کالم و مضامین

“حج کی فضیلت وہمیت“

مولانا احمد ضياء منچن آباد
03017374121

حج کا ترانہ
لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک،
ان الحمدونعمةلک والملک لاشریک لک
حج در حقیقت خدا کے سامنے اس سر زمین پر حاضر ہو کر،جہاں اکثر نبیوں،رسولوں اور برگزیدہ بندوں نے حاضر ہو کر اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کا اعتراف کیا اپنی فرمانبرداری کا عہدواقرار ہے اور ان مقامات میں کھڑے ہوکراور چل کرخداکی بارگاہ میں اپنی سیاہ کاریوں سے توبہ کرنااور اپنے روٹھے ہوۓمولا کو منانا ہے تاکہ وہ ہماری طرف پھررجوع ہوکروہ اپنے تاٸب گنہگاروں کی طرف رجوع ہونے کے لیے ہر وقت تیارہے وہ رحم وکرم،لطف وعنایت کابحربےکراں ہے۔
یہی سبب ہے کہ
نبی کریمﷺنے فرمایا کہ حج اور عمرہ گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے،سونے اور چاندی کے میل اور کھوٹ کو صاف کردیتی ہے اور جو مومن اس دن(یعنی عرفہ کے دن)احرام کی حالت میں گزرتا ہٕ اس کاسورج جب ڈوبتا ہے تو اس کے گناہوں کو لے ڈوبتا ہے۔
حضرت عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا روایت ہے کہ محبوبﷺنےبشارت دی کہ عرفہ کے دن سےبڑھ کر کوٸی دن نہیں جس میں خدااپنے بندوں کو دوزخ کے عزاب سے آزاد کرتاہو۔وہ اس دن اپنے بندوں کے قریب ہو کر جلوہ گرہوتاہے اپنےبندوں پرفرشتوں کے سامنے فخر کرت ہے اور کہتا ہے”جوانہوں نےمانگاوہ ہم نے قبول کیا“ (صحیح مسلم ،نساٸی)
آپﷺنےیہ خوشخبری سناٸی کہ بدر کے دن کے سوا عرفہ کے دن زیادہ شیطان کسی دن ذلیل اور رسوا اور غضب ناک نہیں ہوتا کیوں کہ اس دن وہ دیکھتا ہے کہ خدا کی رحمت برس رہی ہے اور گناہ معاف ہو رہے ہیں ایسی اور بہت سی حدیثیں ہیں جن میں مخلصانہ حج کرنے والوں کو رحمت اور مغفرت کی نوید سناٸی گٸی ہے۔ (موطا امام مالکؒ)
ان تمام بشارتوں سے یہ بات ثابت ہوتا ہے کہ حج در حقیقت توبہ اور انابت ہے اس لیے احرام باندھنے کے ساتھ
لبیک اللھم لبیک
(خداوند میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں)کاترانہ دم بدم اس کی زبان سے بلند ہونے لگتاہے طواف میں،سعی میں صفا ومروہ پر عرفات میں، مزدلفہ میں،منی میں ہرجگہ جو دعاٸیں مانگی جاتی ہیں ان کا بڑا حصہ توبہ، اور استغفار کاہوتا ہے اور اس بنا پرکہ
”التاٸب من لذنب کمن الاذنب لہ“
گناہ سےبصدق دل توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا وہ اس کا گناہ نہیں اس لیے حج کرنے والوں کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
وہ مقامات جہاں انبیا ٕ علیہ صلواة والسلام پررحمتوں کا نزول اور انوارالہی کی بارش ہوٸی وہ ماحول وہ فضا وہ تمام گنہگاروں کا ایک جگہ اکٹھا ہو کر دعاوزاری،فریاد وبکا وہ قدم بقدم پرنبوی مناظر اور ربانی مشاہد جہاں اور اس کےبرگزیدہ بندوں کے بیسیوں نازونیاز کے معاملات گزر چکے ہیں دعا اور اس کے تاثر اور اس کےقبولیت کےبہترین مواقع ہیں۔
جہاں حضرت آدم وحوا علیہ والسلام نے اپنے گناہوں کی معافی کی دعا کی تھی۔
جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے دعا مانگی تھی ۔جہاں حضرت ھود اورحضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کی ہلاکت کے بعد اپنی پناہ ڈھونڈی جہاں دوسرے پیغمبروں نے دعاٸیں مانگیں۔
جہاں محمدﷺ نے کھڑے ہو کر اپنے اور اپنی امت کےلیے مانگیں۔
وہی مقامات وہی مشاہد اور دعاٶں کے وہی ارکان ہم گنہگاروں کی دعاۓ مغفرت کےلیے کس قدر موزوں ہیں پتھر سے پتھر دل بھی ان حالات اور مشاہد کے درمیان موم بننے کےلیے تیار ہوجاتے ہیں اور انسان اس ابر کرم کے چھینٹوں سے سیراب ہو جاتا ہےجو وقتافوقتا یہاں برگزیدگان الہی پرعرش الہی برستا رہا ہے اور
ہنوز آں ابر رحمت درفشاں است
انسان کی نفسیت(ساٸیکالوجی)یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کسی بڑے اور اہم تغیر کے لیے ہمیشہ زندگی کے کسی موڑاور حد فاصل کی تلاش کرتا ہے جہاں پہنچ کر اس کی گزشتہ اور آٸندہ زندگی کے دو ممتاز حصے پیدا ہوجاٸیں اس لیے لوگ اپنے تغیر کےلیے جاڑا،گرمی یا برسات کا انتظار کرتے ہیں بہت سے لوگ شادی کے بعد یا صاحب اولاد ہونے کے بعد یا تعلیم سےفراغت کے بعد کسی نوکری کےبعد یا کسی بڑی کامیابی کےبعد یاکسی خاص مہم یا سفر کے بعد یاکسی سے مرید ہوجانے کے بعد بدل جاتے ہیں یااپنے کو بدل لینے پر قادر ہوجاتے ہیں۔
کیونکہ یہ ان کی زندگی کے اہم واقعات اور سوانح ان کی اگلی اور پچھلی زندگی میں فصل اور امتیاز کا فرق ڈال دیتے ہیں جہاں سے اِدھر یااُدھر مڑ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔
حج درحقیقت اسی طرح انسان کی گزشتہ اور آٸندہ زندگی کے درمیان ایک حدفاصل کا کام دیتا ہےاور اصلاح اورتغیر کی جانب اپنی زندگی کو پھیر دینے کا موقع بہم پہنچاتا ہے یہاں سے انسان اپنی پچھلی زندگی جیسی بھی ہو اس کو ختم کرکے نٸی زندگی شروع کرتا ہے ان بابرکت مقاموں پرحاضر اور وہاں کھڑے ہو کر جہاں جلیل القدر انبیا ٕ کرام اور
خاصان الہی کھڑے ہو کر خدا کے گھر کے سامنے قبلہ کے روبرو جو اس کی نمازوں اور عقیدت اور مناجاتوں کی غاٸبانہ سمت ہے اپنی پچھلی زندگی کو کوتاہیوں پر ندامت اور اپنے گناہوں کا اعتراف اور آٸندہ
اطاعت وفرمانبردای کا وعدہ اور اقرار وہ اثر پیدا کرتا ہے کہ شرسے خیر کی طرف زندگی کا رخ بدل دیتا ہے اور زندگی کا گزشتہ باب بند ہوکر اس کا دوسرا باب کھل جاتا ہے۔
بلکہ یوں کہنا چاہۓ کہ وہ اس کے بعد اپنے نۓ اعمال کے لیے نۓ سرے سے پیدا ہوتا ہے اسی لیے
محبوبﷺ نےفرمایا
من حج اللہ فلم یر فث
ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ امہ
(جس نے خدا کے لیے حج کیا اور اس میں ہوس رانی نہ کی نہ گناہ کیا تو وہ ایسا ہوکر لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا)
یعنی ایک نٸی زندگی ایک نٸی حیات اور نیا دور شروع کرتا ہے جس میں دین اور دنیا دونوں کی بھلاٸیاں جمع اوردونوں کی کامیابیاں شامل ہوں۔
رسولﷺ کاارشاد ہے کہ
میرے منبرسے لے کر میرے روضہ اطہر کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کا ٹکڑا ہے۔سبحان الله

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button