کالم و مضامین

"تحفظ ختم نبوت”

عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اسلام کی بنیاد ہے جس کے بغیر دین اسلام کی عمارت کسی صورت قائم نہیں رہ سکتی خود سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء علیہم السلام کی نبوت کو عمارت کے ساتھ تشبیہ دی اور اپنی نبوت کو آخری اینٹ قرار دیتے ہوئے نبوت کی عمارت کو مکمل فرما کر کسی بھی ظلی ،بروزی کے لیے ہمیشہ کےلئے دروازہ بند کردیا اور ارشاد فرمایا کہ میں عمارت کی آخری اینٹ ہوں جس کے بعد نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی اور ارشاد فرمایا کہ” میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں”سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک ارشاد کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کسی بھی مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا بلکہ انہیں ٹھکانے لگانے کے لیے اپنی جانوں کی قربانی پیش کر کے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیا۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرمایاماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شیء علیما (الاحزاب)ترجمہ محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے۔لیکن رسول ہے اللہ کا مہر سب نیبوں۔اللہ سب چیزوں کوجاننے والا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاحضرت ثوبان رض روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا۔۔ (رواہ مسلم)شعریوں عشق کی تکمیل مسلمان کریں گےاس جان دولم پہ فدا جان کریں گے۔کافر ہے جسے ختم نبوت کا انکارروگے گا ہمیں کون یہ اعلان کریں گے۔ختم نبوت کا عقیدہ ان اجمالی عقائد میں سے ہے اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں۔عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہرمسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ قرآن مجید کی ایک سو 100آیات،رحمت عالم کی دوسو دس210احادیث متواتر سے یہ۔مسئلہ ثابت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ کی امت کا سب پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا۔چنانچہ امام العصر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ ,اپنی کتاب خاتم النبیین، میں تحریر فرماتے ہیں اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کزاب کے قتل پر اجماع تھاجس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا۔اس کی دیگر گھناؤنی حرکات کا علم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس قتل کے بعد ہوا تھاجیسا کہ ابن خلدون رحمتہ اللہ علیہ نے نقل کیاہے اس کے بعدقرنا بعد قرن مدعی نبوت کے کفروارتداد اور قتل پر ہمیشہ اجماع بلا فصل رہا ہے اور نبوت تشریعیہ کی کوئی تفصیل کبھی زیر بحث نہیں آئی(خاتم النبیین مترجم۔ص197)عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئیں ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کل تعداد 259ہے(رحمت للعالمین ج نمبر 2ص213)اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبر رض کےعہدخلافت میں مسیلمہ کزاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی،جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کی تعداد بارہ سو 1200ہےجن میں سے سات سو 700 قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے اورستر70بدری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے(ختم نبوت ص304حصہ سوم ازمفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ)رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی کل تعداد کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لیے جام شہادت نوش کر گئی اس عقیدہ ختم نبوت کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ہر چیز کی ابتداء بھی ہوتی ہے اور ہر چیز کی انتہا بھی ہوتی ہےسلسلہ نبوت اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا عقل وانصاف کا تقاضہ بھی تھاکہ اس کا کہیں اختتام ہوچنانچہ اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اختتام فرمایا اور فرمان نبوی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہیںاول الانبیاء آدم وآخر ھم محمد صلی اللہ علیہ وسلم(کنزل ایمان11ص480)ترجمہسب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہےاور سب سے آخری نبی میں ہوں۔پوری دنیا میں قادیانی اگر جھوٹے نبی کی خاطر اپنی توانائیاں اور صلاحیتیںئ خرچ کر رہے ہیں توہم اپنے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کیونکر پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تحفظ یہ ہماری ذامہ داری نہیں؟اور کبھی ہم نے اپنی ذامہ داری کی جانب کوئی توجہ دی ؟دینی ومذہبی حلقوں کے علاوہ دنیا کے کسی کونے سے تعلق رکھنے والے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس فتنے کاتعاقب میں جہاں تک ممکن ہوسکے اپنا کردار ادا کر ے اس کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام ہرطبقہ فکرسے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی،صحافی وکلاء اور تاجروں کی بھی ذامہ داری بنتی ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ میں اپنا اپنا کردار ادا کرے تاکہ کل روز محشر ان کی نجات کا ذریعہ بن سکےفتنہ قادیانیت کے خلاف کام اور ناموس رسالت کا تحفظ یہ ہمارا دینی فرض ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ومحبت کاتقاضہ اور روز محشر محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ بھی ہے بر صغیر کے معروف عالم دین تحریک ختم نبوت کے بانی سرخیل فخرالمحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام تم کرو جنت کی ضمانت میں دیتا ہوں اور جو شخص ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں ضرور داخل فرمائیں گے چونکہ وہ دنیامیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کا چوکیدار رہا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی چوکیداری کرنے والے کو کبھی بھی رسوا نہیں فرمائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس کی چوکیداری کرنے والے کی دنیا بھی کامیاب آخرت بھی کامیاب ہو گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button