کالم و مضامین

‎” مطالعہ افغانستان “ سے باز رہیں

‎ہمارے ہاں تو تبدیلی کے نام پر بے ڈھنگے مسخرے تھوپ دئیے گئے ہیں مگر ہمارے پڑوس میں بننے والا نیا افغانستان آنے والے دنوں میں جو منظر پیش کرنے والا ہے وہ شاید ہمارے لئے زیادہ حیرانیاں لائے گا ۔ ہم نے ایک عرصے سے وتیرا اپنا رکھا ہے کہ اپنی فرضی کامیابیوں پر خود ہی جشن مناتے رہتے ہیں ۔ اور ہر واقعہ کو اپنی فتح قرار دیتے ہیں ۔ امریکہ ، افغانستان سے جانے لگا تو ہم نے بلند آواز میں باربار کہا ایسا کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی ۔ امریکہ نے بہر حال اپنی مرضی ہی کرنی تھی جیسے ہی اس کی افواج نے واپسی اختیار کی ہماری جانب سے کہا گیا کہ افغان عوام نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہے ۔ کابل کے سرینا ہوٹل میں چائے نوش فرمانے کی تصویر جاری کرکے تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اصل فاتح ہم ہیں ۔ ابھی جمعہ ، جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے خواب ٹوٹتے نظر آنے لگے ہیں۔ سرحد پر باڑ کا تنازعہ سامنے آیا تو خبریں اور ویڈیوز عالمی میڈیا کی زینت بنیں ۔ ہماری جانب سے حیرت انگیز طور پر خاموشی اختیار کی گئی ۔ ایک موقع پر ذرائع کے حوالے سے کچھ خبریں چلوائی گئیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا صحافیوں سے سامنا ہوا تو انہوں نے یہ کہہ کر جھگڑے کی تصدیق کردی کہ معاملہ سفارتی طور پر حل کرلیا جائے گا۔اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر ایک وقفے کے بعد میڈیا بریفنگ کیلئے آئے تو ان کا بنیادی موضوع افغانستان تھا مگر ملک کی مخصوص صورتحال کے سبب ملکی میڈیا میں نواز شریف سے ڈیل کی تردید والا بیان زیادہ اچھالا گیا ۔ اس بریفنگ میں فوجی ترجمان نے واضح کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا 94 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے باقی 6 فیصد کام بھی ہر صورت میں مکمل کیا جائےگا ۔ پاک فوج کے اس بیان کے جواب میں افغان فوج کے سربراہ قاری فصیح الدین نے پاکستان سے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر مزید باڑ نہ لگائے۔ہرات میں فوجیوں کی ایک تقریب سے خطاب کے بعد انہوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ کا جتنا کام ہوا ہے اسکو وہاں روکا جائے۔ اس طرح پوری دنیا کو علم ہوگیا کہ اس باڑ کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سب کچھ درست نہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا اس معاملے کی عکاسی کس طرح کررہا ہے اس کی جھلک عالمی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے اس خلاصے میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے ”کابل میں افغان طالبان کی حکومت نے سرحدی تنازع پر پاکستان سے تصادم کاخطرہ مول لیا ہے حالانکہ پاکستان افغان طالبان کا حامی رہاہے لیکن سرحدی باڑ لگانے پرتنازع شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ گزشتہ اگست میں پاکستان نے کابل میں طالبان کے برسراقتدار آنے کا جشن منایاتھا کیونکہ طالبان کی اشرف غنی انتظامیہ کےخلاف کامیابی خود پاکستان کی خطے میں اپنی اسٹریٹجک کامیابی تھی۔ کابل میں عرصہ بعد ایک اسلام آباد نواز حکومت برسراقتدار آئی تھی جہاں بھارت کا اپنا کردار محدود ہوچلا تھا لیکن حالیہ دنوں میں تبدیل ہوتی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے پاکستان کیلئے سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے۔ پاک فوج نے افغانستان سے عسکریت پسندوں کی دراندازی روکنے کے لئے غیر مستقل سرحد ڈیورنڈ لائن پر 2014ءمیں باڑ لگانے کا کام شروع کیا۔ 