کالم و مضامین

ہیں کواب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

تھو اور پھتو میں خوب گرما گرم بحث ہورہی تھی۔ دونوں آج پھر کسی کی بات نہیں سن رہے تھے اور ایک دوسرے کے دست وگریبان تھے۔ اچانک چوپال میں چپ سائیںکی آمد ہوئی تو سب خاموش ہوگئے ایسے تھا جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔۔۔چپ سائیںتھوڑی دیر بعد گویا ہویا۔۔۔نتھو اور پھتو تم دونوںکو کیا ہوا تھااور دونوںنے چوپال کو کیوں مچھلی منڈی بنایا ہوا تھا۔۔۔ سب خاموش تھے نتھو نے ہمت کرکے پوچھا سائیں جی یہ مچھلی منڈی کیا ہوتا ہے۔۔۔ چپ سائیں تھوڑی دیر بعد بولے یہ جو تم لوگوںنے دھما چوکڑی مچا رکھی تھی نا اس کو میں مچھلی منڈی کا نام دے رہا ہوں۔۔۔ اس پر نتھو اور پھتو بولے سائیں جی۔۔۔ کچھ روز قبل پارلیمنٹ میں سیاست دانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کیا اس طرح ایوان بھی مچھلی منڈی بن گیا تھا۔ ہم نے چلتے چلتے ٹی وی پر اس بارے میں سنا تھا۔۔۔ چپ سائیں نے سرد آہ بھری اور کہا۔۔۔گزرے وقتوں کی باتیں ہیں ایک محلے میں ایک مچھلی کا کاروبار کرنے والا رہتا تھا۔ اس کی شادی ایک مہذب لڑکی سے ہوگئی۔ اس شخص کے گھر سے ہر وقت مچھلی کی بوآتی رہتی تھی۔ اس عورت نے شروع شروع میںاپنا احتجاج باقاعدہ ریکارڈ کرایا پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی شروع کی اور اپنے گھر میں آنے والے مہمانوںکو یہ کہنا شروع کردیا کہ جب سے میںآئی ہوں دیکھا میںنے گھر کو صاف ستھرا رکھا ہوا ہے اور اب مچھلی کی بو ختم ہوگئی ہے، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اب اس کو اس ماحول کی عادت ہوگئی تھی۔چپ سائیںنے کہا مدعا نہ تو مچھلی منڈی کا ہے نہ ہی مچھلی کی بو اور اس عورت کا۔۔نتھو اور پھتو میںآج تم کو بتانا یہ چاہ رہا ہوںکہ ہم جن لوگوںکو اپنے ووٹ کی طاقت سے منتخب کرتے ہیں۔ وہ جب بڑی گاڑی میں اسلام آ باد پہنچتے ہیں تو پارلیمان میں کس قسم کی غیر پارلیمانی گفتگو کرتے ہیں وہ سب نے دیکھا ہے۔افسوس۔۔۔۔ ہمیںان کی اور ان کو ہماری عادت ہوچکی ہے۔۔ کیونکہ سسٹم تو وہی رہتا ہے اسی وجہ سے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں ۔صاحبو !قومی اسمبلی میں بجٹ پر اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران شور شرابے، ہنگامہ آرائی کے جو افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے اس سے دنیا میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے بارے میں کوئی اچھا پیغام نہیں گیا۔مجھے تو اس منظر سے نتھو اور پھتو تمہاری غیر مہذب گفتگویاد آگئی۔بات محض لفظی جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ ہنگامہ آرائی میں دونوں جانب سے کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی گئی۔ اپوزیشن کا تو کام ہی یہی ہے کہ حکومتی اقدامات پر تنقید کرے مگر اس بار وزراء اور سرکاری ارکان اسمبلی نے بھی بڑھ چڑھ کراس معاملے میںحصہ لیا۔ سارجنٹ ایٹ آرمز بھی بدنظمی پر قابو پانے میں ناکام ہو گئے۔نتھواور پتھو پاکستان کا المیہ اچھی قیادت سے محرومی ہے۔ ہم اپنے لیڈروں کو کوستے ہیں اور لیڈر ایک دوسرے کو، ساتھ ان کی کردار کشی بھی کرتے ہیں۔ وہ زمانہ گیا جب اخلاقی روایات سیاست میں قائم تھیں اور سیاستدان شدید مخالفت کے باوجود ایک دوسرے کی عزت و وقار اورمقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے تھے۔اچھی اور شائستہ زبان ہمیں قابلِ عزت بناتی ہے لہٰذا عقلمند لوگ ہمیشہ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔جس طرح محافل کے کچھ ادب آداب ہوتے ہیں بالکل اسی طرح پارلیمان میں بھی گفتگو کے کچھ آداب ہونے چاہئیں اورسیاست دانوں کے لیے بھی کوئی ضابطہ اخلاق متعین ہونا چاہیے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہےنئے کردار آتے جا رہے ہیںمگر ناٹک پرانا چل رہا ہے الیکشن میں سیاستدان اپنے مفاد اور مطلب کیلئے دن رات عوام سے اپنے رابطے بڑھا دیتے ہیں۔ ہر سیاستدان اور سیاسی جماعت ایک دوسرے سے بڑھ کر خود کو ملک و قوم کا ہمدرد ثابت کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی لیکن جب الیکشن گزر جاتے ہیں تو یہی اپنے حلقے سے غائب ہوجاتے ہیں۔عوام کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں افسر شاہی کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھانے پڑتے ہیں۔اس صورتحال پر ایک شعر یاد آرہا ہے کہتھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سےوہ بھی کم بخت ترا چاہنے والا نکلاعوامی کی سادگی دیکھئے کہ جن سیاستدانوں کووہ اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں، یہ سیاستدان عوام کی سادہ دلی اور بھولپن کا کوئی ایک مرتبہ فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اپنے اپنے حلقہ میں ایک ہی ایم این اے اور ایم پی اے کئی کئی دفعہ منتخب ہوتا رہتا ہے۔ سیاستدانوں کے اصلی چہرے کچھ اور ہوتے ہیں لیکن الیکشن کے دنوں میں انہوں نے اپنے چہروں پر مصنوعی چہرے سجا رکھے ہوتے ہیں۔ہیں کواب کچھ نظر آتے ہیں کچھدیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کُھلاسیاست ایک گندہ کھیل ہے لیکن جمہوریت ایک بہترین طرز حکومت ہے۔ خدارا اپنا طرز عمل درست کیجئے اور تعمیر وطن کا سوچیںتم ایسے رہبر کو ووٹ دیناوطن کو جو ماہتاب کر دےاُداس چہرے گُلاب کر دےجو ظُلمتوں کا نظام بدلےجو روشنی بے حساب کر دےتم ایسے رہبر کو ووٹ دینچپ سائیں نے کہا چلتے چلتے ایک بات یاد آگئی ۔ایک دوست بہت پریشان تھا، وہ میرے پاس آیاا ور کہا میں بہت پریشان ہوں،وجہ دریافت کی تو اس نے کہا ملک کے حالات بہت خراب ہیں۔پوچھا کہ حالات تم نے خراب کیے ہیں؟ وہ شخص کہنے لگا کہ نہیں۔ پوچھا کیا تم ٹھیک کرسکتے ہو؟ وہ بولا نہیں، تے ’’فیر چا پی‘‘۔۔۔عرض گزارش یہ ہے کہ ہر جگہ کے کوئی نہ کوئی ادب آداب ہوتے ہیں،دست وگریبان ہونا اورغیر پارلیمانی گفتگو مسئلے کا حل نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہماری ہی جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button