کالم و مضامین

’رسمِ جہیز نے مار دیں بے شمار بیٹیاں‘‘

’’میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے، خود بھی تھوڑ ابہت پڑھا لکھا ہوں۔ میںاکلوتا تھا ،میرے والد ایک غریب مزدور تھے، وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ان کی بیماری کے سبب مجھے جلد ہی عملی زندگی کا آغاز کرنا پڑا۔حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔میری شادی ہوئی، خوش قسمتی تھی بیوی اچھی مل گئی، یوں سمجھیں جیسے گھر جنت بن گیا۔۔۔الحمداللہ میرے گھر بیٹی ہوئی۔ہم نے مٹھائیاں تاشے بانٹے اورجی بھرکے خوشیاںمنائیں۔وقت گزرتا گیا،میں نے اپنی بیٹی کوخوب پڑھایا اور رانی کی طرح رکھا۔ اس کی ہر خواہش پوری کی۔ میرے پاس اگرچہ زیادہ رقم نہیںتھی لیکن ہر حال میں خوش رہتا تھا اور اپنے خاندان کی ہر خوشی پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔۔۔پھر۔۔۔ چوپال میں ایک طویل خاموشی چھاگئی۔ چپ سائیں، نتھو، پھتو سمیت سب لوگ انتہائی توجہ سے چوپال میں موجود اس گنجلے بالوں والے شخص کی بات سن رہے تھے۔۔۔چپ سائیں نے کہا بھائی پھر کیا ہوا؟وہ شخص دوبارہ گویا ہوا۔۔۔کہا پھر میری بیٹی شاد ی کی عمر کو پہنچ گئی۔۔۔ مجھے اور میری بیوی کو اس کی شادی کی فکر کھانے لگی۔۔۔کم آمدنی کے باوجود میری بیٹی میں سب گن تھے۔۔ ۔ سلائی،کڑھائی، خوبصورتی، خوب سیرتی لیکن شائد وہ نہ تھا۔۔۔ جو آج کل کی ڈیمانڈ تھی یعنی ۔۔۔۔اس کی شادی میں دینے کے لئے جہیز۔۔۔ اس کی عمر گزرتی جارہی تھی۔۔۔ بالوں میں چاندیںبھی چمکنے لگی تھی۔۔۔ لیکن میری وہ گڑیا جو ہر وقت ہنستی کھیلتی رہتی۔۔۔ اس کو جیسے چپ سی لگ گئی ہو۔۔۔ اس کا رشتہ دیکھنے کے لئے جو بھی آتا۔۔۔ وہ اس کی تعریف ضرور کرتا لیکن جب ڈیمانڈوں کی بات آتی تو جتنی طویل فہرست بتائی جاتی ۔۔۔ وہ سب میرے بس سے باہر تھا۔۔۔ مجھے بھی وقت کے ساتھ ساتھ چپ سی لگ گئی۔۔۔پھر ایک دن نجانے میری رانی کو کیا ہوا کہ اس نے فیصلہ کرلیا کہ اب وہ شادی نہیںکرے گی۔۔۔ وہ کوئی شو پیس نہیںکہ ہر کسی کے سامنے سج سنور کے آئے۔۔۔ اور بار بار ریجیکشن اور وہ بھی جہیز کی لعنت کی وجہ سے۔۔۔ جس کو اب لڑکے والے تحائف اور لڑکی کی ضرورت کا نام دیتے تھے۔۔۔ہر آنکھ اشکار اور لہجہ غمگین ہوگیا۔۔۔ سب سوالی نظروںسے سوال کررہے تھے کہ پھر کیاہوا؟۔۔۔ہمت کرکے وہ شخص بولا بھائی اب میری بیٹی سکول میں پڑھائی ہے اور گھر کا خرچ بھی چلاتی ہے ۔ وہ میرا بیٹا بن چکی ہے اور اس نے شادی کو دل سے نکال دیا ہے۔ میں اس کو سرخ لباس پہنا کر سسرال بھیجنا چاہتا تھا لیکن اب اس بارے میں بات کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس موضوع پر اس کے لہجے میں انتہائی سختی آجاتی ہے۔۔۔۔چوپال میں سب خاموش تھے جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔۔۔ چپ سائیں بولے اور انہوں نے اس موقع پر ایک شاعرکا شعر سنایابھیج کر ہم جہیز پر لعنتاہل‌ غربت کی لاج رکھتے ہیںتوقف کے بعد گویا ہوئے صاحب اہل ودانش یہ وہ ناسور ہے جو ہمارے ملک میں اکثر وبیشتر والدین کو اندر سے کھائے جارہا ہے لیکن غریب مزدور والدسوئی سے لے کر بڑی سے بڑی آسائش کی اشیا پوری کرنے کے لئے دن رات ایک کرتا ہے لیکن پھر بھی جب کوئی چیز باقی رہ جائے تو۔۔۔۔