کالم و مضامین

بغل بچہ و تبدیلی سرکار

تبدیلی سرکار کے دور میں اب تک ایڈمنسٹریشن کی تبدیلی کا جھکڑ رکنے کا نام نہیں لے رہاہے۔صوبائی دارالحکومت کی بغل میں واقع ضلع قصور جس کو بغل بچہ کا خطاب دینا ہی قرین انصاف ہے چونکہ ابھی تک اسی کی نوک پلک ہی نہیں سنواری جاسکی ہے۔گڈگورننس کے دعوؤں پر حقیقی عملدرآمد ہنوز است دلی دور است ہے۔بیک وقت دونوں پائلٹس کی تبدیلی دیکھیں کیا رنگ لاتی ہے کیا وزیراعظم کی خواہش کے مطابق ایک ماڈل ضلع بنانے میں کامیاب ہوپاتی ہے یا پھر ملازمین کی من مانیوں اور مفاداتی سیاست کے ٹھیکیداروں کے سامنے سرنگوں ہوکر وقت گزاری کو ترجیع دیکر بہترین یا کسی حد تک بہترین گڈگورننس کی عوامی امنگوں کے جہاز کو فضاء میں ہی کریش کرواتے ہیں ان کپتانوں یا پائلٹس کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔ایک سخت ترین امتحان ہوگا۔امن وامان کی صورتحال عملی طور پر مخدوش ہے نئے ڈی پی او قصور صہیب اشرف صاحب جو کہ موجودہ آئی جی صاحب کے افسرخاص کے عہدے پر تعینات تھے وہاں سے قصور کی کمان کا سندیسہ لیکر آئے ہیں ان سے عوام امید کرتی ہے کہ وہ بلا جھجک مصلحتوں کو بلائے طاق رکھ کر مخلوق خدا کی خدمت کریں گے،اسی طرح ڈی سی قصورفیاض موہل جو کہ جھنگ جیسے ضلع سے ادھر تشریف لائے ہیں سے بھی عوام کی ملتی جلتی امید یں وابستہ ہیں یقینا ان کے دروازے پر سائلین کو باربار معمولی شکایتیں لیکر نہیں آنا پڑے گا۔کچھ چیلنجز ان دونوں افسران کو درپیش ہوں گے کوشش ہے کہ سمندر کو کوزے میں بند کرکے نشاندہی بلا امتیاز کرسکوں اس لیے کے مسائل انتہائی ذیادہ ہیں،بڑھتی ہوئی مہنگائی و بیروزگاری سے جرائم میں بلاشبہ اضافہ ہواہے مگر وہیں روایتی پردہ پوشی وپشت پناہی بھی جوں کی توں ہے اس کی واضع مثال سول محکموں کے ڈیش بورڈز کی تکمیل کی طرح پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بھی خانہ پری عروج پر ہے۔ایس ایچ اوز کی تعیناتی میں بھی سیاسی وسفارشی کلچر کے سامنے قابلیت کا سورج غروب ہوجاتاتھا اس سے کرائم کی وارداتیں نقطہ عروج کی طرف گامزن ہیں یہ بجاہے کہ سابقہ ڈی پی او عمران کشور نے اپنے تئیں بہترین کاوشیں کی ہوں گی مگر موثر ترین حکمت عملی کا فقدان ہی تھا۔آخری مثال ضلع بھر میں منشیات کے استعمال میں خطرناک حدتک نوجوان نسل غرق ہوچکی ہے اور کنٹرول صرف کاغذی کاروائیوں وایف آئی آرز کاٹارگٹ پورا کرنے کی حد تک محدود ہے۔کپتان سول ایڈمنسٹریشن فیاض موہل صاحب جن کے بارے یہی تاثر اب تک سامنے آیا ہے بہت کہنہ مشق افسر ہیں اپنے ماتحت تمام اداروں خاص کر جن سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں ان کی کارکردگی پر خصوصی توجہ دیں سرفہرست ریونیو افسران کی کارکردگی زمینوں کے کیسز کے فیصلوں کو جلدازجلد کرواکر نسل درنسل کیس چلنے والی مایوس کن ریت کو ختم کرکے ایک نئی تاریخ رقم کریں،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو قصور محمد ارشد بھٹی صاحب کی قابلیت وصلاحیت کاسخت ترین امتحان ہوگا کیونکہ ماضی میں زمینوں کے کیسز کے معاملات میں عوام الناس کو مایوسی کا ہی سامنا تھا۔