کالم و مضامین

‎“وہ جو مجرم ہیں ، انہیں اہل عدالت دیکھوں “

‎اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے جو کارنامے دکھائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک یہ تاثر ہے کہ بعض فیصلے بیرونی ممالک بالخصوص امریکا اور مغرب کو خوش کرنے کیلئے کئے جاتے ہیں ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں ایک مسجد کو گرائے جانے کے حکم کے خلاف شدید روعمل سامنے آرہا ہے ۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ریٹائرمنٹ کے قریب آکر اس طرح کے فیصلے مغرب کی نگاہوں میں پسندیدہ بننے کیلئے کئے جارہے ہیں ۔ بالکل ویسے جیسے سابق چیف جسٹس کھوسہ نے آسیہ مسیح کو بری کرکے بیرون ملک مفادات سمیٹے ۔ اس فیصلے پر “ ایک پیج “نے عالمی سطح پر خوب کریڈٹ لیا ۔ تھوڑا پیچھے جائیں تو ممتاز قادری کیس میں جنرل راحیل شریف نے سپریم کورٹ کو نہ صرف فوری فیصلہ کرنے کا کہا بلکہ ججوں کو سکیورٹی سمیت ہر طرح کے تعاون کی یقین دھانی بھی کرائی ۔ اگرچہ ممتاز قادری کو پھانسی دئیے جانے کے بعد یہ بات سرگوشیوں کی صورت میں سامنے آگئی تھی کہ عدالت کو ” راستہ “ کس نے دکھایا مگر بعد میں جسٹس کھوسہ نے خود جنرل راحیل شریف کا نام لے کر معاملہ ہی واضح کردیا ۔ آئین اور قانون کے مطابق آرمی چیف کا عدالتی معاملات سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ آخر وہ کوئی تو تھا جس نے پاکستان کا اندرونی پاور سٹرکچر جانتے ہوئے جنرل راحیل شریف کو ایسا کرنے کیلئے کہا ۔ سیاست میں غیر جمہوری طاقتوں کی مداخلت اور قانون کی پامالی کا یہ کھیل قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی شروع ہوگیا تھا ۔ جسٹسں منیر سے شروع ہونے والی یہ واردات جسٹس ثاقب نثار کے بعد بھی جاری ہے ۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ججوں کے احتساب کا بھی کوئی نظام موجود ہی نہیں ۔ صرف وہ جج زیر عتاب آتے ہیں جو ملک پر مسلط طاقتور گروہ کے اشاروں پر ناچنے کی بجائے دیانتداری کے ساتھ قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دی جانے والی پھانسی کی سزا ہماری عدالتی تاریخ کا ایسا سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا ۔ آئین کو بوٹوں تلے روند کر اقتدار پر شب خون مارنے والے جنرل ضیا الحق کے ایما پر اس وقت کے جج کیا گل کھلاتے رہے ؟ اس کا جائزہ لے کر بخوبی جانا جاسکتا ہے کہ ملک کے مقبول ترین سیاستدان اور عالمی سطح کے مدبر کو پھانسی دینے کیلئے کس بے رحمی سے ججوں کو استعمال کیا گیا ۔ موت کی کوٹھری سے بھٹو نے اس وقت کے چیف جسٹس انوار الحق کو ایک خط لکھا جس کا مکمل متن سابق وزیر اعظم کی کتاب “ افواہ اور حقیت میں موجود ہے۔ خط میں کہا گیا کہ‎جناب “‎ لاہور ہائی کورٹ نے مجھے جو سزائے موت اور سزائے قید دی ہے۔ اس کے خلاف میری اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان میں، جس کے آپ چیف جسٹس ہیں۔ زیر غورہے۔ درخواست بہت سادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ 20 مئی 1978ءکو جب میری اپیل سماعت کےلئے آئے تو آپ بنچ کی سربراہی نہ کریں۔ میری اس درخواست کی وجوہ درج ذیل ہیں:‎۔ آپ نے آئین میں چھٹی ترمیم پر ناراضگی کا اظہار کیا تھاجسے پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔ اسی ترمیم کے مطابق آپ کے پیشرو کے عہدہ کی میعاد میں توسیع ہوئی جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر آپ کی ترقی میں تاخیر ہوئی۔ آئین میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے آئین میں یہ ترمیم کی گئی اور قائد ایوان کی حیثیت سے میں اس ترمیم کا ذمہ دار تھا۔ آپ اب بھی آئین کو اس سرزمین کا اعلیٰ ترین قانون قرار دیتے ہیں۔ تاہم آپ اپنے اس بیان کی تردید اپنے اس فیصلے میں کر دیتے ہیں کہ ایک فرد واحد جسے عوام کی طرف سے کوئی اختیار نہ ہو، اپنی مرضی کے مطابق آئین میں ترمیم کر سکتا ہے۔ آپ نے اسے (جنرل ضیاءکو) یہ اختیار دے دیا ہے کہ آئین کی شکل مکمل طور پر تبدیل کر دے بلکہ اسے کھرچ ڈالے، اسے ختم کر دے۔ یہ آپ ہی ہیں جنہوں نے اسے انتہائی آمرانہ طورپر غیر معینہ عرصہ کےلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوئے بغیر ملک پر حکمرانی کرنے کی سند دی ہے۔ آپ نے اس شخص کو اس لئے یہ اختیار دینا ضروری سمجھا تا کہ وہ آئین کی چھٹی ترمیم کو اگلے روز منسوخ کر دے جب آپ کے پیشرونے سپریم کورٹ کی سربراہی کرتے ہوئے جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا کو چیلنج کرنے کی بیگم نصرت بھٹو کی پٹیشن کو سماعت کیلئے منظور کیا تھا۔ اس آئینی ترمیم کی منسوخی نے اسے یہ اختیار دیا کہ وہ انتہائی مکروہ طریقے سے آپ کے پیشرو مسٹر جسٹس محمد یعقوب علی کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے ہٹا دے اور ان کی جگہ آپ کا تقرر کر دے۔ آپ نے چیف جسٹس کا عہدہ سنھبالنے کے فوراََ بعد اس بنچ کے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا جو چار روز قبل اسی بنچ نے مسٹر جسٹس یعقوب علی کی صدارت میں دیا تھا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ملک کی مختلف جیلوں سے نکال کر پٹیشن کی سماعت کےلئے راولپنڈی لایا جائے۔‎۔ آپ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے، سپریم کورٹ کے ججوں نے نیا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا جو آئین کو معطل کر دینے والے نے تیار کیا تھا۔ لیکن آپ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے فوراََ بعد سپریم کورٹ کے تمام ججوں نے نیا حلف اٹھانے پر رضا مندی ظاہر کر دی جس کا حکم جنرل ضیاءالحق نے دیا تھا۔ ‎ آپ کے تقرر پر جو ریفرنس منعقد کیا گیا اس میں آپ نے میرے دور حکومت میں ہونےوالی آئینی ترامیم پر میری انتظامیہ کو ہدف تنقید بنانا ضروری سمجھا۔ اس سے میرے خلاف آپ کی شدید ناراضگی عیاں ہو جاتی ہے۔ آپ نے ضیاءالحق کیلئے اپنی شکر گزاری کا اظہار کیا۔ بیگم نصرت بھٹو کی پٹیشن پر آپ نے فیصلہ دے کر جنرل ضیاءکی طرف سے اپنی تقرر پر سپاس گزاری کا کھل کر اظہار کیا ہے اور یہ فیصلہ درحقیقت وہ معاوضہ ہے جو آپ نے جنرل ضیاءکو دیا۔ اس فیصلے کی رو سے جنرل ضیاءکو قوم کا محافظ، اس کے مارشل لاءاور فوجی بغاوت کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیا گیا ۔خط میں چوتھی جیورسٹس کانفرنس کے موقع پر جس کا افتتاح جنرل ضیاءالحق نے کیا تھا، آپ نے اپنے صدارتی خطبہ میں میری حکومت پر نکتہ چینی کرنا مناسب سمجھا۔کراچی میں بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے سرعام اور انتہائی سخت الفاظ میں میری حکومت اور میری پارٹی پر تنقید کی۔ آپ وکیلوں کو ہدایت کرنے میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ آپ نے ان سے کہا کہ وہ لوگوں کو ”تعلیم“ دیں تا کہ آئندہ وہ میرے اور میرے ساتھیوں جیسے افراد کو اقتدار میں نہ لائیں۔ )‎ آپ اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس مشتاق حسین بہت برسوں سے ایک دوسرے کے بے حد قریب ہیں اور آپ دونوں ہی بڑھ چڑھ کر مارشل لاءحکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس بارے میں دور آرا نہیں ہو سکتیں۔‎۔آپ نے اس وقت جبکہ میری اپیل سپریم کورٹ میں زیر غور ہے، جنرل ضیاءکی اس پیش کش کو قبول کرنے میں ذرہ برابر تردو نہیں کیا کہ وہ اپنی عدم موجودگی میں آپ کو پاکستان کا قائم مقام صدر مقرر کر دے گا۔ ہائی کورٹ نے مجھ پر جس طرح مقدمہ چلایا ہے، جنرل ضیاءالحق نے اسے منصفانہ اور جائز قرار دیا ہے۔ اس نے اس وقت مجھے ”قاتل“ کہا تھا جب میرا مقدمہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا۔میں آپ کو یہ خط لکھنے پر اس لئے مجبور ہوا ہوں کہ ابھی تک ایک بھی ایسی علامت سامنے نہیں آئی جس سے معلوم ہو کہ آپ میرے مقدمے سے متعلق اپیل کی سماعت سے خود کو علیحدہ رکھیں گے “۔اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں بھی دادا گیری کی گئی ۔ وہاں چیف جسٹس مولوی مشتاق کو بنایا گیا جو اپنی ترقی نہ ہونے پر بھٹو سے سخت ناراض تھا ۔ اس کو یہ عہدہ مارشل لا لگنے کے بعد دیا گیا ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر بھی بنا دیا گیا ۔ چیف جسٹس مولوی مشتاق نے پہلے ہی ایک موقع پر کہہ رکھا تھا کہ اس شخص “ بھٹو “ کو ہٹا دیا جانا چاہئے ۔ آئینی اور جمہوری طریقوں سے نہیں بلکہ اسکے سر میں گولی مار کر۔ جسٹس انوار الحق اور جسٹس مولوی مشتاق کے خیالات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح سے آئین روندنے والے جنرل کے ہاتھوں استعمال ہوکر بھٹو کا عدالتی قتل کرکے اپنا حال اور مستقبل “ روشن “رکھنے کی کوشش کررہے تھے ۔ جنرل مشرف کے دور میں بھی ایسے ہی حالات رہے ۔ چیف جسٹس ارشاد حسن اور دیگر بخوبی “ خدمات “ سرانجام دیتے رہے ۔ منظر اس وقت بھی زیادہ مختلف نہیں۔ معروف وکیل حامد خان نے اپنی کتاب میں عدلیہ کے ایسے ہی کرداروں کی بدکرداری بیان کی ہے۔ اب تصور کریں کہ عدالتوں کے ہاتھوں اقتدار سے بے دخل ہونے والے نواز شریف اگر بیرونی ممالک سے رابطے اور مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک سے باہر نہ جاتے تو جیل میں ان کے ساتھ کیا ہوتا ۔ ہماری عدالتی تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ سیاسی مقدمات کو صرف قانونی طریقے سے نہ لڑا جائے بلکہ سڑکوں پر قوت کا مظاہرہ بھی کیا جائے ۔ کسی بھی موقع پر دکھائی گئی کمزوری حملہ آور قوتوں کو مزید بے رحمی سے وار کرنے کا ذریعہ بن جائے گی ۔ وکلا رہنماوں کا کہنا ہے غیر جمہوری قوتوں کا مہرہ بن کر ملک کو موجودہ حالات میں پہنچانے میں عدلیہ برابر کی قصور وار ہے ۔ تاہم اس کے پاس یہ موقع بھی ہے کہ آئین اور قانون کی سربلندی کو مقدم رکھتے ہوئے بغیر کسی خوف کے اپنا اصل کام کرے تو اپنے ہر طرح کے فیصلوں کو منوا بھی سکتی ہے، ان پر عمل در آمد کرا سکتی ہے۔ صرف بار کونسلیں ہی نہیں ، سیاسی جماعتیں ، سول سوسائٹی ،پروفیشنلز سمیت ہر طرح کے شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور عوام کی بھاری اکثریت بھی ساتھ دے گی ۔یہ لازمی تو نہیں کہ پاکستان میں بھی کسی حقیقی تبدیلی کیلئے ترکی یا بنگلہ دیش والے واقعات دہرائے جائیں ۔ اعلیٰ عدلیہ کے آدھے ارکان بھی اپنے ضمیر کے مطابق آزادی سے کام کرنا شروع کردیں تو پاکستان میں ہر قسم کے قبضہ گروپوں کا تیزی سے زوال شروع ہو جائے گا ۔ جنرل مشرف کے دور کی طرح ججوں کو گرفتار یا نظر بند نہیں کیا جاسکتا ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرح اب کسی اور آزاد جج کو ملازمت سے نکالنا بھی آسان نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ اپنے پالتو میڈیا کے ذریعے کردار کشی کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسا وار بھی الٹا ہی پڑے گا۔ عدلیہ سے کوئی خاص امید تو نہیں مگر خواہش ضرور ہے کہ کسی بڑی عوامی تحریک یا بڑے نقصان سے پہلے ہی ملک کو آئین کے مطابق چلانے کا کوئی راستہ نکل آئے – اور پھر کسی شاعر کو فراز کی طرح یہ نہ کہنا پڑے ‎وہ جو قاتل تھے وہ عیسٰی نفسی بیچتے ہیں‎وہ جو مجرم ہیں انہیں اہلِ عدالت دیکھوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button