کالم و مضامین

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

کالعدم تحریک لبیک کے خلاف اچانک کارروائی کیوں کی گئی ۔ یہ سوال بہت سے ذہنوں میں کلبلا رہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر اس تنظیم نے کافی دیر سے احتجاج شروع کر رکھا ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ یہ ہر بار سادہ کاغذوں پر معاہدہ کرکے نئی تاریخ لے کر واپس آجاتے تھے ۔ اس مرتبہ احتجاج کے لیے 20 اپریل کی تاریخ دی گئی۔ اس سے قبل خود وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں بڑے اعتماد سے بتایا تھا کہ ٹی ایل پی سے رابطے کرکے تاریخ آگے بڑھا دی گئی ہے۔تحریک لبیک کا سب سے بڑا مطالبہ یہی تھا کہ نہ صرف پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو نکالا جائے بلکہ اسلام آباد بھی اپنا سفیر پیرس نہ بھجوائے۔ حکومت نے ٹی ایل پی سے تحریری معاہدہ کر رکھا تھا کہ وہ اس حوالے سے معاملہ پارلیمنٹ میں لے جائے گی۔ یہ اپنی جگہ ایک عجیب بات تھی کیونکہ سفیر رکھنا یا نکالنا خالصتاً حکومت کا اختیار ہوتا ہے۔ پتہ نہیں کہ یہ بات تحریک لبیک کی قیادت کو سمجھ کیوں نہیں آئی۔ فرانس تودور کی بات بھوٹان کا سفیر نکالنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔ جہاں تک فرانس کی بات ہے تو وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہونے سے ساتھ ساتھ ایک بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت بھی ہے ۔ بر اعظم افریقہ سے ایشیا تک فرانس کا اثر رسوخ پوری دنیا میں موجود ہے ۔ امریکہ کا اتحادی اور یورپی یونین کا اہم ترین رکن ہے۔ عرب ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں ۔ یہ فرانس ہی تھا جس کی فوج نے اس وقت سعودی سکیورٹی فورسز کی مختصر وقت میں زبردست ٹریننگ کی جب بعض شر پسندوں نے خانہ کعبہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ فرانسیسی فوج کی تربیت اور ایکشن پلان پر عمل کرکے قبضہ چھڑایا گیا تھا۔ اسی لیے پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ فرانس کے سفیر کو نکالا نہیں جا سکتا۔ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کے مفادات کو گہری زک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ چنانچہ یہی تصور کیا جارہا تھا کہ جس طرح پہلے تاریخ پر تاریخ دی جاتی رہی ہے اسی طرح اس بار بھی تحریک لبیک سے وقت لے لیا جائے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ وفاقی وزیر شیخ رشید مسلسل دعوے کر رہے ہیں کہ اگلا الیکشن پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی مل کر لڑیں گے ۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے متوقع انتخابی اتحاد کا سامنا کرنا ہوگا ۔اس مطلب یہ ہے کہ منصوبہ سازوں نے اس نئی تنظیم کا ملک کے آئندہ سیاسی منظر نامے میں نمایاں مقام پہلے ہی سے طے کر رکھا ہے ۔ حیرانی مگر اس وقت ہوئی کہ جب تحریک لبیک کے امیر سعد رضوی کو اچانک گرفتار کرلیا گیا ۔ ردعمل فوری طور پر ظاہر ہوا ملک میں جگہ جگہ دھرنوں سے کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا ۔ جھڑپوں اور مارکٹائی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ۔ پھر ایک صبح ملتان روڈ لاہور پر ٹی ایل پی کے مرکزی دفتر کے باہر آپریشن کیا گیا ۔ علاقہ گولیوں کی تڑتراہٹ سے گونج اٹھا ۔ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ۔ اس دوران ریاستی طاقت کے استعمال کے خلاف ملک سے شدید عوامی رودعمل سامنے آیا۔ یہ آپریشن بھی بیج میں رہ گیا۔ حکومت نے اس عرصے کے دوران تنظیم کو ہی کالعدم قرار دے دیا۔وزیر اعظم سے لے کر وزرا تک نے بلند بانگ دعوے کیے ۔ پھر جلد ہی یو ٹرن لے کر مذاکرات کی راہ اختیار کرلی گئی۔ واقفان حال کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان دوستی کرانے کے لیے مقتدر حلقے حرکت میں آئے۔ کے پی کے سے تنظیم کے ایک رہنما کو اسلام آباد بلوایا گیا۔ پھر وفاقی وزرا شیخ رشید اور نور الحق قادری کے ساتھ لاہور بھیج دیا گیا ۔ پھر ایک نیا معاہدہ طے پایا جو درحقیت پرانا ہی ہے۔ اب سب کو انتظار ہے کہ اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا- اس تمام معاملے میں وفاقی حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ۔اب یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ حکومت نے کوئی خاص شرائط تسلیم نہیں کیں- ڈنگ ٹپائو پالیسی کے تحت بات ٹل جائے گی۔ حکومت کو یہ بھی اعتماد ہے کہ خصوصاً فرانسیسی سفیر کو نکالنے والی شرط ختم کرانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ اس کی مدد کرے گی۔ ہوسکتا ہے کہ معاملہ لٹک جائے۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ ساری بات ہی گول ہوجائے گی تو یہ اندازہ درست نہیں ۔ سڑکوں ، چوراہوں پر عوامی احتجاج کا جن جب ایک بار بوتل سے نکل آئے تو آسانی سے واپس نہیں جاتا ۔ یہ معاملہ اس حوالے زیادہ پیچیدہ ہے کہ تحریک لبیک کو بنے زیادہ وقت نہیں ہوا اور نہ ہی اس کا پارٹی سٹرکچر اور ڈسپلن ایسا ہے کہ اپنے کارکنوں پوری طرح سے کنٹرول میں رکھ پائے۔ اوپر معاملہ مذہب کا ہو تو جذبات کی شدت بیٹھے بٹھائے بڑھ جاتی ہے۔ اس تنظیم نے راولپنڈی میں شیخ رشید کی لال حویلی کے باہر بڑا اور پرجوش مظاہرہ کرکے وزرا ء کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں ۔ یہ تو طے ہوگیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس صورتحال کو کنٹرول نہیں کرسکتی۔ مگر یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی اس حوالے مزید ضروریات کیا ہیں ۔ سیاسی مبصرین بلا جھجک کہتے ہیں تحریک لبیک کو خصوصا ن لیگ کے پارٹی امیج اور ووٹ بنک کو خراب کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ مگر یہ بھی یقینی نہیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے پی ٹی آئی کو کھڑا کیا گیا تو’’ چالاک ‘‘ سیاستدان آصف زرداری نے یہ سوچ کربھرپور مدد کی کہ اس طرح سے پنجاب میں ن لیگ کا ووٹ بنک تقسیم ہوجائے گا جس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا ۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ کچھ اور نکلا اور الٹا پیپلز پارٹی کا ہی پنجاب سے صفایا ہوگیا۔ جہاں تک تحریک لبیک کے خلاف حالیہ کارروائی کا تعلق ہے اس سے پوری دنیا میں دو متضاد پیغامات گئے ہیں۔ ایک تو یہ پاکستان میں حکومت کی رٹ بہت کمزور ہے۔ دوسرے یہ کہ حکومت نے ان حالات میں ایک موثر مذہبی تنظیم کے خلاف سخت اقدامات کیے ۔ دیکھتے ہیں کہ عالمی سطح پر کونسا چورن بکتا ہے ، بکتا بھی ہے یا نہیں ۔ ملک کے اندر تو ایسی تنظیموں کی لازماً ضرورت رہے گی۔ سینئر صحافی طلعت حسین نے اس حوالے ایک جرات مندانہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ آج سے نو سال پہلے یہ طے کیاگیا تھا کہ مذہب کے نام پر تنظیموں کو کھڑا کرکے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے خلاف پوری طاقت سے استعمال کیا جائے۔ غداری ، کرپشن ، دین دشمنی سمیت ہر طرح کے الزامات لگائے جائیں گے۔ اس 13 نکاتی پالیسی کا پیپلز پارٹی کو تو بووجوہ نقصان نہیں ہوا مگر مسلم لیگ ن شدید رگڑے میں آئی۔ ارکان اسمبلی کے گھروں اور دفاتر پر حملے ہوئے۔ نواز شریف کو جوتا مارا گیا۔ احسن اقبال قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے۔ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔ جاوید لطیف کو بھی شدید زخمی کیا گیا۔ پی ٹی آئی اور اس کے سرپرست ان پر تشدد واقعات سے محظوظ ہوتے رہے ۔سیاسی جماعتوں کے خلاف تیار کردہ اس پلان پر عمل درآمد آج بھی جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی کارروائیوں سے ماحول کو پرامن نہیں رکھا جاسکتا مگر اس کی پروا کس کو ہے ؟ معاشرہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ۔ سچ بولنا اور اختلافی رائے کا اظہار کرنا اپنی جان دائو پر لگانے کے مترادف ہے ۔منگل کو اسلام آباد میں سینئر صحافی اور پیمرا کے سابق چیئر مین ابصار عالم کو گولی مار کر تمام صحافیوں کو وارننگ دی گئی ہے۔ لیکن بات بھی نوٹ کی گئی کہ اس واردات سے جہاں بہت سے لوگ سکتے میں آگئے۔ وہیں عام لوگوں کی بڑی تعداد نے شدید ردعمل کا بھی اظہار کیا ہے عمر بھر تو کوئی بھی جنگ لڑ نہیں سکتا تم بھی ٹوٹ جائو گئے ، تجربہ ہمار اہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button