میونسپل کمیٹیز کی کارکردگی بھی سرے سے فضول ترین ہے بوگس بلز اور ملی بھگت سے ٹیکس چور ی کروانا ان کے لیے معمولی اہمیت رکھتے ہیں میونسپل کارپوریشن قصور کے کیسز اس حوالے سے اینٹی کرپشن میں چل رہے ہیں۔ناجائز تجاوزات کا جن تو ایسا منہ زور ہے کہ کوئی بھی قابونہیں پا سکاہے اس وجہ سے ضلع بھر کے روڈز تنگی داماں کا منظر پیش کرکے انتظامیہ کو منہ چڑاتے ہیں،ناجائز تجاوزات کو مکمل ختم تو نہیں کیا جاسکتاہے مگر متبادل جگہوں پر ان لوگوں کو روزگار کی جگہ کی فراہمی ہی ایک دوراندیش افسر کی بہترین کاوش ہوتی ہے جو اگر عملی صورت اختیارکرلے تو کیا ہی کمال ہوجائے۔ضلع بھر کی سڑکوں کے فٹ پاتھ کو ازسرنومرمت کرنے کی اشد ضرورت ہے چونکہ دوکانداروں نے دوکانیں اونچی کرنے کے چکر میں سڑکیں ندی نالوں میں بدل دیں ہیں عملی مثال قصور کوٹ رادھاکشن روڈ پر واقع گاوں تھہ شیخم ہے تحصیل کونسل کی اپنے دور میں کارکردگی انتہائی نکمی تھی اور ضلع کونسل کی بھی لگتاہے نکمی ہی رہے گی۔ڈی سی قصور فیاض موہل کو چاہیے کہ ضلع بھر کے شہروں و قصبہ جات میں ناجائز تجاوزات کی مکمل تفصیلات منگوائیں ساتھ میں سول ایجنسیز کی رپورٹس منگوائیں خفیہ دورے کریں اس پر ایک موثر لائحہ عمل بناکر اس کا مستقل حل نکالیں۔ اس کے بعد قصور ٹینریز ویسٹ مینجمنٹ ایجنسی پر طائرنہ نظر ڈالیں یہ نہ ہوکہ کہیں گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ کی مانند ساراآشیاں ہی جل جائے۔ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بھی پوری کی پوری کابینہ ہی تبدیل ہوچکی ہے سی ای او صاحب بھی لاہور جیسے شہر سے یہاں تشریف لائے ہیں ان کا بھی سخت ترین امتحان ہوگا کیسے مافیاء کے سامنے کھڑے ہوکر سابقہ سی ای او اظہر عباس کی مانند ہلکی پھلکی سرجری کرکے اس پھلدار پودے کو عوام واپنے لیے کیسے فائدہ مند بناتے ہیں۔ایک معتبر افسر ڈاکٹر حفیظ کی کارکردگی کا خصوصی جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے کیا صرف ٹی سی مارنا ہی اچھی کارکردگی ہوتی ہے کیا افسران کے کان بھر کر سب اچھا کا راگ اُلاپا جاسکتاہے یہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر میڈیسن ہیں ٹی بی سمیت دیگر ادویات کیا واقعی ہی عوام الناس تک پہنچ رہی ہیں یا پھر کہیں عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ ہورہاہے کیا افسران بمطابق ٹور پلان وزٹ بھی کرتے ہیں یا ماتحتوں کے ذریعے ہی خانہ پری کرلی جاتی ہے تمام اداروں میں اور ٹی اے کے نام پر عوامی پیسہ اپنی جیبوں میں منتقل کرلیاجاتاہے۔ہسپتالوں کی کارکردگی پر ازسرنوجائزہ لیکر نئی حکمت عملی مرتب کئے کے بغیر مناسب عوامی خدمت کا دعوی ادھورا و جھوٹا ہی رہے گا۔سابقہ ڈی سی نے بیوٹی فیکیشن پر خصوصی توجہ دی تھی یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے،ڈسٹرکٹ انفرمیشن افسر نفیس انسان ہیں امید ہے صحافتی مافیاء کے بارے میں موہل صاحب کو درست رہنمائی کردیں گے۔ایجنسیز کی کارکردگی حوصلہ افزاء نہیں ہے۔(جاری ہے)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button