کالم و مضامین

میونسپل کارپوریشن سرگودھا کے لیے نیا چیلنج


موسم بدلہ سردی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا تو عوام نے گرم کپڑوں کے لیے بازار کا رخ کیا سردیوں میں گرم کپڑوں کے ساتھ ساتھ جرسی سویٹر جیکٹس گرم جوتے اور جرابیں ہر امیر غریب کی یکساں ضرورت ہوتے ہیں جسکے لیے عوام کی اکثریت لنڈا بازار یا روڈز پر ریڑھی لگائے گرم کپڑوں کے سٹالز سے خریدو فروخت کرنا اپنے لیے زیادہ مناسب سمجھتے ہیں. کل بازار سے گرز ہوا تو دیکھا کہ تجاوزات، مہنگائی اور پارکنگ کے مسائل میں گھری میونسپل کارپوریشن سرگودھا اور چیف آفیسر خالقداد گاڑا کے لیے ایک اور بڑا چیلنج کارپوریشن کے دروازے پر دستک دے رہا ہے آفس کے سامنے کمپنی باغ شاہین چوک اور دوسری طرف سول ہسپتال کی دیوار کے ساتھ نوری گیٹ تک تاحدِ نظر لگے پٹھانوں کے ٹھیلے جو کہ انتظامیہ کا منہ چڑاتے نظر آ رہے تھے تھوڑا آگے پل اتر کر خیام چوک سے یونیورسٹی روڈ پر سفر شروع ہوا تو ایک خوشگوار ماحول اور خوبصورت کشادہ دو رویہ سڑک جسکے اطراف سر سبز پھول اور تزئین و آرائش سے پھرپور در و دیوار ذہن پر اپنا اثر چھوڑتے محسوس ہوئے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک سوال نے میرے ذہین میں انتشار پیدا کیا اپنی فطری حس کو جگایااور سوچا کہ آخر ایک ہی شہر میں ایک ہی روڈ کے فاصلہ پر ماحول میں اتنا فرق کیوں؟
کیا اسکی وجہ کنٹونمنٹ بورڈ ایریا اور کارپوریشن کے ایریا میں رہنے والی عوام کا شعوراور آگاہی ہے یا انتظامیہ کی کارکردگی میں کمی ہے کہ کارپوریشن کے اطراف میں ہی تجاوزات کی اتنی بھرمار ہے کہ کارپوریشن آفس کی بلڈنگ بھی بمشکل نظر آتی ہے.
پچھلے کئ مہینوں سے تجاوزات کے خلاف آپریشن جس طرح زور و شور سے جاری ہے اس کے ثمرات آخر کیوں نظر نہیں آرہے.
کنٹونمنٹ بورڈ کے ایریا میں کسی کی جرت تک نہیں کہ غلط پارکنگ کرے جبکہ شہر کے بیچ و بیچ کارپوریشن کی بلڈنگ اور تمام دفاتر اور عملہ کی موجودگی کے باوجود مسائل جوں کہ توں ہیں.
شہر میں سیوریج اور صفائی کے انتظامات میں پہلے سے بہت بہتری دیکھنے کو تو ملتی ہے لیکن بنیادی مسائل تجاوزات کی صورت میں ابھی بھی حل طلب ہیں جن کے لیے منظم اورپری پلانڈ آپریشن کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اس امر کو تسلسل سے جاری رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ڈیلی صفائی اور سیوریج کے مسائل.
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ نئے آنے والے چیف آفیسر خالقداد گاڑا نے وسائل کی کم دستیابی کے باوجود اپنی صلاحیت کے جوہر منوائے ہیں لیکن اگر کارپوریشن کو مزید فعال اور وسائل کی دستیابی کو موثر بنایا جائے تو ہم اس خداداد صلاحیت کے مالک آفیسر سے اپنے شہر سرگودھا کو مزید مستفید کر سکتے ہیں اور سرگودھا میں موجود مافیا سے جاری اس جنگ میں انتظامیہ کو اپنے ہاتھ لمبے کرنے پڑیں گے اور ادارے کو سیاسی اثر رسوخ سے نکال کر عوام اور شہر کی بھلائی کے لیے بھرپور اقدامات کرنے کے لیے کوشاں ہونا پڑے گا صرف کسی خاص گلی محلہ یا علاقے کو نہیں بلکہ پورے شہر سرگودھا کو ترجیحی بنیادوں پر سنوارنے اور خوبصورت بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کرنا ہو گا ان میں سب سے پہلے کارپوریشن میں سٹاف اور عملہ کی جو کمی ہے اسے پورا کیا جائے کیونکہ آدھے سے زیادہ عملہ ان کاموں پر معمور ہے جو انکے کرنے کا نہیں ہے انتظامیہ اور حکومت کو مل کر اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے اور سینٹری سٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تجاوزات کے لیے الگ ٹیم منتخب دی جائے جو نا صرف مستقل بنیادوں پر اپنے فرائض انجام دے بلکہ نگرانی کے معاملات کو بھی دیکھے تاکہ جہاں سے تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا ہو وہاں دوبارہ تجاوزات نا کیے جائیں اور اس امر کو آسان اور تیز بنانے کے لیے کارپوریشن عملہ کو جو مشینری کی کمی کا سامنہ ہے اسے بھی زیر غور لایا جائے
امید ہے کمشنر سرگودھا اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا بھی کارپوریشن کو درپیش مسائل سے بھرپور واقف ہوں گے اور انتظامیہ کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے انہیں تمام وسائل کی دستیابی فراہم کرنے میں کوئی کثر اٹھا نہیں رکھیں گے اور دیکھنا یہ ہے کہ چیف آفیسر خالقداد گاڑا اب اپنے آس پاس منڈلاتے تجاوزات کے اس خطرے سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں اور سول ہسپتال نوری گیٹ کمپنی باغ حامد علی شاہ روڈ پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والے پٹھانوں کے ٹھیلوں سے کیسے جان چھڑائیں گے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button