19دسمبر کو طالبان نے صوبہ ننگرہار میں لگائی جانے والی سرحدی باڑ اکھاڑ دی اور تار قبضہ میں لے کر اور پاکستان کو مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے سے روک دیا جس پر طرفین میں تصادم بھی ہوا۔ افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو باڑکھڑی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے “ ۔ اس صورتحال سے یہ تو طے ہوگیا کہ دونوں ممالک کے درمیان چند امور ایسے ہیں جنہیں طے کرنا ضروری ہے ورنہ پھر سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔ بنیادی بات یہی ہے کہ افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ کہنے اور سمجھنے جیسے خیالات پر لکیر پھیر دی جانی چاہیے ۔ وہاں طالبان ہوں یا کوئی اور حکومت جب تک افغانستان کو مکمل طور پر خود مختار ریاست سمجھ کر تعلقات قائم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی معاملات درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکتے ۔5 اگست 2019 میں مسئلہ کشمیر ”حل “ ہونے کے بعد بھارت کے ساتھ جنگ ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں ۔ اسی طرح افغان بارڈر پر بھی ایسا بندوبست کرنا ہوگا کہ مستقبل میں کسی قسم کے مسلح تصادم سے بچا جاسکے ۔سب سے پہلے تو اس خام خیالی کو دماغوں سے جھٹک دینا ہوگا کہ ماضی میں یا اب افغانستان کے اندر مختلف اوقات میں فریقین کی فتوحات میں ہمارا کوئی فیصلہ کن کردار تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ عالمی و علاقائی حوالے سے جو کردار ہمیں سونپے گئے وہی ادا کیے گئے ۔ 1979 میں سپر پاور سوویت یونین کے افغانستان داخلے کے بعد امریکہ ، یورپ ، اسکے اتحادی عرب ممالک حتی کہ چین کو ملا کر سوویت یونین کی مہیب فوجی طاقت کو محدود کرنے کیلئے اس عالمی بلاک کا متحرک حصہ بن جائیں ۔ تاریخ کا دھارا موڑنے والے اس معرکے میں پاکستان سے جو کام لیا جانا تھا اسکی تعمیل جنرل ضیا الحق نے بالکل اسی طرح سے کی جیسی بعد میں جنرل مشرف نے 2002 میں افغانستان پر امریکی اور اتحادی حملے کے بعد پورا ملک کھول کر کی تھی۔ اور اپنی بے چار گی کا اظہار یہ کہہ کر کیا تھا کہ وہ ایسا نہ کرتے تو ایٹمی اثاثے اور کشمیر کاز خطرے میں پڑ جاتے ۔ جنرل ضیا کو بھی یہی معاملہ درپیش تھا ان کی جگہ ایوب ، یحییٰ یا موجودہ قیادت ہوتی تو فیصلہ مختلف نہ ہوتا ۔ سوویت یونین کے ساتھ افغان سرزمین پر فیصلہ کن لڑائی امریکہ اور یورپ نے اپنی بہترین جنگی پلاننگ ، جدید ترین اسلحے اور دنیا بھر سے جنگجو اکٹھے کرکے لڑی ۔ یہ مقابلہ ممکن بھی ایسے ہی تھا کیونکہ سوویت یونین کے فوجیوں سے ہٹلر جیسا لیڈر بھی خائف تھا ۔ اس نے جنگ عظیم کے دوران کہا تھا کہ یہ روسی فوجی تو بالکل بھیڑیوں کی طرح سخت جان ہیں اور انہی کی طرح سفاکی سے لڑتے ہیں ۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ پوری دنیا کو مل کر لڑنا پڑی ۔ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں سارا کریڈٹ وہ لے رہے ہیں جو محض سہولت کار تھے ۔ جنرل اختر عبدالرحمن کے ورثا نے تو ” فاتح “ کے ٹائٹل سے ایک کتاب شائع کراکے خوب تقسیم کرائی ۔ یقیناً یہ دعوی درست نہ تھا سو آج یہ کتاب ردی کی نذر ہوکر رہ گئی ۔ جنرل اختر عبدالرحمن کی وجہ شہرت صرف یہی ہے کہ ان کا خاندان دیکھتے ہی دیکھتے کھرب پتی ہوگیا ۔ ناقدین کی اکثریت اسے افغان جہاد کا ” ثمر “ قرار دیتی ہے ۔ اسی طرح ہمارے ایک اور لیجنڈ جنرل حمید گل کا بھی افغان جہاد کے حوالے سے بہت نام ہے ۔ یہ وہی حمید گل ہیں کہ جب فروری 1989 میں افغانستان سے سوویت فوج کا انخلا مکمل ہوا تو امریکی سی آئی اے کا اندازہ تھا کہ نجیب اللہ حکومت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں ختم ہوجائے گی۔ لیکن جنرل حمید گل کی خواہش تھی کہ 6 مہینے بھی کیوں؟ چنانچہ انھوں نے بینظیر حکومت کو بریفنگ دی کہ گذشتہ دس برس میں مجاہدین اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ اب وہ کسی بھی بڑے افغان شہر پر آسانی سے قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو نجیب اللہ کے فوجی دستوں کا مورال تیزی سے ختم ہوجائے گا اور پھر ایک کے بعد ایک شہر مجاہدین کے آگے ڈھیر ہوتا چلا جائے گا۔چنانچہ عسکری ماہرین کی رہنمائی میں عبدالرسول سیاف اور گلبدین حکمت یار کی متوازی حکومت قائم کروانے کیلئے مارچ 1989 میں دس ہزار مجاہدین نے جلال آباد چھیننے کیلئے یلغار کردی۔ اگلے ڈھائی ماہ کے دوران تین ہزار مجاہدین کی جانیں گئیں۔ دس سے پندرہ ہزار سویلین ہلاک اور ایک لاکھ کے لگ بھگ دربدر ہوئے مگر جلال آباد پر قبضہ نہ ہوسکا۔ چنانچہ مئی میں جنرل حمید گل سے آئی ایس آئی کا چارج لے کر ملتان کا کور کمانڈر بنا دیا گیا۔ جلال آباد مہم کی ناکامی نے افغان فوج کا مورال آسمان پر پہنچا دیا اور نجیب اللہ اگلے تین برس تک اقتدار میں رہے۔ تاریخی حقیت یہ بھی کہ جب ہم اپنے تئیں سوویت یونین کو افغانستان میں مزہ چکھا رہے تھے ۔ اسی جہاد کے عروج میں انڈیا نے سیاچن پر کام ڈال دیا۔ 1984 میں شروع ہونے والی یہ مسلح کشمکش 2003 میں سیز فائر معاہدہ کرکے کسی حد تک کنٹرول کی جاسکی ۔ عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ” مطالعہ پاکستان “ کی طرز پر خوامخواہ کا “مطالعہ افغانستان “ گھڑنے کی کوشش نہ جائے ۔ افغانستان کے معاملے پر ہماری اپنی فکری کنفیوژن اس حد تک مضحکہ خیز ہے کہ ایک “ مسیحا “ کہتا ہے کہ ضیا دور والا جہاد درست تھا ، دوسرے کو سنیں تو مشرف دور کی کارروائی کو حق قرار دیتا ہے ، پھر تیسری رائے سامنے آتی ہے کہ وہ دونوں کی غلطی تھے ، پاکستان کو بکھیڑے میں ڈال گئے۔ سابق کورکمانڈر منگلا جنرل طارق خان جو جمہوریت اور آئین کے حوالے سے متنازعہ ریمارکس دیتے نہیں چونکتے ۔ اب اس مسئلے پر بھی لب کشائی کررہے ہیں ۔ ایک ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ہم نے افغان طالبان کی مدد کرکے صحیح کام نہیں کیا ۔ افغان طالبان کے امریکہ اور یورپ کے ساتھ معاملات جیسے ہی درست ہوئے وہ ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ کھڑا کردیں گے ۔ پاکستان کی جانب سے لگائی جانے والی باڑ کو بھی نشانہ بنائیں گے ۔ جنرل طارق نے تجویز دی ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے ۔ وہ یہ بات پتہ نہیں کس کیفیت میں کر گئے ۔ سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاس افغانستان کے ساتھ تصادم کا آپشن موجود نہیں ۔ اللہ کرے ایسی نوبت ہی نہ آئے ۔ لیکن یہ طے ہے کہ طالبان حکومت جوں جوں مضبوط ہوتی جائے گی اس کے مطالبات میں بھی زور آتا جائے گا ۔سفارتی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت احتیاط کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا ۔ افغانستان ، افغان طالبان کا ملک ہے ، وہ بھی اپنے ملکی مفادات کا تحفظ بالکل ویسے ہی کریں گے جیسے پچھلی حکومتیں کرتی رہی ہیں ، داخلی ہی نہیں خارجہ پالیسی بھی مکمل آزاد ہوگی ، وہ ابھی سے یہ تاثر دے رہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی دوسرا ملک ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ ہمیں بھی اپنی توقعات اور لائحہ عمل کو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں پاکستان میں منتخب اور مضبوط جمہوری حکومت ہوتی تو زیادہ بہتر حل کی جانب بڑھا جاسکتا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button