دلچسپ و عجیب

15رکنی ہاتھیوں کے خاندان کا15ماہ سے جاری سفر

ژیانگ(ویب ڈیسک)چین میں 15 ارکان پر مشتمل ہاتھیوں کا ایک خاندان ان دنوں چینی صوبے یونان کی جانب گامزن ہے۔ان ہاتھیوں کی یہ جدوجہد گزشتہ 15 ماہ سے جاری ہے جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ ایک علاقے سے دوسرے کی جانب پہنچنے کے لیے ہاتھیوں کا یہ اب تک کا طویل ترین سفر ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ہاتھیوں کا یہ قافلہ اپنے سفر کے دوران ژیانگ کے قصبے کے قریب سوتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد ان کی شہرت ملک بھر میں پھیل گئی۔ جھنڈ کے اس علاقے میں استراحت کرنے کی وجہ تیز بارشوں کے بعد ان کی رفتار میں کمی بتائی جاتی ہے۔

یوں بھی اپنے مخصوص علاقے میں پہنچنے کی دھن میں یہ قافلہ اب تک 500 کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کرچکا ہے لہٰذا تھک کر کہیں پڑ رہنے سے انہیں بھلا کون روک سکتا ہے۔

چینی حکام ان ہاتھیوں پر ابتداء سے ہی مسلسل نظر بھی رکھے ہوئے ہیں جو بہت سے جنگلات، کھیتوں، شہروں اور دیہاتوں سے گزرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔ حکومت نے سے اس غرض سے 14 ڈرون اور 500 افراد تعینات کیے ہیں تاکہ ان ہاتھوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان ہاتھیوں کو جنوب مغرب کی طرف جانے دینے کے لیے سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔

خیال ہے کہ یہ ہاتھی واپس اپنے علاقے کی جانب رخ کر رہے ہیں جو کہ چین کے جنوب مغربی یونان صوبےمیں مینگیانگزی کے نیچر ریزور میں قائم ہے۔اس جھنڈ میں بچے بھی شامل ہیں اور صوبے کے آگ بجھانے والے ادارے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایک نر ہاتھی ان سے الگ ہو کر 4 کلو میٹر دور موجود ہے۔

لیکن بات یہں تک نہیں۔ یہ جانور اپنے راستے میں اب تک لاکھوں ڈالر کی مالیت کی کھڑی فصلیں چٹ کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ قوی ہیکل اور من موجی جانوروں نے اپنے راستے میں عمارتوں کو بھی نقصان بھی پہنچایا اور کئی جگہوں پر گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں میں اپنی سونڈیں تک ڈالیں۔

عموماً ہاتھی اپنا راستہ بھولے بغیر درست ڈگر پر چلتے ہیں اور ان کی رہنمائی خاندان کا سب سے زیرک اور جہاں ددیدہ رکن کرتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی ناتجربہ کار ہاتھی اس پورے جھنڈ کو لے کر نکل پڑا ہے جس کے سبب ان کا سفر کچھ زیادہ ہی طویل ہوگا ہے جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ہاتھی اب کوئی نیا علاقہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

ایشیا میں جنگلی ہاتھیوں کی نسل معدوم ہونے کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔ چین میں اب ان کی تعداد 300 کے قریب رہ گئی ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button