دلچسپ و عجیب

لاہور پر مرمٹنے والی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی شہزادی

سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔ نومولود بیٹی کا نام بمبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا۔ بمبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا۔ پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے۔ شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بمبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے۔ وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں۔ شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔ انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں مکان خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی۔

شہزادی بمبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔سن 1915 میں شہزادی بمبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ واٹرز سدر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بمبا سدرلینڈ ہو گیا۔شہزادی بمبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بمبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران شہزادی بمبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا۔ علامہ اقبال، شہزادی بمبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ 10 مارچ سن 1953 کو شہزادی بمبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا۔ پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی آخری رسومات کا انتظام کیا۔ شہزادی بمبا کو شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتیجس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہےاگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھےتو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتاشہزادی بمبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جو ان کے سیکرٹری پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا۔ اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔ حکومتِ پاکستان نے شہزادی بمبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔ سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا۔ اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button