کالم و مضامین

امیروں کا کرونا اور غریبوں کی عید

گزشتہ دنوں حکومت اور اداروں کی طرف سے سخت لاک ڈاؤن کے فیصلے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ایکٹو انتطامیہ جیسے کاروائیاں کرتی دکھائی دی تو بہت خواہش پیدا ہوئی کہ کاش پاکستان میں ایسے ہی اگر ادارے اور انتطامیہ مل کر ڈنڈے سوٹے اٹھا کر نکلیں تو کرونا سے بھی زیادہ مہلک اور خطرناک بیماریاں جو کہ ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلہ کرہی ہیں اور اس معاشرے کی بدحالی کا سبب بھی ہیں ان کا تدارک بھی ہو سکتا ہے… لیکن کیا کہیں آخر زور چلتا ہے تو غریب پر اپنی افسر شاہی دکھانا تو ایک نشہ بنتا جا رہا ہے جب سے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنی کابینہ کی کارگردگی کی سہ ماہی رپورٹ دیکھنے اور اس پر ایکشن کا مرحلہ شروع کیا کے تمام انتطامی کاموں پر مامور افسران کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں لیکن مسلے جو کہ توں ہیں….
نا تو مہنگائی پر قابو پایا جا سکا نا ذخیرہ اندوز اور کرپٹ مافیا کا سد باب کیا جا سکا ہے
جس کی بنیادی وجہ اس ملک و ملت سے محبت کے بجائے اپنی نوکری جانے کے خطرے کے پیش نظر اپنے ہاتھ صاف رکھے جا رہے ہیں اور اس کے لیے ایسے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کے پیچھے آنے والا کوئی نہیں اور جس میں اپنے حق میں آواز اٹھانے کی ہمت نا ہو….
خیر یہ سلسلہ تو پچھلے 30 35 سال سے دیکھا جا رہا ہے اصل بات اس عالمی وبا اور اس کا شکار عوام کی ہے بظاہر تو گزشتہ 15 مہینے سے اب تک اس وبا پر قابو پانے کی طرف توجہ دی جا رہی ہے لیکن اس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات پر ابھی تک کوئی حکمت عملی وضع نہیں کی گئی.
سب لوگ کرونا آگاہی پر سیمینار کرتے پائے جا رہیے ہیں جسے دیکھو وہ آپ کو ہاتھ دھونے کے طریقے، ماسک پہنے پر لیکچر اور سماجی فاصلہ رکھنے کی تلقین کرتا ملے گا. ان سب میں آپ کو زیادہ تر تعداد ایسے لوگوں کی ملے گی جو خاندانی جاگیر دار ہیں جن کے گھر دانے اپنی زمین کے آتے ہیں یا پھر سرکاری ملازم جو کرونا ہو یا لاک ڈاؤن ان کو گھر بیٹے تنخواہیں ملتی رہیتی ہیں جبکہ غریبوں کو احساس پروگرام جیسا چورن چٹایا جا رہا ہے اور 12 ہزار کے لیے کی جانے والی ویریفیکیشن کے نام پر عوام کو بیوقوف بنا یا جا رہا ہے. میں پوچھنا چاہوں گی ان 12000 دینے والوں سے کہ کیا انکے اپنے گھر کا راشن، ضرورتیں، علاج معالجہ کے علاوہ بجلی گیس کے بلز اور کرایہ دار کے لیے کرایہ 12000 میں پورا ہوتا ہوگا؟ اور ستم ظریفی یہ کہ 12 مہینے کے 12 ہزار مطلب ایک مہینہ کا 1000
ہمیں ڈوب مرنا چاہیے کسی غریب کی غربت کا مزاق بناتے وقت وہ کس قدر اپنی عزت نفس مار کر 12000 لینے سنٹر پر جاتا ہوگا.