صرف باتیں ہی سننی پڑتی ہیں۔۔۔لے کر جانے والے یہ کیوں نہیںسوچتے کہ جس نے بیٹی یعنی جگر کاٹکڑا دے دیا۔۔۔ اس سے بڑھ کرکیا ہے۔ اپنے گھر کی رانی،والدکی آنکھوںکا تارا دے دیا لیکن وہی باپ یہ نہیں جانتا کہ اس کی بچی کو اس کے سسرال میں جاکر آرام ملے گا بھی یا نہیں۔۔۔ یہ کہتے کہتے چپ سائیں خاموش ہوگئے۔۔۔باپ بوجھ ڈھوتا تھا کیا جہیز دے پاتااس لئے وہ شہزادی آج تک کنواری ہےکسی شاعر نے کیا خوب کہا ہےہوا کے ہاتھ نہ لگ جائے موسموں سے کہوکہ ایک پھول کا سارا جہیز خوشبو ہےچپ سائیں نے کہا صاحبو!جہیز اورتحائف کی ڈیمانڈ کرنے والوں سے ایک سوال ہے کہ یہی والدین جب اپنے بیٹوں کے لئے رشتے تلاش کرنے نکلتے ہیں تو کیا ان کو لڑکیوں کے والدین کی آنکھوں میں بے بسی و لاچاری نظر نہیں آ تی۔ وہ ان سے واشگاف الفاظ میں یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہمیں کوئی جہیز وغیرہ نہیں چاہئے ۔ہم آپ سے بیٹی کی شکل میں جو قیمتی متاع لے کر جا رہے ہیں، اس سے زیادہ اہمیت کی حامل کوئی شے نہیں ہو سکتی۔ آپ کی بیٹی ہی ہمارے بیٹے کےلئے سب سے بڑا جہیز ہے ۔ لڑکے کے والدین بہو تلاش کرتے وقت سوچتے ہیں کہ انہیں لڑکی کے ساتھ ساتھ قیمتی سامان بھی ملے گا، جس سے گھر بھرے گا۔ ایسے میں ا گر ان کا ضمیر انہیں جھنجوڑنے کی کوشش کرے تو وہ اسے یوں لوری دے کر سلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی زبان سے تو جہیز نہیں مانگا۔ لڑکی کے والدین اپنی خوشی سے بیٹی کو جو دینا چاہتے ہیں، وہ دے رہے ہیں اور لازمی سی بات ہے کہ وہ جو کچھ دے رہے ہیں، وہ ان کی بیٹی نے ہی برتنا ہے۔غنیمت ہے ، اتنا توہوا کہ کچھ سلیم الفطرت انسانوں کی کوششوں سے کم از کم پڑھے لکھے طبقے میںہی سہی جہیز کے تذکرے اب باعث فخر نہیں سمجھے جاتے لیکن بات یہاں سمجھنے اور سمجھانے کی حد تک نہیں ہو رہی ہے بلکہ چند قدم اور آگے بڑھنے کی ہورہی ہے۔مشاہدے میں آیا ہے کہ جس لڑکی کے ساتھ جتنا جہیز جاتا ہے اس کی اتنی ہی عزت کی جاتی ہے۔ ہاں، یہ عزت کب تک کی جائے گی یہ سسرال والوں پر منحصر ہے۔ دل کیا تو مرتے دم تک عزت کریں گے ورنہ گھر لاتے ہی بات سنا دیں گے۔ جن کے ساتھ جہیز نہیں جاپاتا یا کم جاتا ہے، ان کی داستانیں ہم اور آپ میڈیا کی زبانی سنتے ہیں۔ ایسی عورتیں یا تو چولہا پھٹنے سے مر جاتی ہے یا سیڑھیوں سے پھسل کر گر جاتی ہیں یا گھر سے نکالی جاتی ہیں یا کسی گولی کا نشانہ بن جاتی ہیں۔ جو اس قدر انتہا پسند نہیں ہوتے وہ بیوی کو کسی بھی فرمائش پر ’باپ کے گھر سے لے آنا تھا نا‘ کہتے پائے جاتے ہیں۔اس کے علا وہ اگر کبھی کوئی بھی رسم ورواج کی بات آتی ہے تو سسرال جو اس کا اصل گھر ہے وہاںسے ضرورت پوری ہونے کی بجائے، ساس، نند، بھاوج یا شوہر کی طرف سے ایک ہی بات سننے کوملتی ہے کہ ’’جائو جاکر اپنے میکے سے لے آئو‘‘۔۔۔افسوس صد افسوس ہماری سوچ آج بھی نہیں بدلی۔۔۔