کالم و مضامین

کروناتیسری لہر، ہر شعبے میں امریکی امداد تاریخی۔۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے تاریخی اور دوستانہ رہے ہیں اور انہیں تعلقات کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں، پولیو ، تعلیمی ، دفاعی، سیاحتی شعبہ جات سمیت ہر شعبے میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو امداد فراہم کی گئیں ۔ پاکستانی غریب، مستحق لوگوں میں راشن کی تقسیم ہو یا دیگر دفاعی معاملات، امریکہ ہمیشہ پیش پیش رہا۔ کرونا کی پہلی دو لہروں کے بعد تیسری لہر جس کے زیادہ اثرات ایشیاء میں دیکھے گئے، اس صورتحال میں امریکہ بھی کسی سے پیچھے نہ رہا اور پاکستانی حکمران اور عوام کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا۔
8مئی 2021 کو امریکہ کی جانب سے کرونا ویکسین آسٹرین زینکا کی 12 لاکھ خوارکیں پاکستان پہنچیں، امریکہ اب تک ویکسین کے عالمی اتحاد کی تنظیم گاوی کو 2 ارب ڈالر فراہم کرچکا ہے اور 2022 تک مزید 2 ارب ڈالرعطیہ کرے گا۔ امریکہ ویکسین تک رسائی کی کوویکس ایڈوانس مارکیٹ کو بڑے پیمانے پر عطیہ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ پاکستان میں قائم مقام امریکی سفیر اینجیلا ایگلر نے بھی اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرونا کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کےلئے مشکل وقت ہے اور امریکہ اس مشکل میں کرونا کو شکست دینے کےلئے پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے، امریکی حکومت نے یو ایس اے آئی ڈی کے ذریعے دنیا کے کم اور درمیانی آمدنی والے کورونا سے متاثرہ 92 ممالک کیلئے محفوظ اور کارآمد کورونا ویکسین کی خریداری اور ترسیل کے حوالے سے کوویکسس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ یہ تعاون عالمی وبا پر قابو پانے اور اس کی نئی اقسام کو روکنے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ عالمی سطح پر معیشت کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔
صحت کے شعبہ میں امریکی تعاون ہمیشہ مثالی رہا اور کرونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کےلئے بھی امریکہ نے پاکستان کے ساتھ مثالی تعاون کر رہا ہے، امریکہ نے پاکستان کو 35 ملین ڈالر کی اضافی رقم بھی فراہم کی جس میں 64 اسپتالوں کیلئے 200 وینٹیلیڑز بھی شامل ہیں جس سے ملک میں سانس کی بیماریوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے 30 فیصد بہتری آئی جس سے سالانہ 6 ہزار انسانی جانوں کو بچایا جا رہا ہے۔ یو ایس اے آئی ڈی نے وینٹیلیٹرز کوآپریٹ کرنے کیلئے 400 ہیلتھ ورکرز کو تربیت بھی فراہم کی۔ یو ایس اے آئی ڈی نے پاکستان کے تمام 155 اضلاع میں صوبائی سطح پر بیماریوں کی روک تھام کیلئے رسپانس ٹیمیں تشکیل دیں۔ ادارے نے ییلتھ ورکرز کیلئے ہیلتھ الرٹ فون ایپلی کیشن کا نظام تشکیل دیا جس سے دیہی علاقوں میں کورونا کےنئے کیسز کو رپورٹ کیا جاتا ہے۔ یو ایس اے آئی ڈی نے معاشی سیکٹر میں تعاون کے لیئے پاکستان میں عالمی نجی برانڈز جیسا کہ فوڈ پانڈا کے ساتھ شراکت داری کی جس کے ذریعے گھر بیٹھے فوڈ بزنس کرنے والی 90 خواتین کو مدد ملی تاکہ وہ عالمی وباء کے دوران کھانے پینےکا یہ بزنس اپنےگھروں سےجاری رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ امراض پر قابو پانے اور ان کے تدارک کے حوالے سے امریکی سنٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے ہنگامی آپریشنز اور امدادی سرگرمیوں کے علاوہ افرادی قوت میں اضافے کیلئے بھی اہم تیکنیکی معاونت فراہم کی۔
