کالم و مضامین

” شہادت خلیفہ چہارم سیدنا علی المرتضیؓ“

”نام ونسب“
آپ کانام نامی اسم گرامی علیؓ،کنیت ابولحسن وابوتراب،لقب اسداللہ اور مرتضی،والد کانام ابوطالب والدہ کانام فاطمہؓ، آپ کا نسبت رسولﷺ سے اس قدر قریب ہےکہ مصطفیﷺومرتضیؓ ایک دوسرے کے عمر زادبھاٸی تھے۔حضرت علیؓ نجیب الطرفین ہاشمی تھے۔آپ بعثت رسولﷺسےدس سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوۓ۔بعثت کے بعد جب رسولﷺ نے اپنےقبیلہ کے سامنے اسلام پیش کیا تو حضرت علیؓ نے سب سے پہلے آپ کی دعوت پر لبیک کہا۔
اس وقت ان کی عمرمختلف مٶرخین کے قول کے مطابق آٹھ،نو یا دس سال تھی۔تاہم ان کایہ مومنانہ وجرأت مندانہ کارنامہ قبل ازبلوغ ہے۔
جناب ابوطالب کثیرالعیال تھے۔معاشی تنگی نے پریشان کر رکھا تھا۔ جب مکہ مکرمہ میں قحط پڑاتو پیغمبرﷺنے محبوب چچا کی عسرت سے متاثر ہوکر اپنے دوسرے چچا حضرت عباسؓ سے فرمایاکہ ہمیں اس مصیبت وپریشانی میں جناب ابوطالب کا ہاتھ بٹانا چاہے۔چنانچہ حضرت عباسؓ نے جعفربن ابی طالبؓ کواور رسولﷺ نےحضرت علیؓ کواپنی آغوش کفالت وتربیت میں لے لیا۔چنانچہ وہ اس وقت سےبرابرحضور پرنورﷺ کے ساتھ رہے۔چونکہ آغوش نبوت میں تربیت پاٸی تھی۔ اس لیے پیغمبرخداﷺ کی بےشمارصفات آپ میں منعکس ہوٸیں۔چنانچہ صحابہ کرامؓ میں سب سے اعلیٰ درجہ کے فصیح وبلیغ اوراونچے درجہ کے خطیب تھے اور شجاعت وبہادری میں مثالی حیثیت رکھتے تھے۔ اس درجہ کے بہادر اور دلیر تھے کہ جس رات نبوت کے بدرمنیر نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت علی ؓنے آپ کے بستر پر پرخطر رات گزاری۔ ہجرت کے دوسرے سال رسولﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہؓ بنت حضرت خدیجۃالکبریٰؓ سے آپ کا نکاح کردیا جس سے حضرت حسنؓ حضرت حسینؓ حضرت محسنؓ زینب کبریٰؓ اور ام کلثوم کبریٰؓ پیدا ہوئیں۔ حضرت علی شیر خداؓ پیغمبر خداﷺ کے ہر وقت قریب رہتے اور اکثر رسول اکرم ﷺ کے معاہدے تحریر کرتے تھے سوائے غزوہ تبوک کے تمام غزوات میں رسول اللہﷺ کے شانہ بشانہ رہے اور بہادری کے جوہر دکھائے۔ دراصل 9 ہجری میں جب پیغمبرﷺ نے تبوک کا قصد فرمایا تو حضرت علیؓ کو اہل بیت کی حفاظت کے لیے مدینہ میں رہنے کا حکم دیا شیر خدا کو شرکت جہاد سے محرومی کا غم تو تھا ہی لیکن منافقین کی طعنہ زنی نے اور بھی رنجیدہ کیا۔
آپ ﷺکو اس کا حال معلوم ہوا تو ان کا غم دور کرنے کے لیے فرمایا علیؓ کیا تم اسے پسند نہیں کروگے میرے نزدیک تمہاراوہ رتبہ ہو جو ہارون علیہ الصلاۃ والسلام کا موسی علیہ السلام کے نزدیک تھا ۔البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں(البخاری)
حضور اکرم ﷺ نے سفر آخرت فرمایا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر تمام مسلمانوں نے اتفاق کیا اور سب نے بیعت کی تو حضرت علی شیر خداؓ نے بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے مشیر معاون رہے۔
ان کے بعد حضرت عمر ؓحضرت عثمانؓ کے زمانہ میں بھی حضرت علیؓ کی رائے اور مشورے کی بہت اہمیت تھی اور اکثر کام ان کے مشورے سے کیے جاتے تھے۔
”فضاٸل ومناقب“
حضرت علیؓ کو بچپن ہی سے درسگاہ نبوت ﷺمیں تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا جس کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہاسفر و حضر میں صحبت نبویﷺ میں رہ کرخوب خوب کسب فیض کیا۔
مناقب علی المرتضیؓ میں ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا میں علم و حکمت کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔
مقدمات کا فیصلہ کرنے اور حق و انصاف کا دامن تھامے رہنے میں آپ کو اللہ تعالی نے کمال کی استعداد اور قابلیت عطا فرمائی تھی حضرت عمرؓ فرماتے ہیں یعنی ہم میں سے موزوں فیصلہ کرنے والے حضرت علیؓ ہیں۔