ایک طرف سعودیہ دورہ پر جانے والے وزیر مشیر دوسری طرف پاکستان میں میں مکمل لاک ڈاؤن کی کال جو کہ غریب کی موت کے برابر ہے.
آج میری روح کانپ گئی اور آواز حلق میں ہی دب کر رہ گئ جب میں نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر ایک غریب ریڑھی بان کی ریڑھی پر لگے کچھ سیب اور کیلے زمین بوس اور انتطامیہ اہلکارو کے پیروں کے نیچے کچلتے دیکھے…. مجھے اس وقت اس غریب کے بچوں کی بھوک پیاس اور اس کی بے بسی کا شدت سے احساس ہوا کہ غریب ہونا کتنا بڑا جرم ہے اگر کسی امیر کا ہوٹل یا کوئی فوڈ کارنر ہوتا تو ایک انتظامی اہلکار پہلے ہی آ کر اسے آ گاہ کر دیتا کے اپنا بندوبست کر لو.
مجھے ساتھ ہی وہ بے حس لوگ بھی دکھائی دیے جو شاپنگ مال اور بازار سے اپنے بچوں اور فیملی کے ساتھ عید کی شاپنگ کرنے آئے تھے کیونکہ لاک ڈاؤن لگ رہا تھا اور پھر شاپنگ ممکن نا ہوتی لیکن دوسری طرف یہ سوچ کر بھی میں اپنی اپنی آنکھو سے آنسو نہ روک پائی کہ اس مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے عید کی شاپنگ تو دور غریب دہاڑی دار کے گھر ایک وقت کا کھانا بھی موجود نا ہو گا…
کیا یہ تھی ریاست مدینہ؟
کیا مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ضمیر ہمیں ملامت نہیں کرتا کہ ہم کیسے مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں یا انسانیت کو دفنانے جا رہے ہیں. کیا حکومت ان دہاڑی دار مزدور طبقہ کی ویکسینیشن کا بندوبست نہیں کر سکتی تھی کیا ان کے لیے کوئی آسان پالیسی نہیں بنائی جا سکتی تھی کہ وہ بھی ایس او پیزز کو فالو کرتے اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں؟ کیا ان کے لیے اتنی مدت کا راشن نہیں دیا جا سکتا تھا کہ آپ گھر بیٹھو ایس او پیز پر عمل کرو.
کیا عید پر غریب بہن بھائیوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا حکم نہیں ہےحدیث میں؟؟
کیا اس دفع عید سادگی سے منا کر وہ ہی رقم ہم اپنے غریب بہن بھائیوں کے گھر راشن پر خرچ نہیں کر سکتے؟ کرونا سے تو ہمارے غریب بہن بھائی مریں یا نا مریں بھوک سے ضرور مریں گے اور جب عید کے دن انکے بچے کپڑے جوتے مانگنے کی ضد کے بجائے کھانا مانگے گے وہ ضرور اس صدمہ سے مر جائیں گے
ڈیم فنڈ میں اپنی ایک ایک مہینے کی تنخواک دینے والوں سیلاب زدگان کی مدد کو دوڑ کر جانے والوں سے میری اپیل ہے کہ خدارا اس عید پر بھی گھر گھر جائیں اپنی تنخواہوں کا کچھ حصہ کسی غریب کے گھر راشن ڈلوانے پر لگائیں عید کا اصل مقصد ہی اپنوں کو نا بھولنا ہے قدم سے قدم ملا کر ہی ہم کرونا جیسی وبا سے لڑ سکتے ہیں ورنہ جب ضمیر مردہ ہو جائے تو ویسے بھی ہمیں جینے کا کوئی حق نہیں مسلمان ہونے کے ناطہ نا صرف خود بلکہ اپنے بچوں کو بھی یہ سمجھائیں کی اس دفعہ اپنے غریب دوستوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کریں یاد رکھیں ہم کرونا کو مات تب ہی دے سکتے ہیں جب ہم اپنے اندر انسانیت کو پروان چڑھائیں گے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button