پاکستانکالم و مضامین

درویشوں کے ڈیرے پہ گزرے کچھ لمحے

درویشوں کے ڈیرے پہ گزرے کچھ لمحے
کتاب.درویشوں کا ڈیرہ
مصنف. خالد سہیل ,رابعہ الرباء
تبصرہ.ثمینہ سید

کتاب اپنے اندر حیرت کے خزانے رکھتی ہے پرت در پرت دریچے کھلتے جاتے ہیں.ٹھنڈی میٹھی ,شناسائی کی ہوائیں لپیٹ میں لینے لگتی ہیں اور آخری صفحات تک کتاب کا مواد ہمارے وجود کا حصہ بن جاتا ہے پوری طرح کھل کر بےشمار راز افشا کر جانے والی کتاب جو دیر تک اپنے سحر میں رکھے .میرے خیال میں اچھی,منفرد اور کامیاب کتاب ہے.


"درویشوں کا ڈیرہ” تو یکسر مختلف ہے اندازِ تحریر,اسلوب, جملوں کی بنت,خطوں کی صورت تحریر کردہ خواب نامے اس کتاب کو واقعی ایک منفرد کتاب بناتے ہیں.خوابنامے تعبیریں پاکر صفحہء قرطاس پہ نہایت الفت سے بکھرتے چلے گئے.ہر ایک بات بانٹ کر بھی سمٹی رہی.تمام تکلف مٹ کر بھی دائرے بنے رہے.اسلوب کی شائستگی نے.ہردو شخصیات کی ذات سے واقفیت نے,تہذیبوں اور رسم ورواجوں کی تفصیلات نے خوب لطف دیا.حیرت کے در وا ہوتے گئے .ایک نئی اور انوکھی رابعہ الرباء منکشف ہوئی.میرے دل کے بہت قریب یہ لڑکی اپنے اندر جو سربستہ راز رکھتی تھی ان تک قدم قدم رسائی نے عجب سرشاری دی.دوستی اور ایسی نایاب دوستی کی مثال یہ کتاب اپنی جگہ منفرد ہے یہ تو سچ ہے لیکن یہ دو درویش جو دنیا کے ساتھ چلتے چلتے اچانک اپنا رستہ خود ہی کھوٹا کرتے ہیں اور دانستہ گم ہوجاتے ہیں.پھر گم ہی رہنا چاہتے ہیں .بےفیض دنیا کو ترک کر کے, بغاوت کرکے جینا چاہتے ہیں.اور جیتے ہیں.
سب کچھ کہہ دینے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے.یہ نزول کے کچھ خاص لمحے تھے آگہی کے کچھ بے جھجھک پل جن میں "دنیا کیا سوچے گی,لوگ کیا کہیں گے ” کا کوئی ڈر کوئی عمل دخل نہیں ہے.بہترین کتاب ہے.تصوف کو مذہب تک محدود کرنے والوں کی پرزور نفی ہے.ذات کی تسخیر,جان لینے والا سچ ہی اصل تعبیر ہے.نظم جیسی نثر ہے جو دونوں درویشوں کے اندر کے شاعر سے بھی گاہے گاہے ملاقات کرواتی رہی.

مجھے کتاب براہ راست نہیں ملی.ایک دوست سے لے کر پڑھی.دھیرے دھیرے .لمحوں کے بہاؤ کے ساتھ چلتی رہی.مجھے دونوں درویشوں پہ ناز ہوتا رہا جنہوں نے ذات کے ساتھ ساتھ دوستی,بےخوفی,اور کہہ دینے کی تشفی پا لی.میں بلاوجہ ہی مطمئن ہورہی تھی کہ کتاب آج مجھ سے واپس منگوا لی گئی.میں نے کافی سارے صفحات کی تصاویر بنا لیں.میں خود ان الفاظ کی بستی میں جینے لگی تھی.اس لیے جلدی جلدی اپنی محسوسات رقم کرنے بیٹھ گئی کہ کہیں کچھ محو نہ ہو جائے.

کتاب کا انتساب ہی "سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے مسافروں کے نام کردیا گیا” تاکہ سچ تلاشتے تلاشتے وہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر نہ جائیں.اکیلے پن کے زہریلے درد میں مٹی نہ ہوجائیں.کسی کے ساتھ کا احساس انہیں مندمل رکھے.

"درویشوں کا ڈیرہ ” نام ہی بالکل الگ سوچ اور انفرادیت کا حامل ہے.پھر دیکھے ان دیکھے خوابوں کو تعبیر مل جانا بہت بڑا سچ ہے.
اس بھاگتے دوڑتے,روندتے ہوئے دور میں انہوں نے یہ پرسکون لمحے خط لکھنے کے آسودہ لمحے کیسے نکالے ..آفرین ہے.

