کالم و مضامین

’’ناٹک پرانا چل رہا ہے۔۔۔‘‘

راحت اندوی کا شعر ہے کہ
نئے کردار آتے جا رہے ہیں
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
ا ن کا یہ شعرپاکستان میں الیکشن اور ان کے نتائج کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔جو پارٹی الیکشن جیتے وہ جشن مناتی ہے اور جو ہارے وہ پہلے الیکشن کو تسلیم نہیںکرتی اور خوب واویلا کرنے کے بعدبالآخر اپنی ہار تسلیم کرکے چپ کرجاتی ہے۔پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا الیکشن ہو جس میں ہارنے والی پارٹی نے دھاندلی کا الزام نہ لگایا ہو۔ یہ دھاندلی مقامی سطح پر ہو،منظم ہو یا الیکشن سے پہلے دھاندلی کی کوئی صورت استعمال کی گئی ہو، شور ضرور اٹھتا ہے۔
ہمارے ملک میںانتخابی اصلاحات وقت کی ضرورت ہے لیکن اس کے حق میں کم اور مخالفت میں زیادہ لوگ ہیں۔وزیراعظم عمران خان نےحال ہی میںٹویٹ کیا میں اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ انتخابی اصلاحات پر ہمارے ساتھ بیٹھیں ،ہماری حکومت انتخابی نظام میں اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے ، ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتخابی نظام میں شفافیت آئے گی۔حالیہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کے دوران وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے انتخابی عمل کو شفاف، سہل اور جدید بنانے کے لئے مقامی سطح پر ایک جدید الیکٹرانک مشین تو تیار کر لی ہے لیکن اس حوالے سے قانون سازی کے علاوہ ان مشینوں کو نادارا ور الیکشن کمیشن کے ساتھ منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں جدید مشینوں کی بھی ضرورت ہوگی جو کہ نا ممکن نظر آتا ہے۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تحت ووٹ کے ٹریل کا سسٹم بنانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اگر دھاندلی کا کوئی الزام لگاتا ہے تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں؟جیسا کہ 2018کے عام انتخابات میں آرٹی ایس سسٹم متعارف کروایا گیا اور وہی ٹیکنالوجی پورے انتخابات کے متنازع ہونے کی وجہ بن گئی۔
الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے ووٹ کاسٹ کرنے کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے اور ووٹنگ کے عمل کی نگرانی اور ووٹ گننے والے اسٹاف کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ووٹر اپنا وقت بچا سکتا ہے۔الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم خصوصی افراد کو بھی آسانی سے ووٹ ڈالنے کی سہولت دیتا ہے۔ دوردراز علاقوں میں رہنے والے بوڑھے افراد اور بیرون ملک قیام پذیر افراد بھی انتخابی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں جس سے انتخابات میں ٹرن آؤٹ بڑھ جاتا ہے۔ دھاندلی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔
حالیہ امریکی الیکشن میں میل بیلٹنگ اور ووٹوں کی گنتی پر ٹرمپ نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ کمرشل الیکٹرانک مشینیں، پاس ورڈز، کی بورڈز اور عوام کی حقیقی عمل تک رسائی نہ ہونا ہی سب سے بڑے مسائل ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر کئی ترقی یافتہ ممالک میں ای ووٹنگ کو ترک کر دیا گیا ہے۔ تاہم انڈین الیکشن کمیشن اس کی حمایت کرتاہے جہاں ڈی آر ای سسٹم استعمال ہوتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ انتخابی اصلاحات تمام فریقین کی مشاورت، عوام کی رائے کی روشنی اور اتفاق رائے سے ممکن ہوتی ہیں۔
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات ایک روایت بن چکی ہے ، جوانتخابی عمل کو نہ صرف مشکوک بناتی ہے بلکہ اس کی شفافیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں ، لیکن اصلاحات کے عمل کو کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے سرانجام نہیں دیا ہے ،سب نے وقت گزاری کے چلن کو اپنایا ہے ۔حالیہ سینیٹ اور ضمنی انتخابات کے بعد جو تلخیاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بصورت ایک خلیج جنم لے چکی ہیں ،اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہماری تمام قومی سیاسی جماعتوں کی قیادت تدبر اور فہم وفراست کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ایک میز کے گرد بیٹھ کر مسئلے کاحل نکالیں ،اب ملک میں انتخابی نظام میں اصلاحات اور تبدیلی کا وقت آگیا ہےبلاشبہ ایک پیش رفت الیکٹرانک ووٹنگ میں متوقع ہے، یہ برقیاتی شفافیت کی جانب ایک اہم قدم ہوگا، نادرا کا اس میں بنیادی کردار ہونا چاہیے، یوں مینول جعلی ووٹنگ کا راستہ بند ہوگا اور ووٹ کی توقیر بڑھ جائے گی۔

شکست سے دوچار ہونے والے اکثر سیاستدان بقول شاعر یہ کہتے نظر آتے ہیں
شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
تاہم ملک کی سیاسی قیادت جمہوریت کی روح کو سمجھے،انتخابی اصطلاحات کے لیے تمام رنجشیں، شکوے بھلا کر ایک میز پر بیٹھیںسیاست سے بالاتر ہو کر نہ صرف انتخابات بلکہ ملکی نظام کے ہر شعبے میں اتفاق رائے سے اصلاحات لائی جائیں اور پارلیمنٹ میں بحث و تمحیص کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائے
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا
وطن کو جو ماہتاب کر دے
اُداس چہرے گُلاب کر دے
جو ظلمتوں کا نظام بدلے
جو روشنی بے حساب کر دے
۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button