اور سب سے بڑےقاری حضرت ابی بن کعب ؓحضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہے کہ مدینہ والوں میں سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے والے حضرت علیؓ ہے۔حضورﷺ کی زبان فیض ترجمان سے حضرت علیؓ کو سند مل چکی صحابہ کرامؓ میں سب سے صحیح فیصلہ کرنے والے حضرت علیؓ ہیں حضرت علیؓ کو خدائے بزرگ
و برتر کی شریعت مصطفویہ کے اسرارومعارف پراطلاع کے سلسلے میں بھی خوب نوازا تھا۔ وہ کلی طور پر شریعت پر ایک مبصرانہ نگاہ ڈال کر ایک کلی اصول طے کرلیتے تھے تصوف کے چاروں سلسلے حضرت علیؓ پر جا ملتے ہیں حضرت علیؓ نے ایام طفولیت ہی سے سرورکائنات کے دامن عاطفت میں تربیت پائی اس لیے کہ وہ قدرت محاسن اخلاق سے تربیت کا نمونہ تھے نہ آپ کی زبان کبھی کلمہ شرک و کفر سے آلودہ ہوئی اور نہ آپ کی پیشانی غیر خدا کے آگے جھکی۔ آپ ابتدإ ہی سے امین تھے۔ حضورﷺکے پاس قریش کی امانتیں جمع رہتی تھی جب آپﷺ نےجب ہجرت فرمائی تو ان امانتوں کی واپسی کی خدمت حضرت علی شیر خداؓ کے سپرد فرمائی۔
حضرت امیرالمومنینؓ کے زمانہ میں بیت المال کے خزانچی حضرت علی بن ابی رافعؓ کابیان ہے کہ آپ کی بیٹی حضرت زینب ؓنے عید الضحی کے موقع پر موتیوں کاہار زینت حاصل کرنے کے لئے ادھارمنگوایا۔ حضرت علیؓ نے اس کے گلے میں ہار پہچان کر مجھے بلایا اور ہار واپس کرانے کے علاوہ مجھے اوراپنی بیٹی کو ڈانٹا کہ مسلمانوں کی رضامندی اور خلیفہ کی اجازت کے بغیر مسلمانوں کے مشترکہ مال میں سے کسی چیز کا استعمال جاٸز نہیں۔ اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں مگر دامن ورق و قرطاس تنگ ہے۔
بظاہرحضرت علیؓ دنیاوی متاع سےتہی دامن اور خالی ہاتھ تھے۔مگردل غنی تھااور اصل دولت مندی تودل کی دولت مندی ہی ہے۔آپ کے دروازے سے کبھی کوٸی ساٸل خالی ہاتھ نہیں گیا۔کٸ دن کے فاقہ کے بعد اگر کچھ قوت لایموت حاصل ہوٸی بھی تو ساٸل کی صداسن کرکھانا اس کی نظر کردیاکرتے تھے۔
شجاعت وبہادری اوردلیری حضرت علیؓ کاممتاز وصف تھا۔آپ نے تمام اہم غزوات میں شریک ہو کر بہادری کے جوہر دکھاۓ اور خیبر کی فتح تو آپؓ کے جنگی کارناموں میں خصوصی امتیاز کی حامل ہے۔جس میں رسولﷺنے فرمایا کہ میں کل جھنڈا اس شخص کو دوں گا جوخدا اور رسولﷺ کومحبوب رکھتا ہے اوراللہﷻاور اس کا رسولﷺ اس کو محبوب رکھتے ہیں۔چنانچہ اگلے دن یہ جھنڈا حضرت علیؓ کو عطا ٕ فرمایا۔جنہوں نے مرہب نامی پہلوان وشہسوار کو کیفرکردار تک پہنچایااور خیبر کا ناقابل تسخیرقلعہ فتح کیا۔حضرت عمرؓ جیسی ہستی اس کی آرزو اور دعا کرتی رہی کہ خدا کرے کہ قرہ فال میرے نام نکل پڑے۔
حضرت علی المرتضیؓ صاٸب الراۓ بھی تھے اور آپؓ کی اصابت راۓ پر عہد نبوت ہی سے اعتماد کیا جاتا تھا”واقعہ افک“ میں رسولﷺ نے اپنے گھر کے رازداروں میں جن لوگوں سے مشورہ طلب کیا ان میں ایک حضرت علیؓ کرم اللہ وجہ بھی تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمرفاروقؓ کے دورہ خلافت میں بھی وہ ان کے مشیر رہے۔حضرت عمرؓ کو ان کی راۓ پر اتنا اعتماد تھا کہ جب کوٸی مشکل معاملہ پیش آتا تو حضرت علیؓ سے مشورہ کرتے تھے ایک موقعہ پر فرمایا کہ ”لولاعلی لھلک عمر“ یعنی اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔
”وفات“
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد آپ نے مسند خلافت کو زینت بخشی چارسال نوماہ تخت خلافت پرمتمکن رہ کر 18/ رمضان المبارک 40 ہجری کو عبدالرحمن بن ملجم خارجی کے ہاتھوں زہر آلودتلوار کازخم کھاکر 21/ رمضان کو جام شہادت نوش کیا اور کوفہ کے قریب ہی مقام نجف میں مدفون ہوۓ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button