پاکستاندلچسپ و عجیب

کارپول ٹیکنیشن سید محمد شوکت شہید

لاہور(ویوز نیوز )کارپول ٹیکنیشن سید محمد شوکت شہید کا شمار ان بہادر سپوتوں میں ہوتا ہے جنہیں 1971 کی جنگ میں جنگی قیدی بنا لیا گیا ۔

انہیں ڈھاکہ سے آلہ باد جیل میں منتقل کر دیا گیا انکو دشمن کی میں رہنا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا وہ ہمیشہ دشمن کی قید سے نکلنے کیلئے مضطرب رہتے تھے۔

کارپول ٹیکنیشن سید محمد شوکت شہید ایک نہایت ذہین بہادر اور نڈر سپاہی تھے۔وہ ہمیشہ دشمن کی قید سے آزادی کے لیے اپنے دوست کارپول ٹیکنیشن نواب دین کے ساتھ منصوبے بناتے تھے

آخرکار وہ گھڑی آن پہنچی جب دونوں بہادر سپوتوں نے سر پر کفن باندھ لیےاور دونوں جیل کی خار دار تاروں سے نکل گئے لیکن دونوں ہی دشمن کی نظر میں آگئے اور جیل میں موجود انڈین آرمی نے ان پر فائرنگ شروع کردی۔

کارپول ٹیکنیشن سید محمد شوکت شہید اپنے دوست کو بچانے کے لیے جیل کے سپاہیوں سے گتم گتھا ہوگئے اور ایک سپاہی سے رائفل چھین کر تین انڈین فوجیوں کو جہنم واصل کردیا لیکن ایک انڈین فوجی کی گولی آپ کے سینے کو چیرتی ہوئی چلی گئی اور اس طرح آپ نے اپنے دوست کی جان بچاتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیااور آپکا دوست جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا

۔حکومت پاکستان نے کارپول ٹیکنیشن سید محمد شوکت شہید کو انکی لازوال بہادری جاں نثاری وطن سے محبت اور دشمن کی قید سے بار بار فرار ہونے کی کوشش میں چوتھا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز تمغہ جرآت سے نوازا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button