پاکستان

رنگ روڈ ڈکیتی

گاﺅں میں چوری کی واردات کے بعد اگلے دن دیہاتی جائے وقوعہ پر اکٹھے ہوکر اپنی اپنی رائے دے رہے تھے – ہر کوئی اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق بتا رہا تھا کہ واردات کیسے ہوئی ہوگی – بھانت بھانت کی بولیاں سن کر وہاں کھڑے ایک “ معزز “ سے رہا نہ گیا – تنگ آکر بولا تم سب کے اندازے درست نہیں ، میں بتاتا ہوں چوری کیسے ہوئی ہوگئی – چور ساتھ والے گھر کی چھت سے مکان میں کودا ہوگا ، اس کو پہلے سے پتہ ہوگا کہ آج گھر والے دوسرے گاﺅں میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے ہیں – چور نے اندر آتے ہی برآمدے میں پڑا ہتھوڑا اٹھا کر کمرے کا تالہ توڑا ہوگا – پھر ساری قیمتی اشیا ایک گٹھڑی میں باندھی ہوں گی – پھر کھیتوں والی سائیڈ سے دیوار پھلانگ کر نکل گیا ہوگا – اس رات مسلسل بارش کے سبب ہر جگہ جگہ کیچڑ ہوگا – چور جیسے ہی ٹاہلی ( شیشم ) کے درخت کے پاس پہنچا اس کا پاﺅں پھسل گیا – گٹھڑی ادھر جاگری اور میں اس طرف گر گیا -یہ لطیفہ راولپنڈی اسلام آباد رنگ روڈ پراجیکٹ میں لوٹ مار کے بعد بعض سٹیک ہولڈروں کی جانب سے ضرورت سے زیادہ پھرتیاں دکھانے پر یاد آگیا – ایک نامور کالم نویس نے اپنی تحریر میں انکشاف کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کو ان کے ایک دوست نے چند اکاونٹ نمبر ، چند فون نمبر، چند سرکاری افسروں اور دس ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے نام دے کر خبردار کیا کہ آپ کے خلاف بھی پانامہ سکینڈل بن چکا ہے – جب آپ کی حکومت ختم ہوگی تو آپ باقی زندگی عدالتوں میں دھکے کھاتے نظر آئیں گے – جس پر وزیر اعظم نے پریشان ہوکر تحقیقات شروع کرا دیں – اس کالم نویس نے اپنی تحریر میں جن شخصیات اور ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کا ذکر کیا ہے – اس فہرست کا جائزہ لینے کے بعد یہ جان لینا بہت آسان ہے کہ وزیر اعظم کو مشورہ دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ کالم نویس کا ممدوح اور ملک کا ٹاپ لینڈ ڈویلپر ہے – اسی تحریر میں آگے جا کر لکھا گیا ہے کہ ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کرنے پر گوجرانوالہ سے تبدیل کرکے راولپنڈی میں لگائے جانے والے کمشنر گلزار حسین شاہ نے اس سکینڈل کے بارے میں جو رپورٹ تیار کی اس نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا – کالم میں بظاہر بڑی ہوشیاری سے یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اگرچہ گلزار شاہ کی شہرت اچھی نہیں مگر کالم نویس نے اپنے 28سالہ صحافتی کیرئیر میں اس سے تگڑی رپورٹ نہیں دیکھی – ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ پس ثابت ہوا کہ اگر سرکاری افسر کام کرنا چاہیے تو ایک ہفتے میں تمام تحقیقاتی اداروں اور جے آئی ٹیز کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے – کمشنر گلزار حسین شاہ کو کالم نویس کے اس شاندار خراج تحسین کا ہمیں تو صرف ایک مطلب سمجھ میں آیا ہے کہ دھانسو قسم کی رپورٹ پہلے سے ہی تیار تھی – آرڈر ملتے ہی کمشنر صاحب نے نہ صرف آنکھیں بند کرکے دستخط کردئیے بلکہ سرکاری مہر بھی لگا دی – آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ دھرنوں ، دنگوں ، سرکاری عمارتوں پر حملوں ، سول نافرمانی کے اعلانات ،کئی اخلاقی اور فارن فنڈنگ سمیت متعدد مالی الزامات کے باوجود عمران خان سپریم کورٹ سے صادق اور امین قرار پا کر وزیر اعظم بن سکتے ہیں تو رنگ روڈ سکینڈل انہیں کیا نقصان پہنچا سکتا ہے – آٹے اور چینی کے سکینڈلوں کی طرح رنگ روڈ کی46 کلومیٹر کرنے کی منظوری خود انہوں نے دی – پاناما کیس کا حوالہ بھی غیر متعلقہ ہے – خود اس حکومت کے اہم وزرا چینلوں پر آکر بتا چکے ہیں کہ پاناما ڈرامہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آزادانہ فیصلے کرنے سبق سکھانے کے لیے بعض طاقتور شخصیات کے ایما پر رچایا گیا – یہ تو طے ہوگیا کہ رنگ روڈ کے بارے میں حکومت کا تبدیل شدہ موقف اسی شخصیت کے لیے موافق ہے جس کو سپریم کورٹ کی جانب سے کیا جانا والا 460 ارب روپے کا جرمانہ گول کرانے کے لیے خود حکومت درخواست لے کرعدالت عظمی میں پہنچ گئی ہے ( ویسے یہ اقدام ملک کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرگیا ہے – یہ تو ہے ایک طرف بحث دوسری سائیڈ بھی کہاں چپ بیٹھنے والی ہے – ادھر سے بھی قلمی مجاہدین میدان میں کودے – حیران کن طور پر ایک تحریر ایسے اخبار میں شائع ہوئی جہاں اس بڑے لینڈ ڈویلپر کے بارے صرف اچھا ہی اچھا لکھا جا سکتا ہے – اس تحریر میں بتایا گیا کہ میڈیا میں معاملہ لانے میں پہل کرنے والے کالم نویس نے جن سیاسی