کالم و مضامین

حق دو ، حساب دو

: آج کل جسے پوچھیں وہ مہنگائی کا رونا روتے ہوئے اسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتا ہے – حقیقت میں ایک مسئلہ اس سے بھی کہیں بڑا ہے بلکہ مہنگائی سمیت تمام مسائل کی جڑ ہے وہ یہ کہ پاکستان میں پچھلے 73 سالوں سے دستیاب وسائل کی تقسیم انتہائی غیر منصفانہ انداز میں ہو رہی ہے -حکمرانوں نے تمام اختیارات کے ساتھ ساتھ وسائل کو بھی پوری طرح سے اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے – اب بھی یہی کوشش جاری ہے مگر ملک کے سیاسی حالات کے باعث کشمکش کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے – اس حوالے سے کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ جب کسی سیاسی جماعت کے بارے میں ڈیل کرنے کی اطلاعات آتی ہیں تو اس کے حامی ہی اس پر چڑھ دوڑتے ہیں – جس کی تازہ مثال شہباز شریف کی ضمانت کے بعد اسی قسم اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کا شدید ردعمل ہے – خود ن لیگ کے کارکنوں کی اکثریت برہم نظر آئی – کسی سیاسی جماعت کا حتمی ٹارگٹ ہی حکومت میں آنا ہوتا ہے – سو اگر فرض کرلیا جائے کہ شہباز شریف کی ڈیل ہوئی تو صاف مطلب یہ ہوگا کہ ان کے لیے اقتدار میں آنے کے راستے کھل رہے ہیں – پارٹی کے اندر سے خصوصاََکارکنوں کی جانب سے آنے والا ردعمل بتا رہا ہے کہ ڈیل کے ذریعے حکومت لینے کو معیوب قرار دیا جارہا ہے – یہ ردعمل سیاسی شعور میں پختگی کی بھی علامت ہے – اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے حوالے سے غلط اندازے لگاکر جو حکمت عملی اختیار کی ہے کارگر ثابت ہونے کی بجائے الٹ پڑ گئی – پی ٹی آئی کے قیام سے پہلے ریاستی اداروں نے جب بھی کوئی کینگروپارٹی بنائی تو اس میں فرمانبردار لوٹے اور فصلی بٹیرے شامل کرا دئیے جاتے تھے – یوں کچھ پردہ رکھ کر کام چلتا رہتا تھا – پی ٹی آئی بنانے کا منصوبہ بنا تو ایک مرحلے پر محسوس کیا گیا کہ مستقل حکمران اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو عملی سیاست میں لایا جائے – اگرچہ وہ حکومت سے باہر رہ کر بھی حکومتوں سے زیادہ بااثر تھے اور پہلے بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے -یہ سمجھا گیا گیا کہ ان خواتین وحضرات کے عملی سیاست میں آنے جانے کے بعد روایتی اور مقبول سیاسی قیادت سے چھٹکارا مل جائے گا – 2011 میں مینار پاکستان گراﺅنڈ پر پی ٹی آئی کے “ تاریخ ساز “ جلسے سے لے کر 2014 کے سپانسرڈ دھرنوں میں اس “ سپر ایلیٹ “ نے نہ صرف شرکت کی بلکہ حساس عہدوں پر فائز اپنے رشتہ داروں کے نام لے کر رعب جماتے رہے – یہ سلسلہ صرف ایک مقتدر گروہ تک محدود نہ تھا – یاد کریں جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اقامہ کیس میں نااہل کرایا گیا تو کمرہ عدالت تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا تھا – بعد میں پتہ چلا کہ موقع پر جشن منانے کی جسارت کرنے والے ججوں کے اہل خانہ تھے – خود چیف جسٹس ثاقب نثار نے نہ صرف کرسی پر ہوتے ہوئے بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پی ٹی آئی کے لیڈر کے طور پر کام کیا – فیصل واوڈا اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ نام نہاد ڈیم فنڈ کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیے ملک سے باہر بھی گئے – انہوں نے عہدے موجودگی کے دوران سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں اپنے بیٹے کی عمران خان سے ملاقات کرائی – وہ اپنے اہل خانہ سمیت پی ٹی آئی سیٹ اپ میں حصہ چاہتے تھے مگر عدالت عظمیٰ سے فراغت اور اپنے سطحی رویہ کے سبب دھتکار دئیے گئے -بہرحال سپر ایلیٹ کو پی ٹی آئی کا سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنا بڑی غلطی ثابت ہوئی – صرف افراد ہی نہیں ادارے بھی تنقید کی زد میں آگئے – کافی دیر کے بعد احساس ہونے پر چند ماہ قبل اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے میڈیا ہاﺅسز سے براہ راست رابطہ کرکے کہا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت اپنے اعمال کی خود ذمہ دار ہے جبکہ ہماری دلچسپی صرف نیشنل سکیورٹی کے معاملات