کالم و مضامین

مرد دوسری شادی کے بارے میں کب سوچتا ہے؟

انعم ملک

دوران سفر ابھی ابھی ایک اسٹیٹس نظروں سے گزرا جس پر بالخصوص "پاکستانی مرد” لکھا ہوا تھا اور عنوان کچھ یوں تھا کہ "پاکستانی مرد دوسری شادی کے بارے میں کب سوچتا ہے؟” بس دیکھتے ہی ایسا دل کو لگا سوچا چلو پھر اب کہہ ہی دو جو دل میں ہے اور کافی حد تک حقیقت پر بھی مبنی ہے، سفر بھی اچھا گزر جائے گا اور سچ بول کر دل بھی ہلکا ہو جائےگا۔

جی تو اگر باالخصوص پاکستانی مردوں کی ہی بات کی جائے تو کوئی شک یہ وہ نیکی ہے جسے ہر مرد کرنے کو تیار ہے۔ اور اب یہ نیکی کیسے ہے تو جناب ایک شادی شدہ شخص اس نیت سے دوسری شادی کرے کہ اس سے ایک بیوہ کو سہارا مل جائے، یتیموں کو باپ کا نام مل جائے، بے سہارا کو سہارا مل جائے تو کوئی شک نہیں یہ کسی نیکی سے کم نہیں لیکن اس نیت سے کتنے ہی مرد دوسری شادی کرتے ہیں؟ 100 میں سے کوئی صرف 5 سے 10 فیصد یا پھر اس سے بھی کم ہونگے ورنہ دوسری شادی کرنے کی وجوہات کچھ اس طرح ہوتی ہیں کہ

۔1 اپنی بیوی سے دل بھر جاتا ہے۔

۔2 گھروالوں کی پسند کی تھی چلو اب اپنی پسند کی بھی کر لیں۔

۔3 بیوی میکے چلی جاتی ہے تو اکیلے ڈر لگتا ہے چلو ایک اور شادی کر لیتے ہیں کہ تاکہ جب ایک گئی ہو تو دوسری تو پاس ہو۔

۔4 پرانی محبوبہ سے روابط پھر سے بحال ہوتے ہی محبت شدت اختیار کرلیتی ہے تو اسے نام دینے کیلئے ایک اور شادی ضروری ہو جاتی ہے۔

۔5 بیوی کی دوست پر دل آ جائے تو چلو دونوں دوستوں کو ایک ہی گھر میں لے آتے ہیں ایک اور وجہ شادی کی کافی ہوتی ہے۔

۔6 اب بھلا مرد بیرون ملک کب تک اکیلا رہے بیوی کا ویزا نہیں لگ رہا تو چلو باہر ہی ایک اور شادی کر لیتے ہیں۔

۔7 یہ تو میں نے گھروالوں کیلئے شادی کی تھی جو گھر سنبھالے چلو اب کوئی مجھے سنبھالے کیلئے ہونی چاہیے تو ایک اور شادی کر لیتے ہیں۔

۔8 پسند کی شادی کے بعد یار اس کی تو گھروالوں سے نہیں بننے والی گھروالوں کو خوش کرنے کیلئے ایک ان کی پسند کی بھی شادی کرلیتے ہیں۔

۔9 ذیادہ پڑھا لکھا نہیں زندگی گزار دی باہر کیا حاصل ہوا، چلو یہاں بھی ایک شادی کرلیتے ہیں کم از کم نیشنیلٹی تو ملے گی نا، پھر چاہے وہ بیوہ، بچوں والی، یا عمر میں کئی سال بڑھی ہی کیوں نا ہو۔

۔10 انکل بچارے کا کوئی بیٹا نہیں اکلوتی بیٹی ہے اسی بہانے انہیں سہارا بھی مل جائے گا اور ان کی جائیداد کو سنبھالنے کیلئے وارث بھی۔

۔11 سب سے اہم وجہ دوسری شادی کی اکثر اولاد کا نا بھی ہونا ہوتا ہے۔ تو بھئی ایک معصومانہ سوال ہے اگر یہ اولاد آپ کے بیٹوں کی وجہ سے نہیں ہورہی ہوتی تو کیا آپ اپنی بہووں کو اولاد کیلئے دوسری شادی کی اجازت دیتے ہیں؟

۔12 اگرچہ کچھ مرد کو تو دوسری شادی اتنی شدت سے آئی ہوتی ہے کہ وہ سانس لیتے وقت بھی ہر سانس میں دوسری شادی کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔

دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کوئی گناہ کبیرہ نہیں، غلط بھی نہیں، لیکن کسی کا حق چھین کر کسی دوسرے کو دینا، دونوں کے حقوق برابری سے ادا نا کرنا اور غلط سوچ اور نیت سے دوسری شادی کرنا بالکل غلط ہے۔ آپ کو 4 شادیوں والی سنت کا تو پتا ہے لیکن اکثر پہلی شادی کرتے ہوئے وہ تمام سنتیں کیوں بھول جاتی ہیں جو آپ کو سادگی سے شادی کرنے کا حکم دیتی ہیں، لیکن تب تو کنواری 18 سالہ لڑکی ہی چاہیے ناکہ 40 سالہ بیوہ یا طلاق یافتہ، پھر دلہن کے ساتھ ساتھ جہیز میں سب کچھ چاہئے ہوتا اور اہل خانہ کیلئے کپڑے اور زیورات کےتحائف بھی، پورے خاندان کے ساتھ ساتھ آدھی دنیا کو مدعو کیا جاتا ہے اور پھر کم از کم 10 مختلف قسم کے کھانے بھی شادی کی شان شایان ہوتے ہیں۔ تب ہم سنت کیوں بھول جاتے ہیں؟؟؟

اب وہ مرد حضرات جو دوسری شادی کے خواہاں ہیں مجھے فتوے، گالیاں، تہمتیں اور لبرل ازم کے طعنے مار کر دل خوش کرلیں لیکن حقیقت کو سننا ماننا اور تسلیم کرنا بھی سیکھیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button