ہم گھر آنے والی بہو کے لئے تو اور سوچ رکھتے ہیںاور بیٹی کے لیے سوچ رکھتے ہیں۔۔۔فرق اور انتظار صرف مکافات عمل کا ہے۔۔۔انتظاراور صبر کرنا پڑتا ہے ۔ آج کل معاشرہ انسانیت کی جگہ دولت کا پرچار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے اپنے دین اسلام کی تعلیمات کو بھلا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم برائیوں کی دلدل میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ ہم بھول گئے کہ اسلام میں جہیز کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔جہیز تحفہ کے نام سے ہمارے سماج کاایک لازمی حصہ بن گیاہے، جو دھیرے دھیرے ایک ناسوربن چکاہے۔جہیز کے معاملے میں فرمائشی پروگرام تو اب نہیں چلتا لیکن ’ہم تھوڑی مانگ رہے ہیں، یہ تو خود اپنی بیٹی کو دے رہے ہیں‘ کے نام پر جہیز بے حد خوشی سے وصول کیا جاتا ہے یعنی جہیز ایک لعنت ہے، پر دے دیں تو کیا ہی بات ہے۔ اسی بہانے ہمارے گھر کا فرنیچر بھی تبدیل ہو جائے گا۔صاحب اہل ودانش بیوی اپنے ساتھ کمرے کا سامان تو لاتی ہی ہے، ساتھ ہی ساتھ ڈرائنگ روم، لاؤنج اور باورچی خانے کا سامان بھی لاتی ہے۔ جہیز وہ لاتی ہے، عزت ان کی بن جاتی ہے۔ یہ بیوی کے لائے بیڈ پر سوتے ہیں، اس کی لائے ہوئے برتن استعمال کرتے ہیںاور اس کی لائے صوفے پر بیٹھ کر اسے باتیں سناتے ہیں۔۔۔ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس بے چاری کو جہیز لانے کا کیا فائدہ ہوا؟ اسے تو لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی عزت نہ ملی۔ ہمارے معاشرے میں شادی کرنا ویسے ہی ایک مشکل کام ہے، جہیز اکٹھا کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ مڈل کلاسیے تو بیٹی کے پیدا ہونے کا سنتے ہی جہیز کی فہرست بنا لیتے ہیں۔ اس سے بڑا ستم اور کیا ہوگا کہ لڑکی والے جہاں بیٹی کی عزت کم ہوتی دیکھتے ہیں وہیں تحفے تحائف لے کر پہنچ جاتے ہیں اس کے لئےتو بس مواقع تلاش کئے جاتے ہیں اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ بس یونہی کہ بیٹی کا معاملہ ہے، کرنا پڑتا ہے، پھر بھی ان کی بیٹی کو ویسی عزت نہیں ملتی جیسی ملنی چاہیے۔کسی نے کیا خوب کہا ہےرسمِ جہیز نے مار دیں بے شمار بیٹیاںاب تو اِس رواج سے ہیں بے زار بیٹیاںکیسے انہیں جہیز دیں، کیسے شادیاں کریںجس غریب باپ کی ہوں دو، چار بیٹیاںغش کھا کھا کر رونے والی عورتیں پتا نہیں یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ ان کا تعلق بھی اسی جنس سے ہے،کیا وہ یہ چاہتی ہیں کہ انکی پیدائش پر کوئی خوشی منانے کے بجائے روئے؟ انہیں تو یہ سوچ کر ہی غش پڑ جائیں کہ انکی پیدائش پر کسی نے افسوس کیا تھا۔ ایک بیٹی کو بوجھ سمجھنے والا مرد ایک بیٹے کیلئے سات سات بیٹیوں کا بھی بوجھ اٹھا لیتا ہے اور پھر وہ اگر نکما نکلے تب بھی رحمت ، پھر اس ماں کو بھی وہ بیٹا زیادہ پیارا ہو جاتا ہے۔بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیںگھرخداکوجوپسند آئے وہاں ہوتی ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button