شخصیات، سرکاری افسروں کے نام لیے وہ بے قصور ہیں – کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا – سب نے اپنی ڈیوٹی پوری کی – نیز جن ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے نام لیے گئے ہیں وہ سب بھی قانونی طور جائز ہے -لگتا تو یہی ہے اس حوالے سے لکھا گیا کالم بھی ریڈی میڈ میٹریل کی صورت میں ملا ہوگا – تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ شائع کردیا گیا – ہوسکتا ہے کہ جب تک آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں اس وقت تک اس حوالے سے کچھ اور کالم بھی آچ±کے ہوں – بہرحال جواب الجواب کے سلسلے سے تو یہی لگتا ہے کہ فریقین کو طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہے – کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا – ایک گروپ نے بھرپور دیہاڑیاں لگا لیں اور دوسرے گروپ کو کھل کر کھانے کا موقع ملے گا – شاید یہ منصوبہ ڈیزائن ہی ایسا کیا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ گروہ باری باری فائدہ اٹھا سکیں – ہاں مگر اس مکروہ کھیل کے نتیجے میں گھر بنانے کی آس میں سرمایہ کاری کرنے والے لاکھوں خاندان بری طرح سے مالی بحران کی زد میں آ جائیں گے – مگر ان کی آہ و بکا کوئی نہیں سنے گا -غیر جمہوری یا ہائبرڈ ( کٹھ پتلی ) نظام دراصل مافیاز کی حکمرانی کا ہی نام ہے – جنرل مشرف کے دور میں نیب نے ایک بار شوگر ملز مافیا کو تنگ کرنے کی جسارت کی تو انہوں نے “کمانڈو صاحب “کو شکایت لگا دی – نتیجتا نیب کو نہ صرف شوگر ملز مافیا سے معافی مانگنا پڑی بلکہ یہ خبر بھی قومی اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی – غیر جمہوری یا نیم جمہوری ادوار میں بڑے بڑے ہاتھ مار کر معززین بنے رہنا اس لیے آسان ہوجاتا ہے کہ صرف ایک جگہ “ ڈیل “ کرلیں – پھر جو چاہیں کرتے پھریں – یہ سلسلہ نیا نہیں جنرل ایوب کے دور میںساری دولت بائیس خاندانوں کے ہاتھ میں دے دی گئی – خود فیلڈ مارشل کا اپنا خاندان ایک بڑی کاروباری سلطنت بن کر ابھرا – جنرل مشرف کے دور میں لینڈ مافیا کے کئی نئے ممبران سامنے آئے – فوجی آمر رخصت ہوا تو ملک میں جگہ جگہ بم دھماکے ہو رہے تھے – بجلی ، گیس سمیت عوام کی بنیادی ضروریات کی چیزیں غائب تھیں – غیر جمہوری ادوار میں انسانی اے ٹی ایمز مشینوں کو باربار خوب اچھی طرح سے بھرا جاتا ہے – یہ مافیاز ہی ہوتے ہیں جو اپنی دولت کے باعث غیر قانونی حکومتوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں – ان کی بے پناہ دولت صرف مسلط شدہ حکمرانوں کی ذات پر ہی خرچ نہیں ہوتی بلکہ “ قومی مفادات “ کے دوسرے کاموں میں بھی استعمال کی جاتی ہے – اس مقصد کے لیے مفادات کا ٹکراﺅ رکھنے والوں کو چن کر متعلقہ شعبے ان کے حوالے کیے جاتے ہیں تاکہ وسائل نچوڑنے میں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے -ہر طرح کی وارداتیں مافیاز کے ساتھ مل کر کی جاتی ہیں – تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے والے اکبر ایس بابر نے چند روز قبل انکشاف کیا تھا کہ انہیں بعض حلقوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ مقدمے کی پیروی نہ کریں – کیونکہ فارن فنڈنگ کیس کی مزید تفصیلات سامنے آئیں تو ملکی مفادات کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے – اکبر ایس بابر کے اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ اس حوالے سے متحرک عناصر کیوں کیس کا فیصلہ نہیں ہونے دے رہے – اب حال ہی میں کو رونا کے حوالے سے بارہ سو ارب روپے کے گھپلے کا سکینڈل سامنے آیا ہے – یقینی طور پر اسے بھی دبا لیا جائے گا – اگر کوئی پوچھے کیا یہ سب مقتدر حلقوں اور اداروں کو نظر نہیں آرہا تھا تو جان لیں سب کچھ ملی بھگت سے ہی ہو رہا ہے – یہ فاش غلطی اور سنگین معاملہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو عوام کے مسائل کی کوئی پروا یا احساس ہوتا ہے – صرف ان کا کام بلا رکاوٹ چلتا رہنا چاہئے باقی کچھ بھی ان کا دور سر نہیں – یہ سطور تحریر کیے جانے تک اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ شوگر سکینڈل پر بیرسٹر علی ظفر نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں جہانگیر ترین کو بری قرار دے دیا ہے – شوگر سکینڈل میں ایک محتاط اندازے کے مطابق میری آپ کی اور 22کروڑ عام پاکستانیوں کی جیبوں سے پانچ سو ارب روپے ناجائز طور پر نکلوائے جاچکے ہیں ۔ترین کو کلین چٹ ملنے سے ایک بار پھر یہ سب کے سامنے آگیا کہ لوٹ مار کے مقدمات ان کی تحقیقات اور فیصلوں کے حوالے سے ہم پر مسلط ”سسٹم “کیسے کام کرتاہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button