تک محدود ہے -اس یقین دھانی پر میڈیا ہاﺅسز نے تو کیا سیاسی جماعتوں نے بھی اعتبار نہیں کیا -یہ تصور راسخ ہوچکا کہ صرف ریٹائرڈ جنرل حضرات ہی نہیں بلکہ شہباز گل اور فیاض چوہان بھی اسٹیبلشمنٹ کی بولی بولتے ہیں – سو محاذ آرائی صرف پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ مقتدر شخصیات اور اداروں تک پھیل چکی ہے – یہ ہرگز نیک شگون نہیں مگر اس سے انکار کرنا بھی بہت بڑی حماقت ہے – پاکستان میں سیاسی کشیدگی کوئی نئی چیز نہیں مگر اس مرتبہ دو فرق بہت نمایاں ہیں ایک تو یہ کہ یہ اس مزاحمتی سوچ کا مرکز پہلی بار پنجاب بنا ہے اور دوسری بات یہ کہ عوام اب صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی چاہتے ہیں – یہ آسان کام نہیں – معروف دینی سکالر جاوید احمد غامدی نے چند منٹ کے ویڈیو کلپ میں قیام پاکستان کے فوری بعد سے جاری سول ، ملٹری کشمکش پر بہت جامع انداز میں روشنی ڈالی ہے – اس گفتگو میں ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کسی بندوق بردار سے اپنا حق لینا کوئی آسان کام نہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جد و جہد ترک کردی جائے – ایک بات تو ماننا ہوگی جس طرح ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے مالی اور سماجی حوالے سے کمزور سمجھے جانے والے طبقات کو نہ صرف زبان دی بلکہ ان کے لیے پارلیمنٹ کے راستے کھول کر انقلابی قدم اٹھایا تھا – اسی طرح نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں باربار جرات مندانہ بیانات دے کر “ مقدس گائے “ لوگوں کی روایتی سوچ پر کافی حد تک اثر ڈالا ہے – اب تنقید رک ہی نہیں بلکہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں – ابصار عالم کو گولی لگنے کے بعد نہ صرف ان کا موقف پہلے سے زیادہ سخت ہوگیا بلکہ صحافیوں کی بڑی تعداد نے بھی مرعوب ہونے سے انکار کردیا – نام نہاد غداری کیس بھگتنے والے ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے عدالت کے روبرو جو اپنی بات پر قائم رہنے کے حوالے سے جو بیان دیا وہ سیاسی اور مزاحمتی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے – جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس کے بعد ان کی املاک گرائے جانے کے باوجود ان کے لہجے میں کوئی نرمی نہیں آئی – عام لوگوں نے بھی بزرگ سیاستدان کے خلاف ریاستی کارروائی کی مذمت کر ڈالی – بدلتے ہوئے حالات میں ایک اور چیز نوٹ کرنا ضروری ہے – ماضی میں ملک کے اندر یا باہر جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا اسے صرف سیاستدانوں کے سر تھوپ کر خوب بینڈ بجایا جاتا تھا- اب شاید یہ بھی آسان نہیں – اللہ نہ کرئے اب کارگل جیسا کوئی اور واقعہ ہو – لیکن اگر ہوجائے زیادہ امکان یہی ہے کہ 1999 کی طرح نہ تو سارا الزام سول حکومت کے سر تھوپا جا سکے گا اور نہ ہی ایسے کسی واقعہ کی آڑ لے کر “ انقلاب “ لایا جا سکے گا – مسئلہ کشمیر کے “حل “کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی پچھلے کئی سالوں سے جاری کوششوں کو اپوزیشن کی جماعتوں اور آزاد میڈیا نے سوالات اٹھا اٹھا کر بیچ راستے میں ہی روک دیا – لوگ اب برملا کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ جس کی غلطی ہو ، خمیازہ بھی اسے ہی بھگتنا ہوگا – ہوسکتا ہے ابھی مزید وقت لگے مگر یہ طے ہے کہ اب حق دو ، حساب دو کا بیانیہ روکا نہیں جا سکے – ملک میں اس وقت جاری سیاسی جوڑ توڑ، معاشی بحران ، خارجہ پالیسی کی ناکامی کی جڑیں وسائل پر قبضے کی جنگ سے ملتی ہیں – سب کو سوچ لینا چاہے کہ عوام اب کسی کو زبردستی حق حکمرانی اور وسائل پر مکمل قبضہ دینے پر تیار نہیں – جب یہ مسئلہ منصفانہ طور پر طے پا جائے گا تو دیگر تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے – تبدیلی کا عمل حقیقی معنوں میں شروع ہوچکا ہے – اب اسے وہ حلقے بھی چاہیں تو وہ نہیں روک سکتے جنہوں نے بحث کا آغاز کرایا ہے – نہ ہی طاقتور عناصر راستے میں دیوار کھڑی کرسکتے ہیں – معاملہ سب کے ہاتھوں سے نکل کر فطری انداز میں آگے بڑھنا شروع ہو چکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button