امریکہ کی جانب سے کرونا سے نمٹنے کےلئے پاکستان کے ساتھ تعاون کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے 5جون 2021 کو امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ( یو ایس ایڈ) کی توسط سے ہنگامی طبی امداد کا سازوسامان پاکستان پہنچایا گیا تھا جس کا مقصد پاکستان میں انسانی جانوں کو بچانا، کروناکے پھیلاؤ کی روک تھام اور ملک کی ہنگامی طبی ضروریات کو پورا کرنا تھا، کرونا وبا سے نمٹنے کےلئے جو پاکستان امریکہ کی جانب سے پاکستان پہنچایا گیا اس میں وبا سے ذاتی تحفظ کا سامان، نبض کی جانچ میں کارآمد آکسی میٹر زاور نگہداشت کے لیے درکار نہایت ضروری اور مطلوبہ طبی سامان شامل تھا۔ یو ایس ایڈ مذکورہ آلات کے استعمال اور دیکھ بھال کے لیے فنی معاونت بھی فراہم کر رہا ہے۔
یو ایس ایڈ کی جانب سے 2020 میں وباء آنے سے لیکر اب تک پاکستان سمیت 120 ممالک میں اپنا تعاون فراہم کر چکا ہے کیونکہ ہمیشہ سے انسانوں جانوں کے تحفظ اور وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں یو ایس ایڈ مصروف رہا ہے۔ یو ایس ایڈ نے کرونا وبا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 18جون 2021 کو نیپال اور پاکستان کےلئے مزید امداد فراہم کی جس میں 4لاکھ کے این 95 ماکس اور 4لاکھ 50ہزار ڈسپوزیبل گائونز فراہم کئے ۔
یو ایس ایڈ کی جانب سے جاری اقدامات ہنگامی ریلیف کی فراہمی، حفظانِ صحت کے نظام کی استعداد کار میں اضافہ ، ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے عمل میں وسعت، عوامی صحت کی تعلیم ، صحت کی سہولیات کے اداروں میں بہتری اور طبی کارکنوں کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔
امریکی حکومت نے پاکستان میں کرونا کے سدباب کے لیے 40ملین ڈالر مختص کیے ہیں، جس میں کرونا متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے 200وینٹی لیٹرز کا عطیہ بھی شامل ہے۔ اس امداد سے ملک بھر میں 25 لاکھ پاکستانی مستفید ہوئے ہیں اور انسانی جانوں کے بچاؤ کےلیے علاج کی سہولت، مریضوں کی نشاندہی اور وبا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاری کے لیے مالی اعانت کے نت نئے اقدامات میں مددمیسرآئی ۔
یو ایس ایڈ کی معاونت میں 96 کم آمدنی اور متوسط طبقے والے ممالک کو کرونا ویکسین کی خریداری اور تقسیم میں مدد کےلئے قائم کردہ تنظیم کو امداد فراہم کرنا ہے۔ گاوی کی جانب سے شروع کردہ کوویکس پروگرام کا مقصدصف اول کے صحت عامہ کارکنوں سمیت دنیا بھر میں خطرات سے دوچار آبادیوں تک انسداد کرونا ویکسین کی منصفانہ رسائی ممکن بنانا ہے۔ مئی میں پاکستان نے کوویکس کی کوششوں کے نتیجہ میں آکسفورڈ آسٹرازینکا ویکسین کی بارہ لاکھ اور فائزر کی ایک لاکھ خوراکیں وصول کیں جو کہ پاکستان میں کرونا بچائو کے حوالے سے کافی مفید ثابت ہوئیں۔
امریکی ناظم الامور لیزلی وگیوری نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ ہمیشہ کی طرح پاکستان کے ساتھ اپنی قابل فخر شراکت جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان میں کرونا کے سدباب کے لئے دونوں ممالک نے مل جل کر کام کیا اور ہم نے پاکستان کو کرونا کےخلاف لڑائی میں تنہا نہیں چھوڑا۔
پاکستان کی ترقی میں امریکہ نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا جس کو پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کا خواہاں رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button