کالم و مضامین

پولیس لائنز ہسپتال لاہور۔۔۔بہتری کی جانب گامزن

03029434176

پولیس لائنز ہسپتال محکمہ ہیلتھ پرائمری اینڈسکینڈری نے 2017 ء میں بنایاتھا۔ یہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اہسپتال ہے جو کہ 60 بیڈ زپر مشتمل ہے۔یہ ہسپتال ابھی تک صحیح انداز میں چل بھی نہیں سکا تھا یہاں تک کہ پولیس افسران کو بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ ہسپتال اُن کے ادارے کا ہے۔جب ایم ایس ڈاکٹر عدنان مسعود کی تعیناتی ہوئی، تب زیادہ سے زیادہ 100 سے 150تک آؤٹ ڈور مریضوں کی تعداد تھی، وہ بھی کبھی کبھار۔اس ہسپتال میں گائنی کے علاوہ،چلڈرن،آئی،جنرل سرجن اور بے ہوشی کے ڈاکٹرز کی سیٹیں ہیں جبکہ جنرل سرجن اور بے ہوشی کے ڈاکٹر کی سیٹیں تاحال خالی ہیں۔سامان تو موجود ہے مگر ہسپتال کو بطور ٹی ایچ کیو فعال ہی نہیں کیا گیا تھا۔ماضی میں تعینات ایم ایس صاحبان کے علاوہ پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی اس ہسپتال کو چلانے میں عدم دلچسپی و لاپرواہی کا مظاہرہ ہی کیا۔ موجودہ ایم ایس ڈاکٹر عدنان مسعود نے چارج لینے کے بعد اپنی بہترین کوششیں شروع کردیں تاکہ اس ہسپتال کو چلایا جاسکے۔اس کے علاوہ پولیس ملازمین کی کروناء وائرس کی سیمپلنگ کی گئی، جن میں 500 کے قریب پولیس ملازمین کے ٹیسٹ پازیٹو آنے پر پولیس کے تمام افسران کو اِس تشویش ناک صورتحال سے آگاہ کیا گیا، ساتھ میں چند میڈیاء پرسنز کی مدد سے افسران خواب خرگوش سے بیدار ہوئے۔معاملہ گھمبیر ہونے پر پولیس سمیت محکمہ ہیلتھ وسول اتھارٹیز حرکت میں آئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ایم ایس عدنان مسعود کو فوری طور پر کروناء وائرس وارڈ سمیت ویکسیئن سنٹر کا قیام عمل میں لانے کے لیے ضروری سامان فراہم کروایا گیا اور تمام ضروری اقدامات بھی کیے گئے۔ اس سے پہلے کروناء وائرس میں مبتلا ملازمین کو سرے سے کوئی ٹریٹمنٹ فراہم نہیں کی جاتی تھی چونکہ پولیس لائن ہونے کی وجہ سے بھاری تعداد میں پولیس اہلکاروں وفیملیز کی آمد کی وجہ سے کروناء وائرس پولیس ملازمین کے ساتھ ہسپتال کے عملہ کو بھی متاثر کرچکا تھا۔اس سے پہلے پولیس ملازمین جو کہ اپنے علاج و معالجہ کے لیے دیگر ہسپتالوں میں دھکے کھاتے او ررُلتے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ مخصوص لیبارٹری کے ٹیسٹ جن کی سہولت پولیس لائن ہسپتال میں دستیاب نہیں تھی، ان ٹیسٹوں کو کروانے کے لیے مقامی ہسپتال کوٹ خواجہ سعید اور گنگارام ہسپتال والوں کے ساتھ کوارڈی نیشن کیا گیا تاکہ پولیس ملازمین اور اُن کی فیملیز کے مریضوں کے ٹیسٹ کروائے جاسکیں۔ مریضوں کو ایمبولینس کے ذریعے دوسرے ہسپتالوں میں شفٹ کرواکر یہ ٹیسٹ کروائے گئے،کچھ ٹیسٹوں کو اِدھر بھی کروانے کی کوشش کی گئی۔ اب ایم ایس ڈاکٹر عدنان مسعود کی عمدہ، بہترین خدمات اور کاوشوں کی بدولت پولیس لائن میں موجود ہسپتال سے بہترین علاج ومعالجہ کی سہولتوں سے مستفید ہورہے ہیں۔ ایم ایس ڈاکٹر عدنان مسعود کی بہترین کارکردگی کو صوبائی وزیر ہیلتھ ڈاکٹر یاسمین راشد،سیکرٹری پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ سائرہ اسلم،کمشنر لاہور ڈویژن کیپٹن (ر)محمد عثمان،ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر ریاض ملک،سی سی پی او لاہورغلام محمد ڈوگر،ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نے بے حد سراہا ہے اور مستقبل میں پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے تمام تر سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ راقم الحروف نے صدر سوہنا پاکستان یونین آف جرنلسٹ مہر جنید رشید کے ہمراہ ہسپتال کا وزٹ بھی کیا۔ایم ایس ڈاکٹر عدنان مسعود نے اپنے ہسپتال کے نرسنگ سٹاف،فزیشن ڈاکٹر نافع و عملہ صفائی ستھرائی کو تعاون کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ خاص طور پرڈی ایس پی فرحت عباس کے اقدامات کو بے حد سراہا،جنہوں نے ڈسپلن،مریضوں کے کھانے،ایک پرانی بلڈنگ کواستعمال کرنے میں مکمل تعاون فراہم کیا۔اس کے علاوہ ہسپتال میں پولیس والوں کی فرمائش پر اہلکاروں کی ویلفیئر کے لیے ایک دن مختص کیا گیا،جس میں سرجن ڈاکٹر عمربٹ جوکہ پاکستان کے مایہ ناز آرتھوپیڈک اور ماہر امراض سپورٹس ہیں نے پولیس ملازمین کے کندھے اور گھٹنے کے امراض پر کیمپ لگایا۔چونکہ پولیس ملازمین دوران ٹریننگ اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں زخمی ہوجاتے ہیں ان کے علاج معالجہ کے لیے ڈاکٹر عمر بٹ سے وقت لیا گیا۔پولیس اہلکاروں کو بلامعاوضہ یہ سہولت فراہم کی گئیں تھیں۔پنجاب بھر سے تقریباََ 70 کے قریب پولیس ملازمین جو اپنے اپنے امراض کی ہسٹری لیکر آئے تھے، ان کو علاج کی سہولت ملی،اس کے علاوہ فزیوتھراپسٹ کی ماہر ٹیم بھی ان کے ہمراہ تھی۔ ڈاکٹر صاحب ہسپتال میں موجود انتظامات سے بہت خوش تھے۔اِس سے پہلے وہ سندھ میں آئی جی سندھ کی درخواست پر پولیس ملازمین کا علاج کرچکے ہیں۔ مستقبل میں پولیس ملازمین کو علاج معالجہ کی بہترین سہولت فراہم کرنے کیے لیے ایم ایس اور آئی جی ویلفیئر کی کاوش سے ڈاکٹر عمر بٹ کے ساتھ ایک معاہدہ ہوگیا ہے کہ وہ ہر مہینے میں ایک دن آکر پولیس ملازمین کا چیک اپ کریں گے۔ایس پی ہیڈ کوارٹر عمران احمد ملک نے پولیس لائن میں موجود ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کا افتتاح کردیاہے۔ ایم ایس ڈاکٹر عدنان مسعود جو کہ خود آرتھو پیڈک سرجن ہیں نے خود سب انسپکٹر امتیاز حسین کی ٹانگ کا کامیاب آپریشن کیا۔پولیس ملازمین کے لیے یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اب اُن کی تکالیف و مصائب کا علاج اِسی ہسپتال میں بہترین ڈاکٹرز وعملہ کی موجودگی میں ممکن ہوچکاہے۔خاص طور پر آرتھوپیڈک کی سہولت ایک انتہائی احسن اقدام ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر عدنان مسعود جو کہ لاہور جنرل ہسپتال کے فارغ التحصیل ہیں وہ خود پولیس ملازمین کے آرتھوپیڈک کے آپریشنز کررہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button