹھایا تو دنیاوی نقصان ہو جاۓ گا. امت بے بس, حاکم بے بس یا بے ضمیر تو پھر امت کے پاس حل کیا ہے ؟
حال ہی میں جاوید چوہدری کا ایک کالم پڑھا جس میں ایک بے بس کمزور چاچا چنڈ اور اس کی بہن کی مثال دی گئی کہ وہ شخص چاچا چنڈ کہنے سے جلتا تھا اور لوگوں کے چھیڑنے پر اپنے آپ کو ہی مارنے لگتا تھا.
میں متفق نہیں جن لاوارث بہن بھائی کا حوالہ دے کر ساری کہانی گھڑی ہے اگر اس منتق پہ جائیں تو پاکستان خود کو لاوارث تصور کر لے, اپنی گنتی دنیا کی بہترین افواج میں کرنا چھوڑ دے, آئی ایس آئی کو نمبر 1 کہلوانا چھوڑ دے اور خود کو امت مسلمہ کا لیڈر کہنا چھوڑ دے. ہمارا احتجاج فرانس یا دشمن قوتوں سے ذیادہ اپنی ریاست اور حکومت کے خلاف اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہمارے حکمران مردہ ضمیر بلکہ ضمیر فروش ہیں. ان کو جب تک جھنجھوڑا نہ جاۓ انہیں ہوش نہیں آتا. یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مسلمان پہلے ہیں اور پاکستانی بعد میں ہیں. یہ دین محمدی سرحدوں کا محتاج نہیں بلکہ دنیا پر چھا جانے کے لیے ہے. اور وہ مومن ہو ہی نہیں سکتا جسے رسول اللہ دنیا کی ہر شہ سے بڑھ کر عزیز نہ ہوں. تو جب رسول اللہ کی بے حرمتی ہو اور مسلم حکمران سوۓ رہیں تو عوام بے بسی کے عالم میں اپنے منہ پر تھپڑ بھی مارے گی اور جہاں ان کو موقع ملے گا غصہ نکالے گی. ان کو رسول اللہ اپنی ٹریڈ اور ایکسپورٹ سے بڑھ کر عزیز دکھائی نہیں دیتے, بلکہ جب وقت پڑتا ہے تو یہ ریاست کے اندرونی مجرموں کو غیروں کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں بلکہ فروخت بھی کیا آسیہ ملعونہ جیسی کو بھگا کر 9.2 ملین ڈالر کی بھیک یورپی یونین سے وصول کرتے ہیں. لاکھ اچھے کام کرو کلمہ گو نہیں تو مسلمان نہیں کہلواؤ گے اور لاکھ برے صحیح اگر کلمہ گو ہو تو مسلم کہلواؤ گے. مسلمان ہونے کے لیے پہلے کلمہ پڑھا جاتا ہے جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہ ایمان لانے اور اللہ اور اس کے رسول کے دیے ہوۓ دین کو درست تسلیم کرنے کا نام ہے. درست تسلیم کرنے کے بعد عمل کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور اس دنیا میں سبھی انسان بستے ہیں فرشتہ کوئی نہیں. ایک وہ لوگ ہیں جو گناہ پہ ڈٹ جاتے ہیں اور غلط کو درست ماننے لگتے ہیں, ایک وہ ہیں جو گناہ کریں تو پشیمان ہوتے ہیں, کچھ گناہ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اب میں تناسب کے چکر میں نہیں پڑتا بلکہ معیار کی بات کرتا ہوں کہ غلط اور صحیح, گناہ اور ثواب کو پرکھنے کا پیمانہ کیا ہے تو جواب ہے دین محمدی اور دین محمدی سے ہمیں تعلیم ملتی ہے کہ اگر اسلام کے مطابق زندگی گزارنا مشکل ہو جاۓ تو ہجرت مدینہ کی جاتی ہے اور صفیں درست کر کے مکہ فتح کیا جاتا ہے لیکن اسلام میں جمود نہیں ہے فروغ ہی فروغ ہے. پیش قدمی ہے پیچھے جانے کا کوئی سبق نہیں ہے. اس وقت امت کا جو حال ہے, کشمیر, فلسطین, بوسنیا, چیچنیا, روہنگیا, عراق جہاں دیکھو امت ذوال پذیر ہے, بے بسی و بے کسی کا عالم ہے اور اس بے بسی کو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جسے دین محمدی کا پاس ہو, جسے روز جزا پہ یقین ہو, جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت بھی ہو اور خوف بھی ہو. ہمارے ہر مسئلے کا حل اور زندگی گزارنے کے ضابطے دین میں موجود ہیں. دین میں سود کا کم تر گناہ اپنی ماں سے زنا کرنے کے برابر ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ قرار دیا گیا ہے لیکن ہم وہ قوم بن چکے جنہیں اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا کبھی کوئی خوف نہیں ہوا بلکہ دنیاوی لالچ دولت, دشمن کے خوف کی پرواہ ہے. دنیا کی ہوس ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی. کاش کہ بے کسی اور بے بسی امت کے لیڈر محسوس کر سکیں تو لوگ اپنے چہروں پہ تمانچے نہ ماریں. میں نے موجودہ حالات میں لوگوں کو دوسرا رخ اور دوسرا موقف دکھایا تو لوگوں نے مجھے لبیک کا ورکر سمجھا لیکن میں تو ایک عام سا مسلمان ہوں عاشق رسول ہوں اور امت اور حاکموں کو بے بسی بے کسی, لاچارگی کے فوبیہ سے نکالنا چاہتا ہوں کہ ہمت کریں اور حق پر ہوں تو بے سرو سامان 313 بھی اپنے سے 4 گناہ بڑے لشکر پہ فتح حاصل کرتے ہیں کیوں کہ سب سے بڑی ذات اللہ کی ہے اور سب کچھ اسی کے تابع ہے. یہی تو پہلا کلمہ ہے. اگر لعنت بھیجنے سے کوئی فرق نہ پڑتا تو قرآن و حدیث میں اللہ اور اس کے رسول کی لعنت کسی پر نہ ہوتی. تو کم از کم احتجاج کرو.
اللہ اس امت اور اس کے حکمرانوں کی بے بسی اور لاچارگی اور دنیاوی مفادات کا لالچ دور کرے آمین

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button