کالم و مضامین

ضلع قصور رپورٹر کی آنکھ سے

حکومتی کارکردگی کادارومدار اضلاع میں تعینات افیسرز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر منحصر ہوتاہے باقی رہی بات سرکاری پیغام رساں ایجنسیوں کی تو ان کی اپنی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لینا موجودہ صورتحال میں انتہائی لازم ہوگیاہے۔ اس کے پیچھے بہت طویل کہانی ہے آنے والے دنوں میں وقفے وقفے سے سامنے لانے کی سعی ہوگی۔انتظامیہ کی کارکردگی کو غیرجانبدارانہ انداز میں ہی دیکھنا پروفیشنل صحافی کاپیشہ وارانہ فرض ہے نہ کہ پسند نہ پسند اور مفادات کو سامنے رکھ کر تعریف وتنقید کے جام پینے و پلانا۔رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے۔سستے بازاروں کو رمضان بازاروں میں تبدیل کیاگیاہے۔رمضان بازاروں کا حال وہی ہے جو شہباز سپیڈ کے دور میں تھا۔ بہت ہی معززوبااثر افسران کے الفاظ رقم کروں گا ”یہ سب ڈرامہ ہے۔ اکیلے ٹینٹ ہی مان نہیں ہیں بوگس بل ڈکارنے میں باقی تو پھر بھول جائیں یا رات گئی بات گئی سمجھ لیں“۔ڈپٹی کمشنر صاحبہ کو چاہیے کہ باقی ضلع بھر کے رمضان بازاروں کا بھی وزٹ کرلیں، عام مارکیٹس میں سپر سٹورز کو چھوڑ کر کریانہ مرچنٹ کے دوکانداروں کی اصلی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی آپ کے فرائض میں شامل ہے۔یقیناوزٹ کرنے سے آئینہ صحیح حقائق دکھائے گا۔عام مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کے ریٹس کیاہیں اور عام مزدور کی قوت خرید کیاہے اس سے اندازہ ہوجائے گا۔ صفائی ستھرائی کی صورتحال ضلعی ہیڈ کوارٹر میں ہی ابتر ہے تب باقی ماندہ ضلع کی صورتحال بھی گھمبیر ہے۔گستاخی معاف جو آفیسر اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹر کی صفائی ستھرائی بہترانداز میں نہیں کرواسکتاہے وہ باقی ضلع میں کیا گل کھلائے گا اس بات کا فیصلہ قارئین خود ہی کریں گے۔ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائیاں لائق تحسین ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنرز بھی طریقہ سیکھ چکے ہیں کیسے واٹس ایپ پر فوٹوسیشن کو زراتگڑے انداز میں چلاناہے کارکردگی چاہے چلے یا نہ چلے۔وزٹس سرپرائز ہونے چاہیے نہ کہ مینج شدہ۔ماضی قریب میں سابق 02 خاتون ڈپٹی کمشنرز محترمہ عمارہ خاں اور سائرہ عمر صاحبہ کے وزٹس کے بعد پتہ چلتاتھا کہ انتظامی مشینری میں ہلچل کے ساتھ بہتری آئی ہے۔اب آتے ہیں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی طرف تو سابقہ سی ای او ڈاکٹر نذیر صاحب کی گرفت بھی کمال کی تھی ہر لحاظ سے،موجودہ سی ای او ڈاکٹر جاویداقبال صاحب ذرا سیدھے اور شریف انسان ہیں لیکن میری پولیوویکسینشن مسنگ کیسز کی رپورٹنگ کے بعد بہت ایکٹیوہوئے ہیں۔ پولیو کے مائیکروپلانز کے علاوہ نئے نقشہ جات کی تیاری وحال ہی میں ہونے والی پولیوکمپیئن میں ان کے ہمراہ سابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر مبشرلطیف کی کارکردگی میں اچھی خاصی بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ہسپتالوں کی کارکردگی کے حوالے سے ان کے متعدد دوروں نے یہ ثابت کیا کہ وہ اتنے بھی شریف نہیں ہیں جتنا ان کو سمجھ لیاگیاہے۔اس کا ثبوت ان کی وزٹس کی رپورٹس دیکھنے کے بعد ملاہے۔ چیخیں نکلوادیں سٹاف کی کارکردگی کی۔ڈیولپمنٹ کے کاموں میں پتوکی ٹی ایچ کیو میں ٹراماسنٹر اور چونیاں میں سرجیکل وارڈ کا قیام انتہائی احسن اقدام ہے۔ ڈی ایچ کیومیں ڈاکٹر لائیق کی کارکردگی اوورآل بہترہے مگر کچھ ملازمین کی سنیارٹی وائز پوسٹنگ کے معاملات کاازسرنو جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے جو اہم سیٹوں پر تعینات ہیں۔ ضلع بھر میں کروناء وائرس کے ویکسین سنٹرز کا قیام بلا رکاوٹ شہریوں کی رسائی بلاشبہ ڈپٹی کمشنر،سی ای او ہیلتھ اور تمام Ddho,s کی اچھی کارکردگی کا مظہر ہے۔اہم بات تمام ہسپتالوں میں سٹاف کی حاضری کا سسٹم زرا کمزور ہے اس پر توجہ دینے کی ازحد ضرورت ہے۔آخر پر دیگر ڈیپارٹمنٹس کی باری آتی ہے تو چونکہ عید قریب ہے محکمہ لیبر کی کارکردگی کو بہتر بنانا ضلعی افسران کا فرض عین ہے تاکہ انڈسٹری مالکان مزدوروں کے حقوق کیساتھ سال بھر میں جو کھلواڑ کرتے ہیں اس سے باز رہ کر مکمل تنخواہیں اداکریں کم ازکم مزدور طبقہ اپنے خاندانوں میں عید کی خوشیاں ہی سکون سے مناسکے۔ ایجوکیشن کی بات پرتو شاید ڈپٹی کمشنر بے بس ہیں ماضی والوں کی طرح یا پھر شجر ممنوعہ ہے مادر پدر آزادی ہے جئے بھٹوتے ملک لٹو اربوں کا بجٹ سکولوں کی حالت زار افسوس ناک ہے۔امن وامان کی صورتحال خراب ہے جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔البتہ گمشدہ بچوں کو اپنوں سے ملوانے کا سلسلہ سمیت خاندانی لڑائی جھگڑوں میں صلح صفائی کروانے کا عمل کچھ افسران کی جانب سے لائق تحسین ہے۔پولیس رضاکاروں کی مذاق والی تنخواہوں کے بلز بھی ماہ مقدس کے تقدس میں اداکرنا بھی ایک اچھا عمل ہوگا اگر پایہ تکمیل تک پہنچادیا جائے تو۔ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسرز کی طرف سے سرکاری ملازمین کوبروقت تنخواہوں و بلزکی ادائیگی ان کے سربراہ کا بہترین اقدام ہے۔بقیہ اداروں کی کارکردگی پر بھی اگلی قسط میں مفصل روشنی ڈالی جائے گی،لوکل گورنمنٹ،اینٹی کرپشن،پبلک ہیلتھ،بلڈنگ،سول ڈیفنس،محکمہ ماحولیات،ریونیو،اراضی ریکارڈ سنٹرزسمیت دیگر شامل ہیں۔آخر پر ڈینگی کے حوالے سے ڈسٹرکٹ اینٹامالوجسٹ کی تصویری و فزیکلی رپورٹس کا اگر فرانزک آڈٹ کروایاجائے مع ڈینگی سے لڑنے کے سامان و سپرے کی دستیابی اور ایکسپائری کی تاریخوں کی چیکنگ تو مزے کے رزلٹس ملیں گے۔تحصیل کونسلز میں اگر دیکھاجائے تو بغیر سٹاف کے کوٹ رادھاکشن والوں کی کارکردگی قابل رشک ہے بقیہ کی کانند۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button