خالد سہیل لکھتے ہیں
درویش ساری عمر زندگی کے,موت کے,محبت کے,نفرت کے,دوستی کے دشمنی کے شاعری کے راز جاننے کا خواہشمند رہا ہے.اسے رابعہ کے خط سے دوستی کی خوشبو آرہی ہے اور اپنی نانی اماں کا قول یاد آرہا ہے کہ ایک اور ایک دو نہیں گیارہ ہوتے ہیں.

وہ رابعہ کے ادیبہ بننے کی کٹھنائیاں جاننا چاہتے ہیں ,سفر کی صعوبتوں تک رسائی پاتے پاتے ہر بات لکھتے جاتے ہیں.جاگنا سونا,کھانا پینا,رشتے ناطے بانٹتے جاتے ہیں.اجنبی ہیں لیکن ذات تک سرنگ لگا بیٹھے ہیں راستہ کیا ملا کہ دونوں شائستگی کی انتہائی حدوں پر متمکن رہتے ہوئے مردوزن کے فرق سے مبراء ہوگئے .بس تارک الدنیا بنے بیٹھے گھنٹوں خط لکھتے رہے.رابعہ نے مختلف میدانوں بلکہ کارزاروں کی خاک چھانی ہے.
کئی طرح کے پراجیکٹس اور تحقیق سے متعلق کام کیے ادیبوں شاعروں ,سماجی عہدہ داروں سے انٹرویوز لیتی رہی,ادب سے جڑی تو جڑتی ہی چلی گئی.
بہت بڑا کارنامہ اس نے "اردو افسانہ عہد حاضر میں ” لکھ کر,ترتیب دے کر کیا.عالمی محبتوں,رویوں اور میل جول نے,سازشوں نے رابعہ کو نکھار بخشا.اس کے قلم اور تحریر کو کاٹ اور روانی دی.
یہ خوابوں کی ملاقاتیں دراصل ایک شعور سے دوسرے شعور تک سفر یے.آگاہی کی یہ منزل ہی تصوف کی ابتدا ہے.لگن اور شوق نے تکمیل تک پہنچایا ہوگا.ارادے کی پختگی نے اس خواب کو تعبیر دی ہوگی.
اس کتاب میں رابعہ لکھتی ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ادیبہ بن جائے گی.وہ رنگوں سے کھیلنا چاہتی تھی.
یہ بھی تو رنگوں سے کھیلنا ہی ہے .انسانی رویوں کے مختلف شیڈز کو تراش خراش کر افسانہ بنا دینا,پڑھنے رہنا,سیکھتے جانا.تسلسل ہی زندگی ہے.حرف حرف رقم ہوتا ارتقاء بنتا جاتا ہے.
رابعہ کو کچھ الگ کرنے کا شوق رہتا ہے یہ تو میں جانتی ہوں.لیکن ایسا الگ اور صبر آزما کام جو یقینی طور پہ اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا.

پانچواں خواب نامہ میں رابعہ لکھتی ہے
"جو انسانوں کو پڑھتا یے درویش بن جاتا یے”
"اے درویش اس وقت رات کے تین بج رہے ہیں.یہ وہ وقت ہے جب آسمان پر ستاروں کی چمک زیادہ ہوحاتی ہے.وہ کسی خمار میں جھومتے اور ٹمٹماتے محسوس ہوتے ہیں.پھر ایک تہجد کا تارہ نمودار ہوتا ہے یہ بتانے کے لیے کہ دو وقت ملنے کا وقت آرہا ہے.اس کے بعد دووقتوں کا وصل ہوتا ہے تو آسمان پہ بھی سرخی چھا جاتی ہے.حیا کی سرخی”

واہ کیا خوب صورت نثر ہے,کمال تشبیہہ و استعارات ہیں.گہرے مشاہدے اور حرف حرف کی زیر زبر پر غور کرتے دو درویشوں نے اس انوکھے تجربے کو ایک نایاب کتاب بنا دیا ہے.لچکتی بل کھاتی تحریر .روپ سروپ بدلتی رنگ برنگے موسموں میں سانس لیتی امر تحریر ہے.جو ادب کے افق پہ اپنی انفرادیت ہمیشہ قائم رکھے گی. بہت سے اقتباسات قابلِ ذکر ہیں.
جملوں کے بے ساختہ پن کی اپنی ہی اہمیت اور مزہ ہے. دونوں دوستوں کے لیے دعاؤں اور تحسین و ستائش کے ساتھ نیک خواہشات

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button